نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کےلئےلکھا"مجھے بہت افسوس کےساتھ یہ فیصلہ کرناپڑرہاہے،کیونکہ میں آپ کی زندگی کی سب سے بڑی مشکل بن گیا ہوں،نہ مجھے آپ سے کوئی گلہ تھا،اورنہ ہوگا،بس اب یہ دکھ رہےگا کہ میں نےآپ کو اذیت دی ،اورزبردستی آپ کی زندگی میں شامل ہوگیا،مجھےسمجھ آگیا کہ میں بہت گندہ انسان ہوں،اوراچھا انسان مجھ جیسے گندے انسان کےساتھ رہے تو اس کو بھی گندا کردیتاہے،آج میں آپ کو اپنی زندگی سے آزاد کرتا ہوں،اگرمحبت اورایک دوسرے کوسمجھ کےزندگی نہ گزرےتوسمجھوتےسےزندگی گزارنا ایک رواج ہے زندگی نہیں۔
فلانۃ بنت فلان! میں فلان بن فلان آپ کواپنےنکاح سے آزاد کرکےطلاق دیتا ہوں۔
فلانۃ بنت فلان! میں فلان بن فلان آپ کواپنےنکاح سے آزاد کرکےطلاق دیتا ہوں۔
فلانۃ بنت فلان! میں فلان بن فلان آپ کواپنےنکاح سے آزاد کرکےطلاق دیتا ہوں"
شخص مذکور کےان الفاظ سےطلاق واقع ہوئی ہے یانہیں؟راہنمائی فرمائیں۔
بصورت مسئولہ شخص مذکور کااپنی بیوی کوتین دفعہ یہ الفاظ" فلانۃ بنت فلان! میں فلان بن فلان آپ کواپنےنکاح سے آزاد کرکےطلاق دیتا ہوں"لکھنےسے تینوں طلاقیں اس کی بیوی پرواقع ہوگئی ہیں،اوربیوی عدت(تین ماہواریاں)گزارنے کےبعد جہاں چاہےنکاح کرسکتی ہے،اوردونوں کےلئےبغیرحلالہ شرعیہ کےمیاں بیوی کی حیثیت سے رہناشرعا ناجائز ہے۔
قال الله تعالى:الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ} [البقرة: 229، 230]
وفي الرد المحتار:ولو قال حلال أيزدبروي أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال رها كردم أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الناس استعماله في الطلاق.
Mufti
تاریخ جواب: 15 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔