نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ حرام کا لفظ آج کل کے عرف میں طلاق صریح بن چکا ہے،لہذااس سے بغیر نیتِ طلاق کےبھی طلاق بائن واقع ہوجائیگی ،بصورت مسئولہ چونکہ شخص مذکورنے اپنی بیوی کی حرمت کو اس کی ماں کے گھر جانےپر معلق کیا ہے ،لہذا اگر شخص مذکور اپنی ساس کے گھر جائےگا،تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائیگی،طلاق واقع ہوجانےکےبعد اگرنکاح کرناچاہتے ہیں تونئے مہر کےساتھ تجدید نکاح کرنا ضروری ہے،تجدید نکاح کےبعدشخصِ مذکور صرف دو طلاقوں کا مالک ہوگابصورت دیگر اس کی بیوی اس سے فارغ ہوجائیگی اور تین ماہواری گزرنے کےبعد وہ جہاں نکاح کرنا چاہے کرسکتی ہے۔
في حاشية ابن عابدين: وإن الحرام في الأصل كناية يقع بها البائن لأنه لما غلب استعماله في الطلاق لم يبق كناية ولذا لم يتوقف على النية أو دلالة الحال ولا شيء من الكناية يقع به الطلاق بلا نية أو دلالة الحال كما صرح به في البدائع. (3/ 299:دارالفكر)
وفي الرد المحتار:ولو قال حلال أيزدبروي أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال رها كردم أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الناس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن لولا ذلك لوقع به الرجعي
والحاصل أن المتأخرين خالفوا المتقدمين في وقوع البائن بالحرام بلا نية حتى لا يصدق إذا قال لم أنو لأجل العرف الحادث في زمان المتأخرين فيتوقف الآن وقوع البائن به على وجود العرف كما في زمانهم .
Mufti
تاریخ جواب: 16 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 17 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔