سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-24 Fatwa no: 1447-24

بیوی کو بہن کہنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگرآئندہ تو شادی میں گئی ،تو تو میری بہن ہے ، کیا یہ الفاظ لغو ہونگے یا ظہار ہوگا،یا طلاق بائن ہوگی ؟ کیونکہ بیوی کی بہن کی شادی ہے ،وہ جانا چاہتی ہے لیکن وہ ابھی تک گئی نہیں ہے ۔ تنقیح:شوہر نے کسی بھی چیز کی نیت نہیں کی تھی ۔

جواب :

صورت مسئولہ میں شخص مذکور کا اپنی بیوی کو یہ کہنا کہ "اگر آئندہ تو شادی میں گئی ،تو تو میری بہن ہے،"یہ جملہ لغو ہے ،اس لئے اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی مگر ایسا کہنا مکروہ ہے ،اس سے اجتناب کرنا چاہئے ۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
(وَإِلَّا) يَنْوِ شَيْئًا، أَوْ حَذَفَ الْكَافَ (لَغَا)وَتَعَيَّنَ الْأَدْنَى أَيْ الْبِرُّ، يَعْنِي الْكَرَامَةَ. وَيُكْرَهُ قَوْلُهُ أَنْتِ أُمِّي وَيَا ابْنَتِي وَيَا أُخْتِي وَنَحْوَه.
(قَوْلُهُ: أَوْ حَذَفَ الْكَافَ) بِأَنْ قَالَ: أَنْتِ أُمِّي، وَمِنْ بَعْضِ الظَّنِّ جَعْلُهُ مِنْ بَابِ زَيْدٌ أَسَدٌ دُرٌّ مُنْتَقًى عَنْ الْقُهُسْتَانِيِّ.قُلْت: وَيَدُلُّ عَلَيْهِ مَا نَذْكُرُهُ عَنْ الْفَتْحِ مِنْ أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ التَّصْرِيحِ بِالْأَدَاةِ (قَوْلُهُ: لَغَا) لِأَنَّهُ مُجْمَلٌ فِي حَقِّ التَّشْبِيهِ فَمَا لَمْ يَتَبَيَّنْ مُرَادٌ مَخْصُوصٌ لَا يُحْكَمُ بِشَيْءٍ فَتْحٌ.
(باب الظهار،ج3،ص470،ط:دارالفكر)
وفى الفتاوى الهندية:
لو قال لها: أنت أمي لا يكون مظاهرا وينبغي أن يكون مكروها ومثله أن يقول: يا ابنتي ويا أختي ونحوه.
(الباب التاسع فى الظهار،ج1،ص507،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026