سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-275 Fatwa no: 1447-275

غیر تقسیم شدہ چیز کو ہبہ کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

ظاہر الرحمٰن اورخان طوطی ولدان رحیم اللہ نے اپنا پانچ مرلہ کھنڈرچار بھائیوں پر اس ترتیب سے فروخت کیا،کہ ظاہر رحمن نے اس کھنڈرمیں سے ڈھائی مرلہ اپنا حصہ محمداسلام اورشیرعثمان کو بیچا،اورخان طوطی نے اپنا ڈھائی مرلہ حصہ محمد اسلام اور شیرعثمان کے دوسرے دو بھائی عبدالرفیع اورعبدالسمیع کو بیچا،بعد میں عبدالسمیع نے اس کھنڈر سے اپنا چوتھا حصہ اپنے بھائی محمد اسلام کو  ہبہ کیا،اب پوچھنا یہ ہے،کہ یہ ہبہ شرعادرست ہے یانہیں؟نیز اب عبدالسمیع یا اس کے ورثاء کو  اس ہبہ میں رجوع کا حق حاصل ہے یانہیں؟
تنقيح:1۔چاروں بهائيوں نےپلاٹ خريدا، پهر محمد اسلام نے ایک بھائی  سےاس   کا حصہ خریدا،جبکہ باقی   دو بھائیوں عبدالسمیع  اور شیرعثمان نے اپنا حصہ محمد اسلام کو ہبہ کیا،خریداری اورہبہ کا اسٹام پیپر موجود ہے۔
2۔اس پلاٹ پرگھر محمد اسلام نے خود بنایا۔

جواب :

اصل مسئلہ کے جواب سے پہلے چند  امور کو تمہید کےطور پر سمجھنا ضروری ہیں۔
1۔احناف  اورجمہور فقہائے کرام کے ہاں ہبہ تام ہونےکے لئے ضروری ہے،کہ اس پر قبضہ کیا جائے،بصورتِ دیگر ہبہ، ملک کا فائدہ نہیں دےگا،جبکہ امام  مالک ؒ کے نزدیک  ہبہ بغیر قبضے کے بھی تام ہوجاتاہے،ہمارے نزیک ہبہ پر قبضے کی  شرط اگرچہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں  ،لیکن  اجماعِ صحابہ سے ثابت ہے،ایک حدیث"لا تجوز الهبة إلا مقبوضة"جوصاحب ہدایہ نے ذکر کی ہے ، اس پرصاحب البنایۃ نے رد کیا ہے،چنانچہ فرماتے ہیں:
" «لا تجوز الهبة إلا مقبوضة» ش: هذا حديث منكر لا أصل له، والعجب من الكاكي حيث يقول: قيل: هذا الحديث غير مرفوع، بل قول علي وعمر - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - ولم يبين ذلك، وليس كذلك بل هذا الذي ذكره المصنف قول إبراهيم النخعي رواه عبد الرزاق في مصنفه وقال: أخبرنا سفيان الثوري عن منصور عن إبراهيم قال: لا تجوز الهبة حتى تقبض والصدقة تجوز قبل أن تقبض.( البناية شرح الهداية حکم الهية: 10/ 161:دارالکتب العلمية)
ہاں ہبہ پر قبضے کی شرط حضرت ابوبکر اورحضرت عمررضی اللہ عنہما سے ثابت ہوتی ہے،چنانچہ امام طحاوی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت نقل کی ہے،جس کا مفہوم یہ ہے کہ مرض الوفاۃ میں حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا"کہ میں نے اپنے باغ کے 20 وسق غلہ ہبہ کیا تھااگرآپ اس پر قبضہ کرلیتیں ،تو وہ آپ کا ہوجاتا(لیکن  چونکہ آپ نے قبضہ نہیں کیا)اس لئے  وہ ورثاء کا مال ہے۔۔۔اسی طرح حضرتِ عمررضی اللہ عنہ کی روایت سے ثابت ہوتاہے،کہ "نحل" یعنی ہبہ  قبل القبض میراث میں سے شمار ہوگا۔
عنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ نَحَلَهَا جِدَادَ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ مَالِهِ بِالْغَابَةِ. فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ وَاللهِ يَا بُنَيَّةُ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ أَحَبَّ إِلَيَّ غِنًى مِنْكِ وَلَا أَعَزَّ النَّاسِ عَلَيَّ فَقْرًا مِنْ بَعْدِي مِنْكِ وَإِنِّي كُنْتُ نَحَلْتُكِ جِدَادَ عِشْرِينَ وَسْقًا فَلَوْ كُنْتِ جَدَدْتِيهِ وَأَحْرَزْتِيهِ كَانَ لَكِ وَإِنَّمَا هُوَ الْيَوْمَ مَالُ وَارِثٍ وَإِنَّمَا هُمَا أَخُوكِ وَأُخْتَاكِ فَاقْسِمُوهُ عَلَى كِتَابِ اللهِ تَعَالَى. فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَاللهِ يَا أَبَتِ لَوْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لَتَرَكْتُهُ إِنَّمَا هِيَ أَسْمَاءُ فَمَنِ الْأُخْرَى قَالَ: ذُو بَطْنٍ بِنْتُ خَارِجَةَ أَرَاهَا جَارِيَةً( شرح معاني الآثار4/ 88) 
في السنن الصغير للبيهقي: عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ: «الْإِنْحَالُ مِيرَاثٌ مَا لَمْ يُقْبَضْ» (2/ 338)
2۔مشاع چیز کی  ہبہ۔
مشاع یعنی غیر تقسیم شدہ چیز کو ہبہ کرنا شرعا جائز ہے یانہیں ؟ اس  میں ائمہ کےدرمیان اختلاف واقع ہوا ہے،چنانچہ احناف کےنزدیک مشاع چیز کا  ہبہ درست نہیں  تاہم امام شافعیؒ اور دیگر کئی فقہائے کرام کے ہاں مشاع کی ہبہ درست ہے، اس میں  کوئی خرابی نہیں ہے۔
احنافؒ نے مشاع  چیز کا ہبہ کے عدم ِ جواز کی جو علت بیان کی ہے وہ یہ کہ چونکہ ہبہ تام ہونے کےلئے  قبضہ باجماعِ صحابہ شرط ہے،اورمشاع چیز میں کمال درجے کا  قبضہ نہیں  پایاجاتا،اس  وجہ سے مشاع کی ہبہ درست نہیں 
في الهداية في شرح بداية المبتدي :قال: "ولا تجوز الهبة فيما يقسم إلا محوزة مقسومة، وهبة المشاع فيما لا يقسم جائزة" وقال الشافعي: تجوز في الوجهين.... ولنا أن القبض منصوص عليه في الهبة فيشترط كماله والمشاع لا يقبله إلا بضم غيره إليه(3/ 223)
اس پوری بحث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ احناف کے ہاں  مشاع چیزکے ہبہ   کے عدم ِ جواز کی علت  یہ  ہے کہ مشاع چیز کو ہبہ کرنے میں "کمال درجے" کا قبضہ نہیں پایا جاتا ہے،اس وجہ سے مشاع کاہبہ  درست نہیں ،حالانکہ پہلے تفصیل سے  یہ بات گزری کہ  "قبضہ "کی شرط بھی ائمہ کے درمیان مختلف فیہ ہے،لہذا صرف"  کمال قبضہ " کی شرط کی وجہ سے مشاع کے ہبہ کو مطلقا  ناتمام کہنا درست معلوم نہیں ہوتا،پھر یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ مشاع چیز کو  ہبہ  کرنے میں  کیا واقعتا "کمالِ قبضہ" نہیں پایا جاتا؟ اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے " قبضہ "کی حقیقت کو سمجھاجائے،چنانچہ فقہائے  احناف کے ہاں قبضے کا مطلب یہ ہے،کہ اس چیز اور اس کے بائع یاموھوب لہ کے درمیان رکاوٹ کو ختم کیا جائے یعنی وہ جس وقت چاہے  اس میں تصرف کرسکے،چنانچہ  مشاع چیز اگر اس طور پر ہبہ  ہو کہ موھوب لہ کو اس میں تصر ف کا مکمل اختیار ہو مثلا  یہ  کہ واہب  کے  علم میں ہوتے ہوئےوہ اس چیز  کو فروخت کردے یا اس پر تعمیر کردے وغیرہ،تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ عدمِ تحقق قبضہ کا قول کیا جائے۔
في الموسوعة الفقهية الكويتية :وَلَمْ يُفَصِّل الْحَنَفِيَّةُ - وَهِيَ رِوَايَةُ ابْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَحْمَدَ - هَذَا التَّفْصِيل فِي الْقَبْضِ، بَل اعْتَبَرُوا التَّخْلِيَةَ - وَهِيَ: رَفْعُ الْمَوَانِعِ وَالتَّمْكِينِ مِنَ الْقَبْضِ - قَبْضًا حُكْمًا عَلَى ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ،(9/ 134)
یہ پوری تفصیل اس وقت ہے کہ جب  ہبہ کسی غیرِ شریک کےلئے ہو،اگر ہبہ شریک کےلئے ہو،تو پھر  علامہ خصفکیؒ کے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ شریک  کےلئے مشاع کا ہبہ درست ہے۔
في الدر المختار وحاشية ابن عابدين (ولو) وهبه (لشريكه) أو لأجنبي لعدم تصور القبض الكامل كما في عامة الكتب فكان هو المذهب وفي الصيرفية عن العتابي وقيل: يجوز لشريكه، وهو المختار.(كتاب الهبة:5/692:دارالفكر)
صاحب  بنایہ  نے مذکورہ مسئلہ میں  پوری تفصیل ذکرکرنےکےبعد     بغیرکسی قید کےصحیح  قول یہی قراردیا ہے کہ مشاع چیز کا ہبہ ،اس کو رہن میں رکھنا اوروقف کرنا  درست ہے،اور وجہ یہی بیان کی ہے،کہ ایک تو اس پر لوگوں کا تعامل ہے اور دوسرا یہ  کہ  اس پرکلام اللہ ،احادیث مبارکہ  اور اجماع میں سے کسی کا رد نہیں آیا ہے،لہذا جس طرح مشاع چیز کی بیع  درست ہے ایسا ہی  اس کا ہبہ بھی درست ہے۔
في البناية شرح الهداية:والصحيح جواز هبة المشاع ورهنه وإجازته ووقفه كما يجوز بيعه وقرضه والوصية به، ولا زال الناس على ذلك ولم يرد في رده كتاب ولا سنة ولا إجماع، فإن طلب الموهوب له القسمة وألزم بها الواهب فهو كما إذا ألزم بها البائع وقد باع حصة عما يملكه، فكان أن ذلك لا يمنع من صحة البيع وإن كان فيه إلزام بما لا يلتزمه، فكذلك لا يمنع من صحة الهبة.(الهبة فيما يقسم:10/171:دارالكتب العلمية)
اصل مسئلے کاجواب
بصورتِ مسئولہ جب عبدالسمیع نے اپنا حصہ زبانی اورتحریری طور پر اپنے بھائی محمد اسلام کو ہبہ کیا،اور اس کو مالکانہ  تصرف کا حق بھی دیا(کیونکہ محمد اسلام نے اس پر گھربنایا)تو یہ ہبہ  تام ہوگیا ہے،لہذا اب  عبدالسمیع یا اس کےکسی اوروارث کو اس میں مطالبہ قور رجوع   کا حق حاصل نہیں۔
في البناية شرح الهداية:والصحيح جواز هبة المشاع ورهنه وإجازته ووقفه كما يجوز بيعه وقرضه والوصية به، ولا زال الناس على ذلك ولم يرد في رده كتاب ولا سنة ولا إجماع، فإن طلب الموهوب له القسمة وألزم بها الواهب فهو كما إذا ألزم بها البائع وقد باع حصة عما يملكه، فكان أن ذلك لا يمنع من صحة البيع وإن كان فيه إلزام بما لا يلتزمه، فكذلك لا يمنع من صحة الهبة.(الهبة فيما يقسم:10/171:دارالكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026