سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-266 Fatwa no: 1447-266

شرکتِ متناقصہ کی بنیاد پرسولر سسٹم لگانے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں سولر سسٹم لگانا چاہتا ہوں،لیکن میرے پاس مطلوبہ رقم موجود نہیں،اس لئے میں نے ایک کمپنی کے توسط سے یہ کام مکمل کرنا ہے،کمپنی کے ساتھ معاہدہ یہ ہوگا کہ میرے پاس جتنی رقم ہے،وہ میری طرف سے جبکہ باقی رقم کمپنی خرچ کرےگی،اس کے بعد سسٹم بجلی کے جتنے یونٹس بنائےگا،ان میں سے جو میرے سرمایہ  کے بقدر ہیں،وہ تو میرے ہونگے،لیکن اس کے علاوہ جو ہیں،ان کی ایک قیمت طے ہوگی،جس کی رقم مجھے کمپنی کو ادا کرنا ہوگی،باقی ماہانہ  اعتبار سے میں  کمپنی کے شیئرز خریدتا جاؤں گا،اس طریقے سے سسٹم میں میرا حصہ بڑھتا جائےگا،جبکہ کمپنی کا حصہ گھٹتا جائے گا،بالآخر پورا سسٹم  میرا ہوجائے گا۔اب سوال یہ پوچھنا ہے کہ کیا اس طرح کا عقد کرنا شرعا درست ہے یانہیں؟وضاحت فرمائیں۔

جواب :

مذکورہ عقد کو شریعت کی اصطلاح میں "شرکتِ متناقصہ "کہا جاتاہے،اور شرکتِ متناقصہ چونکہ  ہمہ وقت کئی عقود پر مشتمل  ہوتی ہے،اس لئے ان تمام عقود کا الگ الگ کرنا ضروری ہے،ایک عقد کو دوسرے عقد کے لئے شرط بنانا شرعا جائز نہیں ۔
بصورتِ مسئولہ  اگرآپ اورکمپنی کے درمیان صرف پہلا عقد (  شرکت) ہوجاتاہے،اور اسی عقد میں آپ کمپنی کی بجلی یونٹس خریدلینے،اور پھر آہستہ آہستہ  پلانٹ کے شیئرز خریدنے کا وعدہ کرتے ہیں،تو آپ اور کمپنی کا مذکورہ عقد درست ہے،اور یہ وعدہ پھر پورا کرنا لازمی بھی ہے۔لیکن اگر کمپنی  پہلے عقد یعنی عقدِ شرکت کےلئے باقی دو معاملات (بجلی یونٹس کی خریداری،اور پھر وقتا فوقتا  شیئرز کی خریدی) کی شرط لگاتی ہے،تو پھر مذکورہ عقد درست نہیں۔اس سے اجتناب ضروری ہے۔
في درر الحكام شرح مجلة الأحكام:يسوغ للشريكين أن يؤجرا مالهما المشترك لآخر معا . أي يجوز للشريكين , أو الشركاء أن يؤجروا مالهم من أجنبي بعقد واحد , أو أن يؤجر أحد الشركاء حصته من شركائه الآخرين معا .(1/ 396: المادة 431 :دارالكتب العلمية)
وفي معائير الشرعية:الشركة المتناقصة عبارة عن شركة يتعهد فيها أحد الشركاء بشراء حصة الأخر تدريجيا إلى أن يتملك المشتري المشروع بكامله.ولا بد أن تكون الشركة غير مشترط فيها البيع والشراء،وإنما يتعهد الشريك بذلك بوعد منفصل عن الشركة،وكذلك يقع البيع والشراء بعقد منفصل عن الشركة،ولا يجوز أن يشترط أحد العقدين في الأخر.(رقم المعيار:12:ص:345)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026