نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ عبدالحسیب کا اپنی بیوی کو" آپ مجھ پرمور،ترور،خور(ماں ،خالہ،بہن)کہنے سے نہ بیوی اس کی بہن بنی ہے،اور نہ ہی ان الفاظ کی وجہ سے اس پرکوئی طلاق واقع ہوئی ہے،بلکہ یہ کلام لغواور بیکارہے،اوربیوی کو ماں کہنایابہن کہنا مکروہ ہےاس لئے اسےگریزکرناچاہئے،باقی لفظ "طلاق" ہو چونکہ صریح لفظ ہے،اس لئے اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقعی ہوگئی ہے،عبدالحسیب عدت میں رجوع کرسکتا ہے،جس کے بعد اس کو آئندہ کیلئے فقط دو طلاقوں کا حق باقی رہے گابصورتِ دیگر بیوی ایک طلاق سے بائنہ ہوجائیگی اور نکاح ختم ہوجائے گا۔
حاشية ابن عابدين:
والذي في الفتح وفي أنت أمي لا يكون مظاهرا وينبغي أن يكون مكروها فقد صرحوا بأن قوله لزوجته يا أخية مكروه وفيه حديث رواه أبو داود أن رسول الله سمع رجلا يقول لامرأته يا أخية فكره ذلك ونهى عنه ومعنى النهي قربه من لفظ التشبيه ولو لا هذا الحديث لأمكن أن يقول هو ظهار لأن التشبيه في أنت أمي أقوى منه مع ذكر الأداة ولفظ يا أخية استعارة بلا شك وهي مبنية على التشبيه لكن الحديث أفاد كونه ليعين ظهارا حيث لم يبين فيه حكما سوى الكراهة والنهي فعلم أنه لا بد في كونه ظهارا من التصريح بأداة التشبيه شرعا ومثله أن يقول لها يا بنتي أو يا أختي ونحوه.(كتاب الطلاق:مطلب بلاغات محمد-رحمه الله: ص:3/ 470:ط:ايج،ايم،سعيد)
Mufti
تاریخ جواب: 16 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔