سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-281 Fatwa no: 1447-281

ایک مجلس میں اکٹھی تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں  کہ ایک آدمی جس کی عمرساٹھ(60)سال ہے،اور بلڈ پریشر کا مریض بھی ہے،جب ان کو غصہ آتا ہے،تو پھر سمجھ نہیں آتی کہ کیا کہا گیا ہے،سائل کی اپنی منکوحہ مسماۃ آشاں بی بی کے ساتھ  مورخۃ10اکتوبر2023 کو لڑائی ہوئی،تو غصہ میں  دو مرتبہ بول دیا کہ تمھیں تین شرطوں کے ساتھ طلاق دیتا ہوں۔
اس کےبعد موصوف نے ایک دارالافتاء سے فتوی لیا ہے،اور فتوی میں لکھا ہے کہ اس سے ایک طلاق واقع ہوگئی ہے،کیونکہ ایک مجلس میں تین طلاقیں ایک ہوتی  ہے۔
محترم مفتیان حضرات یہ کیس میری اپنی بہن کا ہے، دارالافتاء سے جو فتوی لیا گیا ہے،اس میں دلائل کے ساتھ یہی ثابت کیا گیا ہے،کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں ایک ہی  شمار ہوتی ہے۔اورشوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے۔
اب اس پر مجھے میرے درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:۔
1-کیا مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں،یا ایک طلاق واقع ہوگئی ہے؟اور اگر تین واقع ہوگئیں ہیں،تو کیا اس پر قرآن مجید کی آیا ت  اوراحادیث  مبارکہ بھی موجود ہیں یا نہیں ؟ پوری تفصیل کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں ،تاکہ تشفی حاصل ہو۔
2-طلاق کے بعد ہمارے بہنوئی نے میرے چھوٹے بھائی کو یہ بتایا کہ میں نے تمہاری بہن کو تین شرائط کے ساتھ طلاق دے دی ہے،کیا یہ جملہ مستقل طلاق ہے یا سابقہ طلاق کی خبر ہے؟
3-موصوف اپنی بیوی کو یہ فتوی دکھا کر رجوع کا کہتے ہیں،کیا مذکورہ صورت میں ان کو رجوع کا حق حاصل ہے؟اور رجوع کی  صورت میں خاتون یا اس کے گھر والوں کےلئے کیا آپشن ہے؟اور ان کو کیا طریقہ روا رکھنا مناسب ہے؟
4-موصوف کا یہ بھی موقف ہے کہ تین شرائط سے قطعا میری نیت تین کی نہیں تھی،تو اس صورت میں اس کی نیت کا کوئی اعتبار ہے یا نہیں؟

جواب :

بصورتِ مسئولہ :۔1-شریعتِ مطہرہ  میں  طلاق ایک ناپسندیدہ عمل ہے،چنانچہ ایک حدیث مبارکہ میں آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ"حلال چیزوں میں اللہ تعالی کو سب سے ناپسندیدہ چیز طلاق ہے"اس حدیث شریف کا صاف اور واضح مطلب یہی ہے،کہ سخت مجبوری کے بغیر اس طرف ہرگز نہیں جانا چاہئے،البتہ اگر میاں بیوی کے درمیان کسی طریقے سے بھی نبا ممکن نہ ہو،تو پھر شریعت ہی نے دو ایسےطریقے بتا دئے ہیں،جن میں  میاں بیوی  دونوں کا فائدہ ہے،ان میں سے ا یک طریقہ یہ ہے، کہ بیوی کو ایسے  طہر میں ،جس میں مباشرت نہ  کی گئی ہو،ایک طلاق رجعی دی جائے،اور پھر عدت گزرنے کا انتظار کیا جائے،دوسرا طریقہ یہ ہے،کہ ہر طہر میں ایک طلاق دے دی جائے۔یہ دونوں طریقے مفید اس لئے ہیں کہ اس میں میاں بیوی کو سوچنے اور غور وفکر کا ایک طویل موقع مل جاتا ہے،لہذااگر وہ اس مدت کے اندر اندر صلح اورمفاہمت سے کام لیں،تو شوہر رجوع کرکےآسانی کےساتھ میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں،  لیکن اگر کوئی شخص شریعت کی  دی  ہوئی اس گنجائش اور اچھے طریقہ  کو نظر انداز کرکے عجلت اورجلدی سے کام لیتا ہے،اور ایک کے بجائے تین طلاق دے دیتا ہے(چاہے تین طلاق ایک ساتھ ہوں،یا الگ الگ ہوں،ایک مجلس  میں  یا الگ الگ مجالس میں ہوں)تو پھر طلاق اپنا اثر کرجاتی ہے،لہذاباوجود گناہ اور بدعت ہونے کے، تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں،مثال کے طور اپنی بیوی سے "ظہار"یعنی اس کو اپنی ماں بہن کےساتھ تشبیہ دینے کوقرآن مجید نے  بری اورجھوٹی بات کہا ہے،لیکن اس کے باوجود اگرکوئی اپنی بیوی  سے ظہار کرتا ہے،تو ظہار کاحکم لاگو ں ہوجاتا ہے،اسی طرح اپنی بیوی کو حالتِ حیض  میں طلاق دینا باعث گناہ  ہے،لیکن اگر کوئی حماقت کرکے طلاق دے دیتا ہے،تو طلاق واقع ہوجاتی ہے(اس میں کسی کا اختلاف نہیں )یہی معاملہ تین طلاقوں کا  بھی  ہے،تین طلاقیں اکٹھی دینا اگرچے شریعت کی نگاہ میں مذموم  اور باعث گناہ ہے،لیکن اس کے باوجود اگر کوئی  اس فعل شنیع کا ارتکاب کرتا ہے،تو تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں،چاہے ایک ساتھ دے،یاالگ الگ کرکے دے،لکھ کر کےدے، یا زبانی دے،ایک مجلس میں دے،یامختلف مجالس  میں دے۔ یہ مسئلہ قرآن،حدیث اور اجماعِ امت سے ثابت ہے،چنانچہ ملاحظہ ہو۔
وقال الله تعالی:( الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ....الآية (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ(البقرة،229،230) 
ترجمہ:طلا ق دو بار ہے،پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کردیاجائے۔(معارف القرآن)
اس آیتِ مبارکہ کے شانِ نز ول میں تقریبا مفسرین حضرات کا اتفاق ہے،کہ اللہ تعالی نے اس آیت کوزمانہ   جاہلیت میں مطلقہ بیوی پر ہونے والے ظلم اورجبر کو روکنے کےلئے  اتارا ہے،کیونکہ جب کوئی شوہر بیوی کو طلاق دیتا،تو پھر عدت گزرنے سے پہلے دوبارہ رجوع کرتا،پھر طلاق دیتا اورپھر رجوع کرتا ،جس کا مقصد صرف اورصرف اپنی منکوحہ کو لٹکا کے رکھنا تھا،تو اللہ تعالی نے یہ آیت اتاری کہ طلاق رجعی دو ہیں ،اس کے بعد اگر شوہر بیوی کو رکھنا چاہےتو اس کو اچھے طریقے سے رکھنے کی اجازت ہے،اور اگر نہیں رکھنا چاہتا،تو پھر اس کو اچھے طریقے سے چھوڑدے۔البتہ مشہور مفسرین ،محدثین اورفقہائے کرام نے اس آیت سے ایک دفعہ میں  تین طلاقیں دینے سے تینوں کے 

واقع ہونے پر استدلال کیا ہے ، اور وہ اس طرح کہ اس آیت کریمہ کا مضمون یہ ہے کہ طلاق رجعی دو ہیں ، اب اس میں دونوں احتمال ہیں ، کہ دو طلاقیں دو الگ الگ  طہر وں میں دیدی  جائیں یا ایک  طہر میں اکٹھی دونوں دیدی جائیں بہر صورت دونوں واقع ہوں گی ، اور جب ایک وقت میں دو طلاقیں واقع ہوسکتی ہیں ،تو تین کے واقع ہونے سے کیا مانع  ہے ؟نیزامام بخاری ؒ نے اپنی کتاب صحیح بخاری ميں (ص :2/791)تین طلاقیں واقع ہونے پر اسی آیت کریمہ سے استدلال کیا ہے۔
في تفسير القرطبي: الخامسة : ترجم البخاري على هذه الآية ( باب من أجاز الطلاق الثلاث بقوله تعالى : الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان ) وهذا إشارة منه إلى أن هذا التعديد إنما هو فسحة لهم فمن ضيق على نفسه لزمه قال علماؤنا واتفق أئمة الفتوى على لزوم إيقاع الطلاق الثلاث في كلمة واحدة وهو قول جمهور السلف وشذ طاوس وبعض أهل الظاهر إلى أن طلاق الثلاث في كلمة واحد يقع واحدة ويروى هذا عن محمد بن إسحاق و الحجاج بن أرطاة وقيل عنهما لا يلزم منه شيء وهو قول مقاتل ويحكى عن داود أنه قال لا يقع والمشهور عن الحجاج بن أرطاة وجمهور السلف والأئمة أنه لازم واقع ثلاثا ولا فرق بين أن يوقع ثلاثا مجتمعة في كلمة أو متفرقة في كلمات.... (3/ 120)
في أحكام القرآن للجصاص:قال أبو بكر قوله تعالى الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان الآية يدل على وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنها وذلك لأن قوله الطلاق مرتان قد أبان عن حكمه إذا أوقع اثنين بأن يقول أنت طالق أنت طالق في طهر واحد وقد بينا أن ذلك خلاف السنة فإذا كان في مضمون الآية الحكم بجواز وقوع الإثنتين على هذا الوجه دل ذلك على صحة وقوعهما لو أوقعهما معا لأن أحدا لم يفرق بينهما وفيها الدلالة عليه من وجه آخر وهو قوله تعالى فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الإثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهار فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور.( (2/ 83)ط: دار إحياء التراث العربي)

اس آیت پر علامہ وہبۃ الزحیلی لکھتے ہیں :
فهو يدل علی وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنه لان قوله تعالی "الطلاق مرتان" تنبيه الحكمة وطلق اثنين معا صح وقوعها اذلا تفريق بينهما ثم ان قوله تعالی "فلا تحل له من بعد حتی تنكح زوجا غيره يدل علی تحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنين ولم يفرق بين ايقاعها في طهر واحد او في اطهار ...الخ. ‘’ الفقه الاسلامي وادلته\ (7/41)
قرآنِ مجید کے بعد شرعی احکام کا سب سے بڑا ماخذ "احادیثِ رسول "ﷺ ہیں،اگر قرآنِ مجید کی کسی آیت میں بظاہر ابہام ہو،تو احادیث مبارکہ میں اس کی مکمل توضیح و تشریح موجود ہوتی ہے،اس لئے مذکورہ مسئلے کو بھی احادیث کی مستند کتا بوں  اور صحیح احادیثوں کی  روشنی میں دیکھتے ہیں،جس سے یہ بات بالکل  واضح ہوجائیگی، کہ تین  طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں،ایک نہیں ۔چنانچہ   ملاحظہ ہو۔
1۔: مخرمة عن أبيه قال سمعت محمود بن لبيد قال : أخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا فقام غضبانا ثم قال أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم حتى قام رجل وقال يا رسول الله ألا أقتله. (           في سنن النسائي :كتاب الطلاق:باب الثلاث المجموعة وما فيه من التعليظ: 6/ 142:ط:دارالمطبوعات)
اس حدیث میں صحابی بیان فرماتے ہیں:کہ آپﷺ کو کسی نے بتایا،کہ فلاں آدمی نے بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دیں،تو آپﷺ غصہ میں کھڑے ہوئے،اور فرمایا:میرے تمہارے اندر ہوتے ہوئےوہ "کتاب اللہ"کا مذاق اڑاتا ہے،تو ایک آدمی اٹھا اور کہنے لگا:اے اللہ کے رسول کیامیں اس کو قتل نہ کردوں؟"
مذکورہ حدیث میں " ثلاث تطليقات جميعا"کا جملہ استعمال ہوا ہے،جس کا ترجمہ ہے"اکٹھی تین طلاقیں" یہ بالکل صریح جملہ ہے،اس میں کسی اوراحتمال اور تاویل کی بالکل گنجائش نہیں ،ان اکٹھی تین طلاق کا سن کر آپﷺ غصہ ہوئے،اگر تین طلاقیں اکٹھی واقع نہ ہوتیں  ،تو پھر آپ ﷺ غصہ کیوں فرما گئے،لہذا اس حدیث سے یہ  بات بالکل صاف اورواضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں، ایک نہیں۔
2-عنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ فَأَخْبَرَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- بِذَلِكَ وَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلاَّ وَاحِدَةً. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ وَاحِدَةً ». فَقَالَ رُكَانَةُ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلاَّ وَاحِدَةً. 

فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم    (وفي سنن ابي داؤد:   كتاب الطلاق:باب البتة: 2/ 231:ط:داراللكتب العربي)
اس حدیث میں ہے:کہ رکانہؓ نے اپنی بیوی کو طلاق"البتہ"دی،اور آپﷺ کے سامنے قسم اٹھائی،کہ میں  نےایک ہی طلاق کا ارادہ کیا تھا،آپﷺ نے فرمایا :اللہ کی قسم کھا کر بتاؤ،کہ تم نے اس طلاق "البتہ" سےایک ہی طلاق کا ارادہ کیا تھا،اس نے کہا :اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں ،کہ میرا ارادہ ایک  ہی طلاق کا تھا،تو آپﷺ نے اس کی بیوی کو اس کو لوٹا  دیا"
اس حدیث  مبارکہ سے یہ بات بالکل  واضح ہوگئی کہ اگر ایک  لفظ(جو طلاق کے معنی پر دلالت کرتا ہو)سے بھی تین  طلاقوں کو ارادہ کیا جائے،تو تین واقع ہوجاتی ہیں، ،بصورتِ دیگر  آپ ﷺ رکانہ ؓسے قسم کا مطالبہ  نہ فرماتے۔
3۔ 
 عن ابن شهاب عن سهل بن سعد فى هذا الخبر قال فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فأنفذه رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وكان ما صنع عند النبى -صلى الله عليه وسلم- سنة.قال سهل حضرت هذا عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فمضت السنة بعد فى المتلاعنين أن يفرق بينهما ثم لا يجتمعان أبدا.( سنن أبى داود:كتاب اللعان 2/ 242:دارالكتاب العربي)
یہ ابوداؤد شریف کی دوسری  اوربالکل واضح حدیث ہے،جس میں یہ بات بتائی گئی  ہے کہ ایک صحابی (عویمر العجلانی) نے اپنی بیوی کو آپﷺ کے سامنے  تین طلاقیں دیں،اورآپﷺ نے ان کو نافذ فرمایا،مذکورہ روایت  ابوداؤد شریف کے علاوو "السنن الکبری:(/410)،المعجم الکبیر(6/117)،اورسنن دارقطنی(3/275) نے بھی منقول  ہے،اسی روایت کو "الشیخ البانیؒ "(جو  نقد میں زیادہ متشدد ہیں) نے بھی صحیح قرار دیا ہے۔
4-:عن معاوية بن أبي عياش الأنصاري :انه كان جالسا مع عبد الله بن الزبير وعاصم بن عمر بن الخطاب قال فجاءهما محمد بن إياس بن البكير فقال ان رجلا من أهل البادية طلق امرأته ثلاثا قبل ان يدخل بها فماذا تريان فقال عبد الله بن الزبير ان هذا الأمر مالنا فيه قول فأذهب إلى عبد الله بن عباس وأبي هريرة فإني تركتهما عند عائشة فسلهما ثم ائتنا فأخبرنا فذهب فسألهما فقال بن عباس لأبي هريرة افته يا أبا هريرة فقد جاءتك معضلة فقال أبو هريرة الواحدة تبينها والثلاثة تحرمها حتى تنكح زوجا غيره وقال بن عباس مثل ذلك قَالَ مَالِك وَعَلَى ذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا.(في المؤطا لامام ملك رواية يحيى الليثي: 2/ 571:ط:داراحياء التراث)
معاویۃبن ابی عیاش فرماتے ہیں،کہ میں عبداللہ بن زبیر ؓاور عاصم بن عمؓر کے پاس بیٹھا تھا،اسی دوران محمدبن ایاس آگئے،اور کہنے لگے،کہ ایک دیہاتی  نے اپنی بیوی کودخول (جماع)سے پہلے تین طلاقیں  دی ہیں،اس بارے میں آپ دونوں کی کیا رائے ہے؟تو عبداللہ بن زبیرؓ نے کہا:اس بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں،آپ عبداللہ بن عباس ؓاور ابوہریرۃ ؓکے پاس جائیں،میں(ابھی)ان کو عائشہؓ کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں،ان سے پوچھیں،پھر آکر ہمیں بھی  بتایئں،چنانچہ اس نےجاکر ان سےپوچھا،تو ابن عباس ؓنے ابوہریرۃؓسے فرمایا:آپ فتوی دیں ،آپ کے پاس ایک نیا مسئلہ آیا ہے،ابوہریرۃ ؓنے فرمایا:ایک طلاق اس کو بائنہ کردیتی ہے،اور تین طلاقیں ،اس کو حرام کردیتی ہیں(لہذا  وہ شوہر کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتی)جب تک دوسرے کے ساتھ نکاح نہ کرے،اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا۔امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ ہمارا بھی یہی معاملہ ہے(یعنی اکٹھی تین طلاقیں  واقع ہوجاتی ہیں)
26605- - وروينا عن عبد الله بن مسعود أن رجلا قال : إني  طلقت امرأتي مائة فقال : بانت منك بثلاث ، وسائرهن معصية.(السنن الصغرى للبيهقي)
6- 2661 - وعن عبد الله بن عباس في رجل طلق امرأته الفا  قال : إنها الثلاث فتحرم عليك امرأتك وبقيتهن عليك وزر ، اتخذت  آيات الله هزوا. (كتاب النكاح:باب من طلق امراته ثلاثا: 6/ 332:ط:مكتبة الرشد)
ان دو (2) روایات میں سے پہلی روایت میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے کہا:کہ میں نے اپنی بیوی کو  سو(100)طلاقیں دیں،اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:وہ تین طلاقوں کے ساتھ آپ سے بائن ہوگئی،اور سب کے سب گناہ  کا کام ہے(یعنی شرعی طریقہ چھوڑ کر سو طلاقیں دینا گناہ  ہے)
. جبکہ دوسری روایت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ہے،کہ جس  میں آپ نے ایک آدمی کے بارے میں ،جس نے اپنی بیوی کو سو(100) طلاقیں دی،فرمایا"کہ یہ تین ہی  ہیں یعنی تین واقع ہوگئیں۔اور وہ تم پر حرام  ہے،اور یہ (اضافی) طلاقیں  تم  پر بوجھ(گناہ) رہینگی،تو نے اللہ تعالی کی آیات کا مذاق اڑایا۔
 یہ ساری آحادیثِ مبارکہ اس باب میں بالکل واضح  ،صاف اورشفاف ہیں کہ اکٹھی تین طلاقیں دینے سے تینوں طلاق واقع ہوجاتی ہیں ۔
یہ چند آحادیث بطورِ مثال ذکر کی گئیں ، ان کے علاوہ  اور بھی بہت ساری صحیح آحادیث  اس باب میں موجود ہیں۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت عمر،حضرت عثمان ،حضرت علی ،حضرت عبداللہ بن مسعود،حضرت عبداللہ بن عباس ،حضرت عبداللہ بن عمر،حضرت عمران بن حصین،حضرت مغیرہ بن شعبہ –رضی اللہ عنہم-کے علاوہ اور بہت سارے صحابہ کرام   کی صریح مرویات موجود ہیں،جس میں تین طلاق اکٹھی واقع ہونے  خبر دی گئی ہے۔المصنف لابن ابی شیبہ: 18087تا18109)
رہی وہ  روایت جس کو طلاق ثلاثہ کو  ایک  طلاق شمار ہونے پر پیش کیا جاتاہے،قابل عمل نہیں،اس لئے کہ اس قول کےقائل ابن عباسؓ ہیں،حالانکہ ابن عباسؓ کا عمل خود اس قول کے خلاف ہے،جیساکہ اوپر مذکور ہے۔وہ روایت درج ذیل ہے:۔

ان اباء الصهباء قال لابن عباس:اتعلم ان الثلاث كانت تجعل واحدة على عهد رسول الله –صلى الله عليه واله وسلم-وابي بكر،وثلاثا من امارة عمر؟قال ابن عباس:نعم"(صحيح مسلم:2/1099)
اس روایت کا مفہوم یہ ہے کہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے ایک شاگرد ابو صہباء نے  آپ سے دریافت کیا  کہ کیا آپ کو معلوم ہیں کہ  اکٹھی تین طلاقیں آپ ﷺ،حضرت ابوبکر اورحضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی تین سالوں تک ،ایک  شمار ہوتی تھیں،توحضرت ابن عباس نے فرمایا:جی  ہاں!
اب صرف اسی روایت کو لے کر اکٹھی تین طلاقوں کو ایک قرار دینا سمجھ سے بالا تر ہے، کیونکہ اس میں صرف شاگرد نے ایک علمی سوال پوچھا،کہ  کیا  واقعتا اکٹھی تین طلاقیں ،آپ ﷺ،حضرت ابوبکر اورحضرت عمررضی اللہ عنہما کی خلافت کے ابتدائی تین سالوں تک ،ایک  شمار ہوتی تھیں،تو ابن عباس  رضی اللہ عنہ نے فرمایا:جی ہاں!۔اب اس سے  کہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ہاں  اکٹھی تین طلاقیں ایک واقع ہوتی  ہیں،بلکہ  مسلم شریف  کی اس روایت کے متصل بعد دوسری   روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ  نے  خود اس کی وجہ بھی بتائی ،کہ حضرت نے عمر ایسا کیوں کیا تھا،چنانچہ فرماتے ہیں" فقال قد كان ذلك فلما كان في عهد عمر تتايع الناس في الطلاق فأجازه عليهم" (ایسا ہی تھا یعنی تین طلاقیں ایک واقع ہوتی تھیں،لیکن جب حضرت عمر کا زمانہ شروع ہوا تو لوگوں نے پے درپے  طلاق  دینا شروع کردیں،تو آپ نے ان پر تین طلاق نافذ ہونے کا حکم دے دیا) اب اس روایت میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ  عنہ وجہ بھی بتا دی ،کہ حضرت عمر نے ایسا کیوں فرمایا تھا،نیز اس روایت  اوراس کے علاوہ اس  جیسی اور روایات سے  یہ بالکل معلوم نہیں ہوتا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے جمہور صحابہ  کرام  کی رائے کے مخالف تھی۔بلکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ حضرت عمر کا فیصلہ طلاق کی ایک خاص صورت کے بارے میں تھا وہ یہ کہآپﷺ ،ابوبکر اور عمر کی دور خلافت کے ابتدائی ایام میں لوگوں کا  رواج یہ تھا، کہ وہ  طلاق یوں دیتےتھے"انت طالق،طالق،طالق،اس تکرار سے ان کا مقصد تین طلاقیں نہیں ہوتیں ،بلکہ تاکید ہواکرتی تھی،اس لئے قضاء بھی ایک طلاق واقع ہوجاتی تھی،لیکن عمر کے زمانے میں لوگوں کی حالات میں کافی تبدیلی آچکی تھی،امانت و دیانت کا  وہ پہلے والا معیار باقی نہیں رہا تھا،اس وجہ سے آپ نے صحابہ کے مشورے سے یہ فیصلہ صادر فرمایا:کہ آج کے بعد جو شخص طلاق کا مذکورہ طریقہ اختیار کرےگا،تو اس سے تین طلاقیں واقع ہونگی نہ کہ ایک- چناچہ  الفقہ الاسلامی میں مذکور ہے"
انه(قول ابن عباس)محمول على صورة تكرير لفظ الطلاق ثلاث مرات،بان يقول:(انت طالق،طالق،طالق)فانه يلزمه واحدة اذا قصد تكرير الايقاع،فكان الناس  على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم-وابي بكر على صدقهم وسلامتهم...فلما راى عمر في زمانه امورا ظهرت واحوالا تغيرت وفشا ايقاع الطلاق جملة بلفظ لا يحتمل التاويل...الزمهم الثلاث في صورة التكرير.(كتاب الطلاق:باب انحلال الزواج:7/390:ط:دار الفكر)
اب شاید کسی کے ذہن میں یہ بات آئے کہ جب آپﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ  میں اس مسئلہ کے حکم ایک تھا، تو پھر  حضرت عمر نے  اس میں کیسے تبدیلی کی،تو اس بارے میں امام طحاوی ؒ فرماتے ہیں:-
"...کہ حضرت عمر نے سارے لوگوں کو خطاب کیا،ان میں  آپ ﷺ کے وہ اصحاب بھی موجود تھے،جن کو اس مسئلہ کے بارے میں  علم تھا(کہ آپﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اس طریقے سے دی گئی تین طلاقیں ایک ہوتی تھیں)ان میں سے کسی نے حضرت عمر کے اس فیصلے پر نکیر نہیں کی،اور نہ ہی کسی نے  اس کا دفاع کیا،تو یہ ما قبل والے حکم(تین طلاقوں کا ایک ہونا) کے منسوخ ہونے کی سب  سےبڑی دلیل ہے،اس لئے کہ جس طرح سارے صحابہ کرام کسی بات پرمتفق ہوجائیں  وہ تو وہ بات دلیل بن جاتی ہے،ایسے ہی جب وہ کسی فعل پر متفق ہوجائے،تو وہ دلیل بن جاتاہے(اس پر عمل ضروری ہوتاہے)اور جس طرح صحابہ کا کسی روایت پر متفق ہوجانا وہم اور گمراہی سے دور تھا ایسا ہی ان کا کسی رائے پر متفق ہونا بھی وہم اورگمراہی سے دور تھا۔
"فخاطب عمر رضي الله عنه بذلك الناس جميعا وفيهم أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ورضي عنهم الذين قد علموا ما تقدم من ذلك في ذلك في زمن رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم ينكره عليه منهم منكر ولم يدفعه دافع فكان ذلك أكبر الحجة في نسخ ما تقدم من ذلك لأنه لما كان فعل أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم جميعا فعلا يجب به الحجة كان كذلك أيضا إجماعهم على القول إجماعا يجب به الحجة وكما كان إجماعهم على النقل بريئا من الوهم والزلل كان كذلك إجماعهم على الرأي بريئا من الوهم والزلل."
اس کے بعد امام طحاوی کئی مثالوں سے بات واضح کرتے ہیں کہ ایسے کئی مسائل ہیں،کہ  جو آپ ﷺ کے  زمانہ میں  ان کی نوعیت کچھ اور تھی  ،لیکن بعد میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس میں تبدیلی فرمائی۔ چنانچہ فرماتے ہیں؛۔
"کہ امہات الاولاد کی خریدوفروخت سے صحابہ کرام نے منع فرمایا ،حالانکہ  پہلے ان کی خرید وفروخت ہوتی تھیں،اسی طرح  آپ ﷺ کے  ز مانہ  میں شراب کی حد کی مقدارمقر ر نہیں تھی،بعد میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے  اس حد کی مقدار مقرر کی ،لہذا جب ہمیں صحابہ کرام کاکسی  کام یا فعل پراجماع کا علم ہوجائے،تو پھر ہمیں ا س کا خلاف کرنا جائز نہ ہوگا...ایسا ہی جب ہمیں اس بات پرصحابہ کے اجماع کا علم ہوا،کہ اکٹھی تین طلاقیں  واقع کرنے سے واقع ہوجاتی ہیں،تو اب اس کا خلاف کرنا ہمیں جائز نہ ہوگا( یہ  کہتے ہوئے کہ پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا)۔حالانکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ  اکٹھی تین طلاق واقع کرنے کا فتوی  دیتے تھے۔

"وقد رأينا أشياء قد كانت على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم على معاني فجعلها أصحابه رضي الله عنهم من بعده على خلاف تلك المعاني لما رأوا فيه مما قد خفي على من 
بعدهم فكان ذلك حجة ناسخا لما تقدمه من ذلك...المنع من بيع أمهات الأولاد وقد كن يبعن قبل ذلك والتوقيت في حد الخمر ولم يكن فيه توقيت قبل ذلك فلما كان ما عملوا به من ذلك ووقفنا عليه لا يجوز لنا خلافه الى ما قد رأيناه مما قد تقدم فعلهم له كان كذلك ما وقفونا عليه من الطلاق الثلاث الموقع معا انه يلزم لا يجوز لنا خلافه الى غيره مما قد روي أنه كان قبله على خلاف ذلك ثم هذا بن عباس رضي الله عنهما قد كان من بعد ذلك يفتي من طلق امرأته ثلاثا معا أن طلاقه قد لزمه وحرمها عليه".( شرح معاني الآثار :كتاب الطلاق: 3/ 56:دارالكتاب العلمية)
یہی مسلک ہے،ائمہ اربعہ(امام ابوحنیفہؒ،امام مالک ،ؒامام شافعی اؒور امام احمد ؒکا) اور جمہور تابعین کا،چنانچہ علامہ ڈاکٹروھبۃ الزحیلی اپنی مشہور تالیف "الفقہ الاسلامی وادلتہ"میں لکھتے ہیں:
وهو قول الجمهور،منهم ائمة المذاهب الاربعة،والظاهرية،وهو منقول عن اكثرالصحابة،ومنهم الخلفاء الراشدون غير ابي بكر،والعبادلة الاربعة. (كتاب الطلاق:باب انحلال الزواج:7/390:ط:دارالفكر)                                                                             
2-مذکورہ صورت میں جب آپ کے بہنوئی نے آپ کے چھوٹے بھائی کو تین طلاقوں کے بارے میں بتا یا ،تو یہ طلاق کی خبر ہے،اور طلاق کی خبر دینے سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی،لیکن چونکہ  آپ کے بہنوئی نے  پہلے سے تین طلاقیں دی تھیں،اس لئے اس خبر سے کوئی  فرق نہیں  پڑے گا۔
3۔ تین  طلاقوں کے بعد شوہر نہ رجوع کرسکتا ہے،اورنہ دوبارہ نکاح کرسکتا ہے، الاّ یہ کہ خاتون عدت گزارنے کےبعدکسی  اور جگہ نکاح کرے  پھر شوہر حقوق زوجیت ادا کرنے کے بعد اس کو طلاق دے یا شوہر فوت ہوجائے اور اس کے بعد بیوی کی عدت گزر جائے ، عدت گزرنے کے بعد اگر وہ سابقہ شوہر  کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہے تو کرسکتی ہے لہذا  سابقہ شوہر کابیوی کے ساتھ تعلق ِزوجیت قائم رکھنا شرعاًناجائز وزنا شمار ہو گا ،مذکورہ صورت میں کسی اورجگہ سے  جواز ِنکاح کافتوی حاصل کرنے سے وہ عورت شوہر کے لئے ہر گز حلال نہ ہو گی ۔جہاں تک عورت کے خاندان والوں کی ذمہ داری  ہے وہ یہ کہ وہ اپنی بہن ،بیٹی کو اس سے دور رکھیں ،اور اگر وہ  اس پر قادر ہوں ،اور پھر بھی منع نہیں کیا ،تو پھر سب  اس جرم اور گناہ میں  میں شریک ہونگے۔
4- مذکورہ صورت میں چونکہ الفاظِ طلاق صریح اور بالکل واضح ہیں،اس لئے  ان میں نیت کی ضرورت نہیں ہوتی ،بغیر نیت کےبھی طلاق واقع ہوجاتی ہے،دوسرا یہ کہ اگر نیت نہیں تھی ،تو پھر "تین "کا عدد ذکرکرنے کی ضرورت کیا تھی۔اسی طرح اگر وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے تین  شر ط بولا ہے،تین طلاق نہیں ،تو اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں ،کیونکہ بیوی کو"تو تین شرطوں کے ساتھ طلاق ہے" کہنے سے عرف میں  طلاق ہی مراد ہوتی ہے۔
خلاصہ کلام:
خلاصہ کلام یہ ہے،کہ کسی عورت کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے سے تینوں طلاقیں اس پر واقع ہوجاتی ہیں اور وہ ہمیشہ کےلئے شوہرپر حرام ہوجاتی ہے،اور وہ دوبارہ بغیر حلالہ شرعیہ شوہرکے نکاح میں نہیں آسکتی۔
قال الله تعالى: ﵟٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُواْ مِمَّآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ شَيۡـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَاۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ 229 فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ﵞ [البقرة: 229-230] 

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026