سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-274 Fatwa no: 1447-274

کیا شرکت کی رقم کو کسی اورمد میں صرف کیا جاسکتا ہے؟

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ہم دو ساتھی  کنسٹرکشن کا کام کرتے ہیں،ٹھیکا لے کر گھر تعمیرکرتے ہیں،اور نفع آپس میں تقسیم کرتے ہیں،اب اس مرتبہ ہم ایک اوردوست کواپنے ساتھ  ایک پروجیکٹ میں شریک کرناچاہتے ہیں، صورت اس کی  یہ ہےکہ مثلا ہم نے کل چالیس گھر بنانے ہیں،ان میں سے بیس گھروں میں  وہ ہمارے ساتھ انوسمنٹ کرناچاہتے ہیں،کل خرچہ چھ کروڑ آئےگا،جس میں سے تین کروڑ وہ  وہ دینگے،اور ان بیس گھروں کا جو نفع ہوگا وہ  ہم دو فریقین میں پچاس فیصد کے حساب سے تقسیم ہوگا اب پوچھنا یہ ہے،کہ فریقِ ثانی جو ہمیں تین کروڑ دےگا،کیا اس رقم کو ان بیس ہی گھروں میں خرچ کرنا ضروری ہے، یا ہم اپنی ضرورت کے مطابق کسی اورمصرف میں بھی لگا سکتے ہیں،اس لئے کہ ان بیس گھروں پر مزید تین کروڑ ہم ہی نے لگانے ہیں۔
نوٹ۔بس سوال صر ف یہ ہے کہ  ہم نوٹ کی تبدیلی کرسکتے ہیں یانہیں؟

جواب :

شرکت کامعاملہ جب ایک مرتبہ مکمل  ہوجاتاہے،تو پھر نہ تو فریقین کے سرمایہ کو ملانا ضروری ہے،اور نہ ہی  شریک کا سرمایہ بعینہ  کسی ایک  کام میں لگانا ضروری ہے،چنانچہ اگر عقد مکمل کرنے بعد ایک شریک کی رقم کو استعمال میں لایا جائے،اور دوسری کی رقم کو صرف  سیکورٹی کی طور پر محفوظ رکھا جائے، یہ  کسی اور مصرف میں لگایا جائے،تبھی دونوں  نفع و نقصان میں طے شدہ فیصد کے اعتبار سے شریک ہونگے۔
لہذا بصورتِ مسئولہ  اگر فریقِ ثانی  کی رقم کو ان بیس گھروں کےعلاوہ کسی اور مد میں صرف   کیا جائے،اور اس کی رقم کی بجائے اپنی رقم سے پوراپروجیکٹ مکمل کیا جائے،تو شرعا اس میں کوئی خرابی نہیں،تاہم چونکہ شرکت  میں ایک شریک دوسرے شریک کا وکیل بھی ہوتا ہے،اس لئے اس وکالت کی جہت کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر ان سے اجازت لی جائے،تو بہتر رہےگا۔
في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: 
(أما) الشركة بالأموال فلها شروط: (منها) أن يكون رأس المال من الأثمان المطلقة وهي التي لا تتعين بالتعيين في المفاوضات على كل حال، وهي الدراهم والدنانير، عنانا كانت الشركة أو مفاوضة عند عامة العلماء، فلا تصح الشركة في العروض. (فصل في بيان انواع الشركة:6/ 59:دارالكتب العلمية)
وفيه ايضا:وعند محمد الثمنية لازمة للفلوس النافقة، فكانت من الأثمان المطلقة، ولهذا أبى جواز بيع الواحد منها باثنين، فتصلح رأس مال الشركة كسائر الأثمان المطلقة من الدراهم، والدنانير. (فصل في بيان انواع الشركة:6/ 59:دارالكتب العلمية)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع 
وهل يشترط خلط المالين، وهو خلط الدراهم بالدنانير أو الدنانير بالدراهم؟ قال أصحابنا الثلاثة: لا يشترط، وقال زفر: يشترط وبه أخذ الشافعي - رحمه الله - وعلى هذا الأصل: يبنى ما إذا كان المالان من جنسين، بأن كان لأحدهما دراهم، والآخر دنانير، أن الشركة جائزة عندنا خلافا لهما، وكذلك إذا كانا من جنس واحد، لكن بصفتين مختلفتين كالصحاح مع المكسرة، أو كانت دراهم أحدهما بيضاء، والآخر سوداء وعلة ذلك في شركة العنان فهو على هذا الخلاف.وروي عن زفر: أن الخلط شرط في المفاوضة، لا في العنان ولكن الطحاوي ذكر أنه شرط فيهما عند زفر.
(وجه) قوله: أن الشركة تنبئ عن الاختلاط، والاختلاط لا يتحقق مع تميز المالين، فلا يتحقق معنى الشركة، ولأن من أحكام الشركة أن الهلاك يكون من المالين، وما هلك قبل الخلط من أحد المالين يهلك من مال صاحبه خاصة وهذا ليس من مقتضى الشركة.
(ولنا) : أن الشركة تشتمل على الوكالة، فما جاز التوكيل به، جازت الشركة فيه والتوكيل جائز في المالين قبل الخلط كذا الشركة.(وأما) قوله: الشركة تنبئ عن الاختلاط فمسلم، لكن على اختلاط رأسي المال، أو على اختلاط الربح فهذا مما لا يتعرض له لفظ الشركة، فيجوز أن يكون تسميته شركة لاختلاط الربح، لا لاختلاط رأس المال، واختلاط الربح يوجد وإن اشترى كل واحد منهما بمال نفسه على حدة؛ لأن الزيادة وهي الربح تحدث على الشركة.(فصل في بيان انواع الشركة: (6/ 60:دارالكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026