نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںجب کسی عقد میں ایک طرف سے سرمایہ ہواوردوسری طرف سے عمل،تو اس عقد کو شریعت کی اصطلاح میں مضاربۃ کہا جاتاہے،اور مضاربت کے من جملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ حقیقی نفع فیصد کے اعتبار سے طے ہو۔بصورت مسئولہ چونکہ آپ دونوں کےدرمیان طے شدہ معاملہ مضاربہ کا ہے،اورحقیقی نفع کی تقسیم بھی فیصد کے اعتبار سے ہے،اس لئے عقدِ مذکور شرعا جائز ہے۔تاہم مضارب کی طرف سے یہ شرط لگانا کہ دسمبر میں کوئی نفع نہیں ملےگا،اس وقت درست ہوگا،کہ جب دسمبر میں واقعتا اس کو کوئی نفع نہ ہوتا ہو،اگر نفع ہوتا ہوچاہے کم ہو یازیادہ اسی طے شدہ فیصد کے اعتبار سے تقسیم کرنا ضروری ہوگا،بصورتِ دیگر عقدِ مذکور کی صحت پر اثر پڑےگا۔
في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :
وأما ركن العقد فالإيجاب والقبول، وذلك بألفاظ تدل عليهما فالإيجاب هو لفظ المضاربة والمقارضة والمعاملة، وما يؤدي معاني هذه الألفاظ، بأن يقول رب المال: خذ هذا المال مضاربة، على أن ما رزق الله عز وجل أو أطعم الله تعالى منه من ربح، فهو بيننا على كذا من نصف أو ربع أو ثلث أو غير ذلك من الأجزاء المعلومة(6/ 79:دارالكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 16 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔