سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-273 Fatwa no: 1447-273

کیاكسی چیز کی خرید وفروخت میں سکیورٹی رقم بھی شامل ہوگی؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ پٹرول پمپ کے مالک سرکار کے پاس سیکورٹی کی رقم جمع کراتے ہیں اور جب نقصان ہو جاتا ہے تو اس سیکورٹی سے پوری کی جاتی ہے،اب مالک نے یہ پمپ بیچنے کے وقت مشتری کے ساتھ عقد میں اس سیکورٹی کا ذکر نہیں کیا،اب مشتری کہتا ہے کہ یہ سیکورٹی بھی پمپ کے ساتھ میں نے خریدی ہے جبکہ بایع کہتا ہے کہ نہیں آپ نے صرف پمپ خریدا ہے سیکورٹی میری ہےتو کیا شرعاً ذکر کئے بغیر یہ سیکورٹی عقد بیع میں داخل ہوگی یا نہیں ۔؟
جواب :

بصورت مسئولہ سوال کے جواب سمجھنے سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ پمپ  کےمالک نے سرکار کے ساتھ جو رقم بطوِ سیکورٹی رکھی ہے،اگر یہ انشورنس  پالیسی کے تحت ہو،تو اس کےلئے ایساکرناشرعا جائز نہیں ،کیونکہ موجودہ انشورنس پالیسی چونکہ سود اورقمار پرمشتمل ہے،اس لئے اس کاحصہ بننا جائز نہیں ،لہذا اس پر تو بہ و استغفار کرنا چاہئے۔
باقی جہاں تک اس مسئلے کا تعلق ہے،کہ کیا سیکورٹی کی رقم پمپ کی بیع میں شامل ہوگی ،یانہیں ہے؟تو اس میں تفصیل یہ ہے،کہ مبیع(جس چیز کو فروخت کیا جاتاہے)کے اندر ہر وہ چیز شامل  ہوگی،جس کے بغیر  اس مبیع کا کوئی فائدہ نہ ہو،مثلا کوئی شخص گھر خریدتا ہے،تو دروازے اس میں شامل ہونگے،اگرچہ  ان کا خرید وفروخت میں ذکرنہ کیا گیا ہو،یا ایساہی "تالے"کی خرید وفروخت  میں چابی داخل ہوگی،کیونکہ اس کے بغیر "تالے"کی خرید وفروخت بے مقصد ہے،اوراگرکوئی   چیزایسی ہو کہ جس کے بغیر بھی مبیع کا فائدہ ہو،تو اس صورت میں وہ چیز مبیع میں تب داخل ہوگی کہ یا تو اس کی عقدہی کے اندر صراحت ہو،کہ یہ چیز بھی مبیع کا حصہ ہوگا،اور اگر ایسا نہیں تو پھر عرف کو دیکھا جائےگا،اگر عرف میں وہ چیز بغیر ذکرکرنےکے بھی  مبیع کا حصہ سمجھاجاتا ہو ،تو پھر مبیع کا حصہ ہوگا،بصورتِ دیگر نہیں ۔
بصورت مسئولہ پمپ کےلئے رکھی گئی سیکورٹی رقم  نہ حقیقتا پمپ کا حصہ ہے،اور نہ ہی عرفا۔لہذا یہ پمپ کی خرید وفروخت میں داخل نہیں ہوگی ،بلکہ یہ اصل مالک کی ہوگی۔
في المجلة : ما كان في حكم جزء من المبيع أي ما لا يقبل الانفكاك عن المبيع نظرا إلى غرض الاشتراء يدخل في البيع  بدون ذكر مثلا إذا بيع قفل دخل مفتاحه وإذا اشتريت بقرة حلوب لأجل اللبن يدخل فلوها الرضيع في البيع بدون ذكر أنظر(ص: 47:المادة 231)
في درر الحكام شرح مجلة الأحكام:ما كان في حكم جزء من المبيع أي ما لا يقبل الانفكاك عن المبيع نظرا إلى غرض الاشتراء يدخل في البيع بدون ذكر مثلا إذا بيع قفل دخل مفتاحه , وإذا اشتريت بقرة حلوبا لأجل اللبن يدخل فلوها الرضيع في البيع من غير ذكر . وبعبارة أخرى الأشياء المنفصلة المنقولة التابعة للمبيع والتي يتوقف عليها الانتفاع بالمبيع هي في حكم جزء المبيع وفي حكم المتصل به فكما أنها إذا ذكرت وصرح بها في البيع تدخل فيه فكذلك إذا لم تذكر ولم يصرح بها ; لأنه لا ينتفع بالقفل بغير مفتاح كما لا ينتفع بالمفتاح بغير قفل وما يدخل في البيع أصالة كما إذا اشترى إنسان قفلا من الحداد من غير أن يذكر دخول المفتاح في البيع أو عدم دخوله فالمفتاح داخل في هذا البيع . وما يدخل في البيع تبعا كما إذا بيعت دار فالأقفال التي على أبواب هذه الدار تدخل في البيع تبعا أما في بيع الفرس ذات الفلو فإن كانت في مجلس البيع بغير فلوها فلا يدخل الفلو في البيع بدون ذكره كما إذا بيعت وهي غائبة عن مجلس البيع ولم يذكر الفلو في البيع وإذا حضرت هي وفلوها مجلس البيع ولم يذكره في البيع ما يدل على دخول الفلو أو عدم دخوله فإنه يدخل في البيع بناء على العرف. المادة:231:ص:1/ 179: دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب