سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-264 Fatwa no: 1447-264

سوسائٹی کی طرف سے کینسل شدہ فائل کو فروخت کرنے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں  کہ ایک آدمی نے مثلا کسی سوسائٹی سے ایک فائل خریدی ،لیکن کسی وجہ سے وہ اس معاملہ کو برقرار نہیں رکھ سکتا ،جس کی وجہ سے سوسائٹی والے اس کی فائل کینسل کردیتے ہیں،اس صورت میں فائل ہولڈر کے پا س دو صورتیں ہیں:۔
1-کہ فائل سوسائٹی والوں سے  ری فنڈ کردے،لیکن اس صورت میں مشکل یہ ہوتی  ہے،کہ ایک تو سوسائٹی والے تیس ،چالیس فیصد کٹوتی کرتے ہیں،اور دوسرا یہ کہ  پھر رقم کی ادائیگی میں  کافی تاخیر سے کام لیتے ہیں۔
2-کہ اس فائل کو مارکیٹ میں فروخت کردے،اس صورت میں مثلا اگر10لاکھ کی فائل  ،نو(9) یا ساڑھے نو(9)لاکھ میں فروخت ہوئی،تو فروخت کرنے والے کو ایک تو نقد رقم مل جاتی ہے،اوردوسرا ہوسکتا ہے،کہ  جوکٹوتی سوسائٹی والے کرتے ہیں،شائد اس سے کم پر فروخت کنندہ کا کام ہوجائے،اب دریافت طلب امریہ ہے کہ اس طرح کا کینسل شدہ فائلز کی خرید وفروخت شرعا جائز ہے،یا نہیں ؟وضاحت فرمائیں۔

جواب :

اصل سوال سمجھنے سے پہلے چند ضروری باتیں جاننا ضروری  ہیں،تاکہ اصل سوال  آسانی سے سمجھ میں آجائے:۔
1-جب دو افراد کے درمیان خرید وفروخت کا معاملہ مکمل ہوجاتا ہے،تو ایک فریق کا حق،مبیع(جو چیز فروخت کی گئی ہے) اور دوسرے فریق کا حق،ثمن(اس چیز کے عوض مثلا،رقم) میں  ثابت ہوتا ہے،پھر اگر مبیع اور ثمن کی مکمل ادائیگی کی گئی ہے،تو ہر ایک کا حق بھی  مکمل ثابت ہوگا،اور اگرمکمل نہیں  ہے،تو پھر بقدرِ ادائیگی  ہر ایک کا حق ثابت ہوگا۔
2-جس طرح کسی چیز کو یکبارگی  فروخت کرنا درست ہے،ایسا ہی  قسطوار فروخت کرنا بھی جائز ہے،تاہم اس میں ضروری ہے کہ مبیع کی  ایک قیمت  طے ہوجائے،اور قسطوں کی تاریخ متعین ہو۔
3-اگر قسطوار خرید وفروخت کی صورت میں  خریدار قسطوں کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے  کام لیتا ہے(جوکہ جائز نہیں  ،خاص کر جب  بلاوجہ ہو) تو اس کی وجہ سے جرمانہ وغیرہ وصول کرنا توجائز نہیں،تاہم مجبوری کی وجہ سے  معاملہ کو باہمی رضامندی سے ختم کیا جاسکتا ہے،البتہ اس صورت میں اگر فروخت کرنے والے کا کوئی حقیقی نقصان ہوا ہو، تو وہ کاٹ سکتا ہے،بصورتِ دیگر پوری رقم خریدار کو لٹانا ضروری ہوگا۔
4۔ پراپرٹی کےکاروبار میں" فائل"بذات خود کوئی مقصودی چیزنہیں،بلکہ یہ زمین کےایک خاص حصہ کی نمائندگی کرتی ہے،لہذا اگراس زمین کی خریدوفروخت شرعا درست ہو،توفائل کی خرید وفروخت درست ہوگی بصورتِ دیگرنہیں۔اس تمہید کےبعداصل مسئلہ ملاحظہ ہو۔
بصورتِ مسئولہ، فائل کی حیثیت مبیع کی ہےیعنی جو اس کی  پیچھے زمین ہے،جب  فائل کینسل کردی  گئی  ہے،تو  زمین کی بیع کینسل  ہوگئی ،اس لئے  اب  یہ زمین   سوسائٹی  کی ہے،جبکہ خریدارکو اس کی رقم واپس لوٹانی ہوگی۔
جہاں تک شخصِ مذکور کا بذاتِ خود فائل فروخت کرنے کا تعلق ہے،تو یہ جائز نہیں ،کیونکہ فائل اس کی  ہے ہی  نہیں  ،بلکہ سوسائٹی کی ہے(جیساکہ اوپر تمہید میں گزرا)اور اگرشخصِ مذکور سوسائٹی کی طرف سے وکیل بن کر فروخت کرتا ہے،پھر اس کی گنجائش تو  ہے،لیکن اس صورت میں سودا، سوسائٹی  والوں کےلئے ہوگا،نہ کہ شخصِ مذکور کےلئے۔بہرحال مذکورہ صورت میں فائل ہولڈر کےلئے کینسل شدہ فائل نہ  فروخت کرنا درست ہے اور نہ ہی خریدار کےلئے خریدنا جائز ہے،کیونکہ یہ فائل فروخت کرنے والا کی نہیں ،بلکہ سوسائٹی  کی ہے۔
في فقه البيوع:وقد تباع قطعة من الارض مقدرة بالخطوات او الامتار،ولكن يترك تعيينها للمستقبل.وهذا يكون عادة في ارض واسعة تشتريها شركة،ثم تبيع قطعاتها لعامة الناس تقدر بالخطوات اوالامتار،فمثلا كل قطعة منها بقدر خمسائة متر،ولكن لايتعين محل تلك الخمسمائة عند الشرا‘.وإنما يتعين حسب التصميم الذي تعلمه الشركة فيما بعد.فالسوال:هل يصح هذا البيع على انه بيع حصة مشاعة من تلك الارض الواسعة؟وهل يجوزلمن يشتريها ان يبيعها إلى الاخر؟
وتخرج هذه المسئلة على ما ذكره الفقهاء الحنفية من ان باع عشرة اذرع غير معينة من دار،فان هذاالبيع فاسد عندابي حنيفة رحمه الله،لجهالة القدرالمبيع...وقال صاحباه يجوز ذلك على أساس انه بيع لحصة مشاعة من الدار وبيع المشاع جائز.
وعلى هذا فان بيع قطعة غير معينة من جملة القطعات لا يجوز عند الامام ابي حنيفةرحمه الله ويجوز عند صاحبيه،والظاهر انه ان كانت جهالة التعيين تفضي الى المنازعة فاالاخذ بقول الامام ابي حنيفة رحمه الله،وان لم تكن مفضية الى المنازعة فقول الصاحبين اولى بالاخذ.(بيع قطعة غيرمعينة:1/376:معارف القران)

وفی البحرالرائق:قوله :( صح بيع العقارقبل قبضه ) أي عند أبي حنيفة وأبي يوسف ، وقال محمد لا يجوز لإطلاق الحديث ، وهو النهي عن بيع ما لم يقبض، وقياسا على المنقول وعلى الإجارة ، ولهما أن ركن البيع صدر من أهله في محله ولا غرر فيه لأن الهلاك في العقارنادر بخلاف المنقول ، والغرر المنهي غرر انفساخ العقد ، والحديث معلول به عملا بدلائل الجواز‘‘۔(کتاب البیوع(ﻓَﺼْﻞٌ) ﻓِﻲ ﺑَﻴَﺎﻥِ اﻟﺘَّﺼَﺮُّﻑِ ﻓِﻲ اﻟْﻤَﺒِﻴﻊِ ﻭَاﻟﺜَّﻤَﻦِ ﻗَﺒْﻞَ ﻗَﺒْﻀِﻪِ:6/126:دارالكتاب العربي)
وفی بدائع الصنائع :( وأما ) بيع المشتري العقار قبل القبض فجائز عنه عند أبي حنيفة ، وأبي يوسف استحسانا‘‘۔(ج:5 ،ص: 181، ط: دارالکتب العلمية)
وفي شرح المجلة للاحكام  العدلية:للمشتري أن يبيع المبيع لآخر قبل قبضه إن كان عقارا وإلا فلا ( باب البيوع المادة 235، ج:1 ،ص: 104، ط:دارالکتب العلمية، بيروت)
في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (وفسد بيع عشرة اذرع من دار لا اسهم) وهذا عند أبي حنيفة. وقالا: هو جائز كما لو باع عشرة أسهم من دار. ومبنى الخلاف في مؤدى التركيب، فعندهما شائع كأنه باع عشر مائة وبيع الشائع جائز اتفاقا، وعنده مؤداه قدر معين والجوانب مختلفة الجودة فتقع المنازعة في تعيين مكان العشرة فيفسد البيع، فلو اتفقوا على مؤداه لم يختلفوا(ط العلمية 5/ 486)
في الدر المختار مع رد المحتار: وحكمه: ثبوت الملك.(قوله: وحكمه: ثبوت الملك): أي في البدلين، وهذا حكمه الاصلي، والتابع.(506/4، ط: دار الفکر)

Mufti

تاریخ جواب: 15 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Mar 2026

واللہ اعلم بالصواب