سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-269 Fatwa no: 1447-269

دکان خریدنے کے بعد بقایا رقم کے بدلے بائع کی شرکت کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرا م اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے عمرو سے ایک دکان خریدی، جس میں کچھ رقم دے کر باقی رقم تین ماہ میں دینے کی شرط رکھی گئی ۔ تین مہینے پورے ہونے کے باوجود زید بقیہ رقم ادا نہ کرسکا ۔ اب عمرکہتا ہے کہ جب تک بقیہ رقم ادا نہ ہو آپ مجھے اسی دکان میں شریک رکھیں اور میرا بقایا رقم اس دکان میں میری شرکت کے طور پر ہوگی۔ کیا یہ درست ہے؟ اگر نہیں تو درست صورت اورمنافع تقسیم کا طریقہ کار بھی بتائیں ۔
جواب :

بصورتِ مسئولہ چونکہ زید اور عمرو کے درمیان  عقدِ بیع مکمل ہوگیا ہے،جس کے نتیجے میں زید کا حق دوکان میں ثابت ہوگیا ہے،جبکہ عمرو کا حق ثمن میں ۔لہذا عمرو کو اپنے وعدے کی پاسداری کرنی چاہئے تھی،کیونکہ دین کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا گناہ ہے،بلکہ حدیث میں   مالدار کے بےلاوجہ ٹال مٹول کو تو ظلم  کہا گیا ہے۔
تاہم اس کے باوجود بھی اگر زید ، عمرو کو اپنی خوشی سے اس دوکان  میں شریک کرنا چاہے تو ٹھیک ہے،لیکن عمرو زبردستی اس کے ساتھ دوکان میں شریک نہیں ہوسکتا ،البتہ اپنی بقیہ رقم  کے مطالبے کا اس کو حق حاصل ہے،لیکن اگر زید اس کو شریک کرنے پر راضی ہے،تو پھر مذکورہ عقد پر شرکت کے سارے احکام لاگو  ہونگے مثلا:
1-دو طرفہ سرمائے کا تناسب معلوم ہو۔
2-نفع فیصد کے اعتبار سے  طے ہو،لگی بندھی رقم مقرر نہ ہو۔
3-نفع کا تعین حقیقی نفع کی بنیاد پر ہو،سرمائے کی بنیاد پر نہ ہو(اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نفع ہوجائے،تواس نفع میں سے سرمایہ کار اپنا فیصدی حصہ لےگا،یہ نہیں  کہ میں نے اتنا سرمایہ لگایا ہے،لہذا آپ نے مجھے اتنا دینا ہے)
4-نقصان میں دونوں اپنے سرمایہ کے بقدر شریک ہونگے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر زید،عمر کو اپنے ساتھ شریک کرنے پر راضی ہے،تو پھر مذکورہ شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے مذکورہ عقد درست ہوگا،بصورتِ دیگر نہیں۔
قال الله تعالى:{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ} [النساء: 29]
وفي سنن الكبرى :وقال النبي-صلى الله عليه وسلم-لايحل مال امرائ من اخيه الاما اعطاه من طيب نفس.  (كتاب الغصب:باب:لايملك احد بالجناية:6/160:ط:بيروت)
في سنن أبى داود :عن أبى هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال « مطل الغنى ظلم وإذا أتبع أحدكم على ملىء فليتبع ».(باب في مطل الغني: 3/ 253:دارالكتاب العربي)
وفي بدائع الصنائع:ومنها أن يكون الربح معلوم القدر فإن كان مجهولا تفسد الشركة لأن الربح هو المعقود عليه وجهالته توجب فساد العقد كما في البيع والإجارة  ومنها أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما فلا يتحقق الشركة في الربح((6/ 59)دارالكتاب العربي)
في الفتاوى الهندية :وأما حكمه فثبوت الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع إذا كان البيع باتا وإن كان موقوفا فثبوت الملك فيهما عند الإجازة كذا في محيط السرخسي وأما أنواعه فبالنظر إلى مطلق البيع أربعة نافذ وموقوف وفاسد وباطل فالنافذ ما أفاد الحكم للحال والموقوف ما أفاده عند الإجازة. (3/ 3:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب