سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-267 Fatwa no: 1447-267

عقد مضاربۃکی ایک صورت کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے کہا کہ آپ مجھے تین لاکھ روپے دیدیں،میں ایمازون پر آئی فون کی خرید وفروخت کا کام کرونگا،اس میں جو نفع ہوگا،اس میں تقسیم یہ ہوگی کہ ہرلاکھ پر جو نفع آئےگا،اس نفع میں سے تیس فیصد تمہارا ہوگا،جبکہ ستر فیصد میرا ہوگا۔البتہ چونکہ دسمبر کے مہینے میں مغربی ممالک میں چھٹیاں ہوتی ہیں،اس لئے کام نہیں ہوتا،لہذا اس مہینےکا نفع بھی نہیں ملےگا۔اب دریافت طلب امریہ ہے،کہ کیا ہمارا یہ عقد مذکور شرعا درست ہے یا نہیں ؟وضاحت فرمائیں۔
جواب :

جب کسی عقد میں  ایک طرف سے سرمایہ ہواوردوسری طرف سے عمل،تو اس عقد کو شریعت کی  اصطلاح میں مضاربۃ  کہا جاتاہے،اور مضاربت کے من جملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ حقیقی نفع فیصد کے اعتبار سے طے ہو۔بصورت مسئولہ چونکہ آپ دونوں کےدرمیان  طے شدہ معاملہ مضاربہ کا ہے،اورحقیقی نفع کی تقسیم بھی فیصد کے اعتبار سے  ہے،اس لئے عقدِ مذکور شرعا جائز ہے۔تاہم مضارب کی طرف سے یہ شرط لگانا کہ دسمبر میں کوئی نفع نہیں ملےگا،اس وقت درست ہوگا،کہ جب دسمبر میں واقعتا اس کو کوئی نفع نہ ہوتا ہو،اگر نفع ہوتا ہوچاہے کم ہو یازیادہ  اسی طے شدہ فیصد کے اعتبار سے تقسیم کرنا ضروری ہوگا،بصورتِ دیگر عقدِ مذکور کی صحت پر اثر پڑےگا۔
في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :
وأما ركن العقد فالإيجاب والقبول، وذلك بألفاظ تدل عليهما فالإيجاب هو لفظ المضاربة والمقارضة والمعاملة، وما يؤدي معاني هذه الألفاظ، بأن يقول رب المال: خذ هذا المال مضاربة، على أن ما رزق الله عز وجل أو أطعم الله تعالى منه من ربح، فهو بيننا على كذا من نصف أو ربع أو ثلث أو غير ذلك من الأجزاء المعلومة(6/ 79:دارالكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب