سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-265 Fatwa no: 1447-265

شرکتِ فاسدہ کی ایک صورت کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میرے پاس ایک آدمی آیا،اس نے کہا کہ میں نے KFC میں ایک پراجیکٹ پر کام شروع کیا ہے،جو تکمیل کے قریب ہے،اس کے بعد مجھے KFCسے رقم ملےگی،لیکن فی الحال مجھے اس میں 25لاکھ روپے کا مزید کام کرنا ہے،لہذا آپ مجھے 25لاکھ روپےدیدے،میں ایک مہینہ بعد کل رقم بمع15-20 فیصد نفع آپ کو واپس کرونگا،اس پر ہماری بات طے ہوئی،ایک مہینہ بعد میں نے رابطہ کیا،لیکن اس نے کوئی مثبت جواب نہ دیا بلکہ حیلے بہانے بنانےلگا،بالآخر ایک سال بعد تھوڑا تھوڑا کرکے اس نے رقم لوٹادی
جواب :

واضح رہے کہ شرکت کی من  جملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ نفع   کا تعین راس المال کی بنیاد پر نہ ہو ،بلکہ اس کا تعین حقیقی نفع  کی بنیاد پر ہو مثلا:اگرایک آدمی دوسرے آدمی کو ایک لاکھ روپے دیتا ہے،اور شرط یہ لگاتا ہے کہ  ایک ماہ بعد مجھے اس کا دس فیصد یعنی دس ہزار بطورِ نفع دینگے،یہ عقد شرعا جائز نہیں  ،ہاں اگر یہ طے کیا جائے کہ ایک مہینہ میں جتنا نفع ہوگا،اس کا دس فیصد میرا ہوگا،تو یہ معاملہ شرعا درست ہے۔
بصورتِ مسئولہ آپ دونوں کا بنیادی عقدہی  درست نہیں  تھا،بلکہ  فاسد تھا،(کیونکہ اس میں نفع  راس المال کی بنیاد پر طے تھا)لہذا آئیندہ کےلئے  کسی بھی معاملہ شروع کرنے سے پہلے اس کی شرعی  حیثیث معلوم کرنے کی کوشش کریں۔
باقی جہاں تک تعلق ہے،شخصِ مذکور کا آپ کی رقم کو آپ کو بتائے بغیراپنی  ضروریات میں استعمال کرنے کا،تو اس کےلئے ایسا کرنا شرعا بالکل ناجائز تھا،اس کی وجہ سے  وہ سخت گناہ گار ہوا ہے،اس کو توبہ اور استغفار کرناچاہئے،البتہ اگر آپ کی دی ہوئی رقم سےاس نے کچھ کمایا نہیں ،تو اس صورت میں  بطورِ نفع آپ کا اس سے دولاکھ روپے لینا درست نہیں،تاہم چونکہ  اس نے ایک سال تک آپ کی رقم  استعمال کی ہے،اس لئے اس کو بھی چاہئے کہ طیبِ نفس  یعنی اپنی خوشی سے کچھ رقم آپ کو ہدیہ کرے،تاکہ  وہ بھی اس گناہ سے بچ جائےاور آپ بھی۔
قال الله تعالى:{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ} [النساء: 29]
وفي سنن الكبرى :وقال النبي-صلى الله عليه وسلم-لايحل مال امرائ من اخيه الاما اعطاه من طيب نفس.  (كتاب الغصب:باب:لايملك احد بالجناية:6/160:ط:بيروت)
وفي بدائع الصنائع:ومنها أن يكون الربح معلوم القدر فإن كان مجهولا تفسد الشركة لأن الربح هو المعقود عليه وجهالته توجب فساد العقد كما في البيع والإجارة  ومنها أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما فلا يتحقق الشركة في الربح((6/ 59)دارالكتاب العربي)

Mufti

تاریخ جواب: 15 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Mar 2026

واللہ اعلم بالصواب