سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-277 Fatwa no: 1447-277

اپنی بیوی کو "تم میری ماں،بہن اورخالہ طلاق ہو"کہنے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ مسمی عبدالحسیب اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ کسی معاملہ پر الجھ گیا معاملہ لڑائی کی حد تک پہنچ گیا،اس دوران عبدالحسیب نے اپنی بیوی مسمی حلیمہ کو مخاطب کرکے مذکورہ الفاظ استعمال کئے،کہ حلیمہ آپ مجھ پرمور،ترور،خور(ماں ،خالہ،بہن) طلاق ہو،پھر بہن نے عبدالحسیب کے منہ پر ہاتھ رکھ کر خاموش کیا،اس سے زیادہ کچھ نہیں بولا،اس پر والدہ ،تین بہنیں ،ایک بھائی اورایک ماموں زاد گواہ ہیں، کہ اس سے زیادہ کچھ نہیں بولا۔راہنمائی فرمائے کہ ا س کا کیا حکم ہے۔
جواب :

بصورت مسئولہ عبدالحسیب کا اپنی  بیوی کو" آپ مجھ پرمور،ترور،خور(ماں ،خالہ،بہن)کہنے سے   نہ بیوی اس  کی بہن بنی ہے،اور نہ ہی ان الفاظ کی وجہ سے اس پرکوئی طلاق واقع ہوئی ہے،بلکہ یہ کلام لغواور بیکارہے،اوربیوی کو ماں کہنایابہن  کہنا مکروہ ہےاس لئے اسےگریزکرناچاہئے،باقی لفظ "طلاق" ہو چونکہ صریح لفظ ہے،اس لئے اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقعی ہوگئی ہے،عبدالحسیب عدت میں رجوع کرسکتا ہے،جس کے بعد اس کو آئندہ کیلئے فقط دو طلاقوں کا حق باقی رہے گابصورتِ دیگر بیوی ایک طلاق سے بائنہ ہوجائیگی اور نکاح ختم ہوجائے گا۔
حاشية ابن عابدين:
والذي في الفتح وفي أنت أمي لا يكون مظاهرا وينبغي أن يكون مكروها فقد صرحوا بأن قوله لزوجته يا أخية مكروه  وفيه حديث رواه أبو داود أن رسول الله سمع رجلا يقول لامرأته يا أخية فكره ذلك ونهى عنه ومعنى النهي قربه من لفظ التشبيه ولو لا هذا الحديث لأمكن أن يقول هو ظهار لأن التشبيه في أنت أمي أقوى منه مع ذكر الأداة ولفظ يا أخية استعارة بلا شك وهي مبنية على التشبيه لكن الحديث أفاد كونه ليعين ظهارا حيث لم يبين فيه حكما سوى الكراهة والنهي فعلم أنه لا بد في كونه ظهارا من التصريح بأداة التشبيه شرعا ومثله أن يقول لها يا بنتي أو يا أختي ونحوه.(كتاب الطلاق:مطلب بلاغات محمد-رحمه الله: ص:3/ 470:ط:ايج،ايم،سعيد)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب