نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک گھر جس میں میاں بیوی برابر کے شریک ہیں،گھر کے فرسٹ فلور پر دوکان ہے، اوردوکان کے اندرسے گھر کی دوسری منزل کا راستہ ہے،میاں نے اپنی بیوی کی اجازت کے بغیر پورا گھر فروخت کیا،جبکہ بیوی اس پر راضی نہیں ہے۔اب درج ذیل سوالات حلِ طلب ہیں۔
1-کیا شخصِ مذکور کا مذکورہ سودا درست ہے یانہیں؟اگر درست نہیں ،تو اس کی تلافی کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟
2-اگر خریدار نصف گھر کےسودے پر بھی راضی ہو،لیکن دوسری طرف بیوی اس نصف کے سودے پر بھی راضی نہ ہو۔تو پھر کیا حکم ہے؟اس لئے کہ گھر تقسیم ہوگا،تو اہلیہ اپنے حصے سے کماحقہ استفادہ نہیں کرسکےگا۔
تنقیح:خرید وفروخت کی یہ ساری کاروائی زبانی کلامی ہوئی تھی،یعنی خریدار سے کوئی رقم وغیرہ وصول نہیں کی ہے-
سوال سمجھنے سے پہلے دو باتیں سمجھنا ضروری ہے۔
1-کہ اگر کوئی آدمی اپنے شریک کی اجازت کے بغیراس کا حصہ فروخت کرتا ہے،تو شرعا یہ سوداشریک کی اجازت پر موقوف ہوگا،اگر شریک اس پر راضی ہوا،تو سودا نافذ ہوگا،بصورتِ دیگر نہیں۔
2-دو شریکوں میں سے اگر کوئی ایک شریک اپنا حصہ کسی تیسرے آدمی کو فروخت کرے،تو یہ سودا اس وقت درست ہوگا،جب دوسرے شریک کا اس میں ضرر نہ ہو،بصورتِ دیگر اس کے اپنے حصے میں بھی سودا درست نہیں ہوگا۔
بصورتِ مسئولہ جب میاں نے اپنی بیوی کی اجازت کے بغیر پورےگھر کا سودا کیا(جوکہ شرعا اس کو یہ اختیار حاصل نہ تھا)تو اس کا یہ معاملہ نہ پورے گھر میں درست ہوا،اور نہ ہی اس کے اپنے حصے میں ، پورے گھر میں تو اس لئے کہ اس نے اپنے حصے کے ساتھ بیوی کا حصہ بھی فروخت کیا،جو کہ شرعا اس کو جائز نہ تھا،اور اپنے حصے میں اس لئے درست نہیں ہوا،کہ اس میں سودا درست قرار دینے سے بیوی کو ضرر لاحق ہوگا،کیونکہ وہ اپنے حصے سے کما حقہ استفادہ نہیں کرسکےگی۔لہذا مذکورہ سودا ٹھیک نہیں ،اس کو ختم کرناضروری ہے۔
في درر الحكام شرح مجلة الأحكام:لكن لا يجوز له أن يتصرف تصرفا مضرا بالشريك بالإذن دلالة أي أنه يجب أن يكون إذن صريح من الشريك للتصرف في المال المشترك تصرفا مضرا ورضاء منه , وليس له أن يتصرف ذلك التصرف المضر بداعي وجود إذن الشريك دلالة ورضاء منه بذلك ; لأن التصرف في ملك الغير حرام من جهة حق الله تعالى وهو حرام أيضا من جهة حق المالك فإذا تصرف أحد في ملك الغير يمنع من التصرف بطلب المالك وادعائه , أما إذا كان المالك أي الشريك غائبا ولم يطلب ويدع منع الشريك من التصرف فليس للقاضي أن يمنعه من نفسه من التصرف ; لأنه يشترط في الحكم سبق الدعوى (المادة: 1085 :ص:3/ 20)
في الدر المختار :ولو كانت الدار مشتركة بينهما باع أحدهما بيتا معينا أو نصيبه من بيت معين فللآخر أن يبطل البيع...وتحته في الشامية:كذا في غالب كتب المذهب معللين بضرر الشريك بذلك عند القسمة.د(كتاب الشركة:4/ 302ا:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔