نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںظاہر الرحمٰن اورخان طوطی ولدان رحیم اللہ نے اپنا پانچ مرلہ کھنڈرچار بھائیوں پر اس ترتیب سے فروخت کیا،کہ ظاہر رحمن نے اس کھنڈرمیں سے ڈھائی مرلہ اپنا حصہ محمداسلام اورشیرعثمان کو بیچا،اورطوطی نے اپنا ڈھائی مرحلہ حصہ محمد اسلام اور شیرعثمان کے دوسرے دو بھائی عبدالرفیع اورعبدالسمیع کو بیچا،بعد میں عبدالسمیع نے اس کھنڈر سے اپنا چوتھا حصہ اپنے بھائی محمد اسلام کو ہبہ کیا،اب پوچھنا یہ ہے،کہ یہ ہبہ شرعادرست ہے یانہیں؟نیز اب عبدالسمیع یا اس کے ورثاء کو اس ہبہ میں رجوع کا حق حاصل ہے یانہیں؟
تنقيح:1۔چاروں بهائيوں نےپلاٹ خريدا، پهر محمد اسلام نے ایک بھائی سےاس کا حصہ خریدا،جبکہ باقی دو بھائیوں عبدالسمیع اور شیرعثمان نے اپنا حصہ محمد اسلام کو ہبہ کیا،خریداری اورہبہ کا اسٹام پیپر موجود ہے۔
2۔اس پلاٹ پرگھر محمد اسلام نے خود بنایا۔
واضح رہے کہ کسی چیز کا ہبہ تب تام ہوتاہے،کہ جب اس چیز کو مکمل طور پراپنی ملکیت سے نکال کرموہوب لہ(جس کو ہبہ کیاگیاہے)کے قبضہ میں دے دیا جائے،قبضے میں دینے کا مطلب یہ ہے،کہ موہوب لہ بغیرکسی مانع کے اس چیز میں مالکانہ تصرف کرسکے۔
بصورتِ مسئولہ جب عبدالسمیع نے اپنا حصہ زبانی اورتحریری طور پر اپنے بھائی محمد اسلام کو ہبہ کیا،اور اس کو مالکانہ تصرف کا حق بھی دیا(کیونکہ محمد اسلام نے اس پر گھربنایا)تو یہ ہبہ تام ہوگیا ہے،لہذا اب عبدالسمیع یا اس کےکسی اوروارث کو اس میں مطالبہ کا حق حاصل نہیں۔
في بدائع الصنائع:(ومنها) القبض وهو أن يكون الموهوب مقبوضا وإن شئت رددت هذا الشرط إلى الموهوب له لأن القابض والمقبوض من الأسماء الإضافية والعلقة التي تدور عليها الإضافة من الجانبين هي القبض فيصح رده إلى كل واحد منهما في صناعة الترتيب فتأمل والكلام في هذا الشرط في موضعين في بيان أصل القبض أنه شرط أم لا؟ وفي بيان شرائط صحة القبض.(أما) الأول فقد اختلف فيه قال عامة العلماء شرط والموهوب قبل القبض على ملك الواهب يتصرف فيه كيف شاء وقال مالك - رحمه الله - ليس بشرط ويملكه الموهوب له من غير قبض.(وجه) قوله أن هذا عقد تبرع بتمليك العين فيفيد الملك قبل القبض كالوصية.(ولنا) إجماع الصحابة - رضي الله عنهم - وهو ما روينا أن سيدنا أبا بكر وسيدنا عمر - رضي الله عنهما - اعتبرا القسمة والقبض لجواز النحلى بحضرة الصحابة ولم ينقل أنه أنكر عليهما منكر فيكون إجماعا وروي عن سيدنا أبي بكر وسيدنا عمر وسيدنا عثمان وسيدنا علي وابن عباس - رضي الله عنهم - عنهم أنهم قالوا لا تجوز الهبة إلا مقبوضة محوزة ولم يرد عن غيرهم خلافه ولأنها عقد تبرع فلو صحت بدون القبض لثبت للموهوب له ولاية مطالبة الواهب بالتسليم فتصير عقد ضمان وهذا تغيير المشروع(فصل في شرائط ركن الهبة:6/123:دارالكتب العلمية)
وفيه ايضا والقبض عندنا هو التخلية، والتخلي وهو أن يخلي البائع بين المبيع وبين المشتري برفع الحائل بينهما على وجه يتمكن المشتري من التصرف فيه فيجعل البائع مسلما للمبيع، والمشتري قابضا له، وكذا تسليم الثمن من المشتري إلى البائع، وقال الشافعي - رحمه الله -: القبض في الدار والعقار والشجر بالتخلية. (5/ 244)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔