سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-280 Fatwa no: 1447-280

بدلِ خلع کےطور پربچیوں کو شوہرکےحوالے کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں  کہ ایک شوہرسے اس کی بیوی خلع لینا چاہتی ہے،جبکہ اس کی دو بیٹیاں بھی ہیں،شوہر خلع سے انکاری ہے،ہرصورت میں گھر آباد کرناچاہتا ہے،لیکن بیوی خلع لینے پربضد ہے،جرگے میں بھی خلع لینے پرزور دیاگیاہے،نیز مہرکی رقم دو لاکھ روپے ہیں۔شریعت کی روشنی میں رہنمائی کریں، کہ کیا خلع لینے کی صورت میں  عورت حقِ مہر واپس کریگی یانہیں؟جبکہ عورت بچیوں کو والد کے حوالے کرنے کوہی خلع کاعوض کہہ رہی  ہے،جبکہ خاوند مہر کی رقم کے عوض جرگہ والوں کی مشاورت سے خلع دینے پرراضی ہواہے۔
نوٹ؛کیا عورت  بچوں  کو اپنے ہی والد کے حوالے کرنے کو خلع کا عوض قرار دےسکتی ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب :

خلع کا مطلب یہ ہے کہ جب بیوی اپنےشوہرسے جان خلاصی چاہتی ہو،اور شوہرطلاق  دینے کےلئے تیار نہ ہو،تو اس صورت میں بیوی اپنی جان کے عوض  شوہرکو کچھ مال دیتی ہےاور اس کے عوض شوہر اس کو چھوڑ دیتا ہے،اسی کو شریعت کی اصطلاح میں خلع کہتے ہیں۔
بصورتِ مسئولہ  جب شوہر بیوی   کو رکھنے کےلئے  تیار ہے،تو بیوی کو بھی چاہئے کہ جذبات کے بجائے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے،اس لئے کہ خلع یا طلاق کے برے اثرا ت صرف شوہر اور بیوی  تک منحصر نہیں ہوتے،بلکہ اولاد اوردونوں کے  خاندان بھی اس کے شکار ہوجاتے ہیں، اس کےلئے بہتر طریقہ یہ ہے،کہ عام جرگہ کے بجائے میاں بھی کسی دارالافتاء میں تشریف لے جائیں اورمفتی کے سامنے ساری صورتِ حال رکھیں۔ان شاء اللہ مفتی صاحب جو فیصلہ کرینگے وہ دونوں کے حق میں مفید ہوگا تاہم اگرعورت اپنے شوہر سے جان چھوڑانے پرمصر ہے،تو شوہر کو اپنی بیوی  کو دئے ہوئے حقِ مہر کا مطالبہ  کرنا جائز ہے،عورت کا  اپنی بچیوں کو  بدلِ خلع قرار دینا شرعا درست نہیں ،بچیاں  تو ہرصورت میں شوہر کی  ہیں،اگرچہ نو سال تک ماں اپنے ساتھ پرورش کی غرض سے رکھ سکتی ہے۔
نوٹ: اگر بیوی شوہر کی طرف سے کوئی ظلم  یا زیادتی کی وجہ سے  خلع لینے پر مجبور ہوگئی ہو،تو  شوہر کو بھی اللہ تعالی سے ڈرنا چاہئے،اور بیوی کو بیوی سمجھ کر رکھنا چاہئے،بصورتِ دیگر اس کو طلاق دے کر اچھی طریقہ سے رخصت کرناچاہئے،یہی شریعت کا حکم ہے
قال الله تعالى :وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا [النساء: 35]
قال الله تعالى:{فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ  [البقرة: 229]
في سنن أبي داود :عن عائشة: أن حبيبةَ بنتَ سهل كانت عند ثابت بن قيس بن شمَّاس فضربها، فكسر بعضَها، فأتت رسولَ اللهِ - صلَّى الله عليه وسلم - بعدَ الصُّبْحِ فاشتكته إليه، فدعا النبي - صلَّى الله عليه وسلم - ثابتاً فقال: "خُذْ بَعْضَ مالِها وفارِقها" فقال: ويَصْلُح ذلك يا رسولَ الله؟ قال "نعم" قال: فإني أصدقتُها حديقَتْينِ وهما بيدها، فقال النبي - صلَّى الله عليه وسلم -: "خُذْهما وفَارِقْها" ففعل(باب الخلع:3/ 545)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026