نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک آدمی نے ایک کاروباری شخص کو،جو بلاک،ریت وغیرہ کا کام کرتا ہے،پندرہ(15) لاکھ روپے دےدئے،معاہدہ یہ ہوا کہ کاروباری آدمی جہاں چاہیں ،اس رقم کو خرچ کرسکتا ہے،تاہم جب وہ رقم واپس کرے گاتو کل رقم واپس کرےگا،باقی نفع کی صورت یہ ہوگی،کہ جب بھی کاروباری شخص بلاک کی ایک ٹرالی فروخت کرےگا،اس میں سےآٹھ (8) سو روپے شخص مذکور کے ہونگے،اس میں یہ بھی ہوسکتا ہے،کہ ایک روز میں دو تین ٹرالی فروخت ہوجائے،اور یہ بھی ہوسکتا ہے،کہ کئی دن ایک ٹرالی بھی فروخت نہ ہو،تو کیا شرعا ایسا معاملہ کرنا درست ہے؟ یا نہیں ؟اگر نہیں تو پھر اس عقد کو کس طرح درست کیا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ شریعت میں ایسی سرمایہ کاری کہ جس میں سرمایہ کار صرف نفع کی حد تک شریک ہو،نقصان کے ساتھ اس کا کوکوئی سروکار نہ ہو،جائز نہیں ،بلکہ شریعت نے نفع کو ر سک(نقصان کی ذمہ داری قبول کرنے )کےساتھ جوڑا ہے،وہ جس طرح نفع چاہتا ہے،اسی طر ح اگر واقعی نقصان ہوتا ہے تو اس کو بھی قبول کرےگا،بصورتِ دیگر عقد درست نہ ہوگا۔
بصورتِ مسئولہ مذکورہ عقد چند وجوہات کی بناء پر درست نہیں :۔
1-اس میں سرمایہ کار صرف نفع کی حد تک شریک ہے،حالانکہ اس عقد کے صحیح ہونے کےلئے ضروری ہے کہ وہ نفع ونقصان دونوں میں شریک ہو۔
2-معاملہ چاہے شراکت کا ہو یا مضاربت کا،اس میں نفع فیصد کے اعتبار سے طے ہونا ضروری ہے،جبکہ مذکورہ صورت میں نفع کی لگی بندھی رقم مقرر ہے جو کہ شرعا جائز نہیں ۔
3-معاملہ چاہے آپس میں شراکت کا ہو یا مضاربت کا،اس میں ضروری ہے کہ نفع کی تعیین حقیقی نفع میں ہو،اگر نفع کی تعیین حقیقی نفع کے بجائے سرمایہ کی بنیاد پر ہو، پھر بھی عقد درست نہ ہوگا،مذکورہ صورت میں نفع کی تعیین حقیقی نفع کی بنیاد پر نہیں ،بلکہ ایک ٹرپ یا ٹرالی کی بنیاد پر ہے۔لہذا ان وجوہات کی بناء پر مذکورہ معاملہ درست نہیں۔
اس عقد کا متبادل صحیح "شراکت" ہے،شراکت کی صورت یہ ہوگی، کہ سرمایہ کار پندرہ لاکھ تک کاروباری شخص کے ساتھ شریک ہوجائے،مثلا اگر کاروباری شخص کے پاس بھی پندرہ لاکھ روپے ہیں،اور پندرہ لاکھ سرمایہ کار دیتا ہے،تو کل تیس لاکھ روپے ہوگئے،اب باہمی رضامندی سے نفع طے کرے،مثلا نفع آدھا آدھا ہوگا، یا یہ بھی ہوسکتا ہے،کہ اگر سرمایہ کار کام نہیں کرتا ہے،تو نفع کے ایک ثلث سرمایہ کا ر کا، جب کہ دوثلث کاروباری شخص کا۔تاہم شراکت کی صورت میں دونوں اپنے سرمایہ کےبقدر نقصان بھی برداشت کرینگے۔
وفيه الهداية:"الشركة جائزة" لأنه صلى الله عليه وسلم بعث والناس يتعاملون بها فقررهم عليه.والضرب الثاني: شركة العقود، وركنها الإيجاب والقبول، وهو أن يقول أحدهما شاركتك في كذا وكذا ويقول الآخر قبلت" وشرطه: أن يكون التصرف المعقود عليه عقد الشركة قابلا للوكالة ليكون ما يستفاد بالتصرف مشتركا بينهما فيتحقق حكمه المطلوب منه (كتاب الشركة:3/7:داراحياء التراث العربي)
وفي المعائير الشرعية:يجب النص في عقد الشركة على كيفية توزيع الأرباح بين أطراف الشركة،وأن يكون التحديد بنسب شائعة في الأرباح،وليس بمبلغ مقطوع أو بنسبة من رأس المال...ولا يجوز الاتفاق على تحمل أحد الأطراف لها أو تحميلها بنسب مختلفة عن حصص الملكية،ولا مانع عند حصول الخسارة من قيام أحد الأطراف بتحملها دون اشتراط سابق.(رقم المعيار:12:اسم المعيار:الشركة والمشاركة:331)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔