نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ ہم کچھ دوست و رشتہ دار احباب مل کر کچھ کاروبار کر رہے ہیں جن کی کل تعداد تقریباً 300 ہے اور اس بزنس کو ہینڈل کرنے والوں کی تعداد 40 کے لگ بھگ ہے اور ہمارا بزنس ای کامرس بزنس جس میں FBA whosale اس کے علاوہ E Bay اور Walmart ہے اس کے علاوہ اپنی ویب سائٹ ہیں جس پر آنلائن خریدوفروخت کی جاتی ہے اور مختلف سروسز پرووائیڈ کی جاتی ہیں ملتان کی حد تک اس میں ہم سب معاملہ مشارکہ اصولوں پر کرتے ہیں جو بھی ہمارا نفع ہو یا نقصان اس کو ہم برابری سطح پر تقسیم کرتے ہیں لیکن جو حضرات کاروبار ہینڈل کرتے ہیں ان کو کل پرافٹ کا 50 فیصد دیا جاتا ہے جو کہ ان کی اجرت کے طور پر باہم رضامندی کے ساتھ تمام حضرات دیتے ہیں.
وہ احباب جو ہمارا بزنس ہینڈل کرتے ہیں ان کی بزنس کو مینج (manage) کرنے کے لیے ہم پر کچھ شرائط ہیں جن میں سے یہ ہیں:
1-پرافٹ کا حساب ہر ماہ کی دس اور 15 تاریخ کو ہو گا۔
2-جب کوئی بھائی اس گروپ میں سے جانا چاہے اپنی رقم واپس لینا چاہے تو وہ چھ ماہ کے بعد رقم لے سکتا ہے۔
3-اور رقم لیتے وقت وہ ان حضرات کو یکم تاریخ کو اطلاع کرے گا جب کہ وہ بھائی 15 تاریخ تک رقم ان کو واپس کرنے کے پابند ہونگے۔
4-اس رقم کی کل پرافٹ میں سے جو بزنس کو ہینڈل کر رہے ہیں 50 فیصد وہ رکھیں گے اور باقی پرافٹ تمام احباب پر ان کی انوسٹمنٹ کی بقدر برابر تقسیم ہو گا.
عرض یہ تھی کہ کیا یہ کاروبار ان شرائط کے ساتھ درست ہے ، اور یوں آن لائن شراکت کے ساتھ کام کرنا کیا درست ہے؟مہربانی فرما کر شریعت کی رو سے راہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ شرکت میں نفع کی تقسیم میں برابری ضروری نہیں بلکہ یہ ہوسکتا ہے کہ ایک کا نفع دوسرے سے زیادہ ہو ،البتہ نقصان میں ہرایک شریک اپنے سرمایہ کے تناسب سے ضامن ہوگا۔
بصورتِ مسئولہ چونکہ کاروبار کی پوری اورواضح نوعیت سامنے نہیں ہے اس لئے اگر اصل کاروبار حرام اورناجائز نہیں ،تو پھر مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ آپس میں شراکت درست ہے،البتہ نقصان کی صورت میں سب برابر کے نہیں بلکہ ہرایک اپنے سرمایہ کے تناسب سے ضامن ہوگا۔
وفي بدائع الصنائع:ومنها أن يكون الربح معلوم القدر فإن كان مجهولا تفسد الشركة لأن الربح هو المعقود عليه وجهالته توجب فساد العقد كما في البيع والإجارة ومنها أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما فلا يتحقق الشركة في الربح((6/ 59)دارالكتاب العربي)
فيه ايضا: إذا عرف هذا فنقول إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال(6/ 62:دارالكتاب العربي)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔