سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-270 Fatwa no: 1447-270

قرض لینے کی غرض سے کوئی چیز خریدکردوبارہ فروخت کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

مفتی صاحب ایک مسئلہ پوچھنا تھا وہ یہ کہ بعض ضرورت مندوں کو قرض لینے کی ضرورت ہوتی ہے تو انکو جب کہیں سے قرضہ نہیں ملتا ، اسکے لئے ایک چینی کا کاروبار کرنے والا شخص یہ کرتا ہے ، کہ ایک سال پر زیادہ قیمت میں چینی فروخت کردیتا ہے ، اور اسکا وکیل بن کر وہ چینی اصل قیمت سے بھی کم پر کسی دوسرے دوکان دار پر بیچ دیتا ہے ۔۔۔جسکا نام مارکیٹ میں پرچی کے نام سے مشہور ہے ، وہ دوکانداروں سے رابطہ کرتا ہے کہ پرچی موجود ہے اگر کوئی لینا چاہے ، دوکاندار بھی اس پرچی کے انتظار میں ہوتے ہیں ، کیونکہ انکو چینی سستے میں مل جاتی ہے ، اس طرح قرض خواہ کو وہ پیسے دوکاندار سے کم مگر نقد ملتے ہیں ۔۔۔۔۔اب دوکاندار حضرات یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس طرح کا معاملہ کرنا کیسا ہے ؟ اگر شرعا گنجائش نہ ہو تو ہم   بالاتفاق سارے دوکاندار اس طرح کے سودوں کا بائیکاٹ کرتے ہیں ۔

جواب :

بصورتِ مسئولہ سب سے پہلے   کوشش  تویہ کرنی چاہئے کہ اگر شخصِ مذکور واقعتا  محتاج ہو،تو اس کو قرضِ حسنہ دیاجائے اس لئے کہ  حدیث شریف میں ارشادگرامی ہے کہ" جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے،اللہ تعالی اس کی حاجت روائی فرماتا ہے"لہذا جن لوگوں کو اللہ تعالی نے مال سے نوازا ہے،ان کو  دوسرے کمزور مسلمانوں کی معاونت کرنی چاہئے۔البتہ اگر قرض دینے کےلئے کوئی تیار نہ ہو،تو مذکورہ طریقہ  چند شرائط کے ساتھ جائز ہے۔
1-پہلی شرط یہ ہے کہ دوکاندار اورشخص مذکور کے درمیان مذکورہ سودا حقیقی معنوں میں طے ہو یعنی سودا کر نے کے بعد شخصِ مذکور چینی کا باختیار مالک بن جائے،وہ کسی کو فروخت کرنا چاہے،یا گھر لے جاناچاہے،اس میں دوکاندار کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔
2-دوسری  شرط یہ ہے کہ فروخت کرنے کے بعد  دوکانداربذاتِ خود یا ایسا آدمی جو دوکاندار کےساتھ منافع میں شریک ہو،مثلا،بیوی،بیٹا یا دوکاندار کا پارٹنر وغیرہ اس چینی کو نہ خرید لے۔
3-دوکاندار کا   چینی فروخت کرنےکےلئےوکیل بننے کی شرط پہلے سودا میں نہ لگائی گئی ہو-
ان مذکورہ شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے یہ عقد درست ہوگا،بصورت دیگر نہیں ۔
نوٹ: اس مذکورہ صورت میں بہتر یہی ہے کہ شخص مذکور بائع(دوکاندار)کے علاوہ کسی اور کو وکیل بنائے۔
في سنن أبى داود :عن أبى هريرة عن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال « من نفس عن مسلم كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة - ومن يسر على معسر يسر الله عليه فى الدنيا والآخرة ومن ستر على مسلم ستر الله عليه فى الدنيا والآخرة والله فى عون العبد ما كان العبد فى عون أخيه (باب في المعونة للمسلم: 4/ 442: دار الكتاب العربي)
وفي فقه البيوع:القسم الثاني من العينة:ما يسميه الحنابلة:التورق،وذكر الحنفية باصطلاح العينة،وهو:أن يشتري المرء سلعة نسيئة،بزيادة في ثمن المثل،ثم يبيعها نقدا إلى غير البائع بأقل مما اشتراها به،ليحصل بذلك على النقد...أما الحنفية،فقد ذكروا التورق باسم العينة،ثم منهم من ذهب إلى كراهته،مثل الإمام محمد-رحمه الله-...ومنهم من ذهب إلى جوازه،مثل أبي يوسف-رحمه الله-...وإن ابن الهمام وافق قولي الكراهة والجواز،فحمل الجواز على الصورة الأولى،وهي التورق،وحمل الكراهة على الصورة الثانية وهي العينة عند جمهورالفقهاء،فقال-رحمه الله-:"ثم الذي يقع في قلبي أن ما يخرجه الدافع إن فعلت صورة يعود فيها إليه هو أو بعضه كعود الثوب أو الحرير في الصورة الأولى وكعود العشرة في صورة إقراض الخمسة عشر فمكروه وإلا فلا كراهة إلا خلاف الأولى على بعض الاحتمالات كأن يحتاج المديون فيأبى المسئول أن يقرض بل أن يبيع ما يساوي عشرة بخمسة عشر إلى أجل فيشتريه المديون ويبيعه في السوق بعشرة حالة ولا بأس في هذا فإن الأجل قابله قسط من الثمن والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب فإن تركه بمجرد رغبة عنه إلى زيادة الدنيا فمكروه أو لعارض يعذر به فلا وإنما يعرف ذلك في خصوصيات المواد ومالم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقا وإلا فكل بيع بيع العينة"
وماذكره ابن الهمام-رحمه الله-وجيه جدا،وذلك اختاره كثير من الحنفية وأفتوابه...ولكن جواز التورق مشروط بألا تكون هناك ملابسات أخرى تفسد البيع،مثل:أن يشتري المشتري على البائع الأول أن يبيع السلعة في السوق نيابة عنه،فإن هذا الشرط يفسد البيع،أما إذا كان البيع خاليا من هذا الشرط،ثم وكل المشتري البائع نفسه بأن يبيعه في السوق،فالظاهرأنه لا محظور فيه،ولكن الاجتناب عنه أولى.(بيع العينة:1/538:مكتبة معارف القران)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026