نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: بیع الاختیارات (Options)اور فیوچر سیل (Future Sale)جائز ہے یا نہیں ؟نیز تمویلی اجارہ (Financial Lease)میں اسلامی بینک جو کسی کو گاڑی لیزپر دیتا ہے ، تو اسی طرح کمرشل بینک بھی دیتے ہیں ،ان کے درمیان کیا فرق ہے؟
1۔کسی خاص چیز کو خاص قیمت پر بیچنے یا خریدنے کے التزام کوحق خیارات (Options)کہا جاتا ہےیعنی کوئی شخص دوسرے سے وعدہ کرتا ہے کہ اگر تم چاہوگے تومیں فلاں چیز اتنی قیمت میں اتنی مدت تک خریدنے کا معاہدہ کرتا ہوں،اگر چہ اس کی قیمت کم کیوں نہ ہوجائے،اور اس کے بدلے میں وہ فیس وصول کرتا ہےحالانکہ شریعت میں اس حق کے بدلے فیس لینا جائز نہیں ،کیونکہ بائع یہاں پر مشتری کو کوئی مال وغیرہ نہیں دے رہا جس کا وہ عوض لے رہا ہے ، درحقیقت یہ معاملہ جوابازی کے زیادہ مشابہہ ہے ،کیونکہ حق اختیار کو فروخت کرنے والا عموما اس چیز کا مالک نہیں ہوتا ،جس کی بیع کا وہ التزام کررہا ہے ،وہ ان التزامات کو ان توقعات کی بنیاد پر کرتا ہے جس کا اس نے مستقبل میں تخمینہ لگایا ہو،نیز یہ ملتزم کی جانب سے وعدہ محض ہے ،اس لئے کہ کبھی کبھار خرید وفروخت کی نوبت نہیں آتی اور اس جیسے وعدہ پر عوض لینا درست نہیں ہے ۔
2۔فیوچر سیل یعنی کسی چیز کی ایسی خریدوفروخت کہ جس سے وہ چیز لینا دینا مقصود نہ ہو ،بلکہ محض نفع،نقصان برابر کرکے نفع کمانا مقصود ہو ،تو یہ بھی شرعا جائز نہیں ہے ،کیونکہ یہ سٹہ بازی ،جوا ،اور بدلین کے مؤجل ہونے کو مستلزم ہے۔
3۔تمویلی اجارہ میں اسلامی بینکوں اور کمرشل بینکوں کا طریقہ بظاہر اگر چہ یکساں لگتا ہے ،لیکن درحقیقت الگ اور ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے ،وہ یہ کہ تمویلی اجارہ یعنی فنانشل لیز میں لیز پر دی گئی چیز لیز کی مدت کے دوران موجر(Lessor) کی ملکیت اور ضمان میں رہتی ہے،یعنی ملکیت کی وجہ سے پیدا ہونے والی ذمہ داریوں کو موجر خود ہی اٹھائے گااور اگر کسی سبب سے نقصان ہوجائے جو مستاجر(Lessee) کے اختیار سے باہر ہو ،تو یہ نقصان موجر(مالک) برداشت کرے گا،جبکہ کمرشل بینکوں میں موجر اس مشینری کی کسی قسم کی ذمہ داری نہیں لیتا ہے،اگر لیز پر دی گئی چیز کا نقصان ہوجائے ،تو وہ مستاجر کا نقصان سمجھا جاتا ہے ،حتی کہ اگر کسی حادثے میں لیز پر دی گئی چیز مکمل طور پر ہلاک ہوجائے ،تو بھی مستاجر کرایہ دیتا رہتا ہے ،موجر کا تعلق اس چیزسے صرف اتنا ہوتا ہے کہ عدم ادائیگی کی صورت میں وہ اس چیز کو بیچ کر اپنا قرضہ وصول کرلیتا ہے ،لہذا کمرشل بینکوں میں آجکل حقیقی تمویلی اجارہ نہیں ہوتا ،اصل مقصد سود پر قرض دینا ہی ہوتا ہے ۔
كما في فقه البيوع:
ومن البيوع الشائعة فى البورصات العالمية بيع الاختيارات، وهو عبارة عن التزام أحد الطرفين ببيع شيء أو شرائه بسعر متفق عليه خلال مدة معلومة...... ومثل هذه الاختيارات شائعة اليوم في بيع أسهم الشركات ،والعملات، والسلع الدولية، وإن هذه البيوع باطلة فى الشريعة الاسلامية، لأن البائع فيها لاينقل إلى المشتري مالا، ولا حقا ماليا، فهو من قبيل أكل أموال الناس بالباطل.
(بيع الاختيارات،ج1،ص276،ط:معارف القرآن)
وفيه أيضا:
فأما البيوع المستقبلية، فالمراد منها البيوع المضافة إلى المستقبل، بمعنى: أن البائع فيها يعقد في يوم العقد بيع أسهم شركة معينة في تاريخ لاحق،وفيه عدة محظورات من الناحية الشرعية:
الأول: أنه بيع مضاف إلى المستقبل، وسيأتي أنه محظور شرعا. الثاني: أنه يستلزم تأجيل البدلين، وبيع الكالئ بالكالئ، لأن ثمن البيع لايدفع عادة عندالعقد، بل عند حلول التاريخ المعقودعليه. الثالث: أن المبيع في معظم هذه العقود لايكون مملوكا للبائع عندالعقد، وفي معظم الحالات لايقصد بهذا البيع تسليم المبيع وتسلمه،وإنما ينتهي العقد بتسوية فروق الأسعار، وهو نوع من المضاربات والمقامرة.
(البيوع المستقبلية للأسهم،ج1،ص370،ط:معارف القرآن)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔