سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-278 Fatwa no: 1447-278

اپنےسگے بھائی کی رضاعی بہن کےساتھ نکاح کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو بندے ہیں،ان کا آپس میں چچا اوربھتیجے کا رشتہ ہے،چچا کا نام جواد ہے،جبکہ بھتیجے کا نام عادل ہے،جواد نے اپنی بھابھی کا دودھ پیا ہے،اور عادل نے اپنی دادی کا دودھ پیا ہے، عادل کا چھوٹا بھائی اپنی پھوپھو کی بیٹی سے شادی کرناچاہتاہے، کیا یہ رشتہ جائز ہےیانہیں؟راہنمائی فرمائیں۔
جواب :

بصورت مسئولہ  چونکہ دادی کا دودھ عادل نے پیاہے،اس لئے دادی  کے اصول وفروع عادل پرتو حرام ہیں،البتہ عادل کے بہن بھائیوں  چاہےعادل سے چھوٹے ہوں یا بڑے اپنے چچازاد اورپھوپھی  زاد بہن بھائیوں کے ساتھ نکاح کرنا شرعا درست ہے،اس میں کوئی حرج نہیں ،بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔
في سنن ابن ماجه: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ الحَجَّاجٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَعَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ" (بَابٌ: يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ3/ 119)
 في العناية شرح الهداية: (وَيَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ بِأُخْتِ أَخِيهِ مِنْ الرَّضَاعِ) ؛ لِأَنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِأُخْتِ أَخِيهِ مِنْ النَّسَبِ وَذَلِكَ مِثْلُ الْأَخِ مِنْ الْأَبِ إذَا كَانَتْ لَهُ أُخْتٌ مِنْ أُمِّهِ جَازَ لِأَخِيهِ مِنْ أَبِيهِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا. (باب الرضاع:3/ 450:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 17 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب