نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگرآئندہ تو شادی میں گئی ،تو تو میری بہن ہے ، کیا یہ الفاظ لغو ہونگے یا ظہار ہوگا،یا طلاق بائن ہوگی ؟ کیونکہ بیوی کی بہن کی شادی ہے ،وہ جانا چاہتی ہے لیکن وہ ابھی تک گئی نہیں ہے ۔ تنقیح:شوہر نے کسی بھی چیز کی نیت نہیں کی تھی ۔
صورت مسئولہ میں شخص مذکور کا اپنی بیوی کو یہ کہنا کہ "اگر آئندہ تو شادی میں گئی ،تو تو میری بہن ہے،"یہ جملہ لغو ہے ،اس لئے اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی مگر ایسا کہنا مکروہ ہے ،اس سے اجتناب کرنا چاہئے ۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
(وَإِلَّا) يَنْوِ شَيْئًا، أَوْ حَذَفَ الْكَافَ (لَغَا)وَتَعَيَّنَ الْأَدْنَى أَيْ الْبِرُّ، يَعْنِي الْكَرَامَةَ. وَيُكْرَهُ قَوْلُهُ أَنْتِ أُمِّي وَيَا ابْنَتِي وَيَا أُخْتِي وَنَحْوَه.
(قَوْلُهُ: أَوْ حَذَفَ الْكَافَ) بِأَنْ قَالَ: أَنْتِ أُمِّي، وَمِنْ بَعْضِ الظَّنِّ جَعْلُهُ مِنْ بَابِ زَيْدٌ أَسَدٌ دُرٌّ مُنْتَقًى عَنْ الْقُهُسْتَانِيِّ.قُلْت: وَيَدُلُّ عَلَيْهِ مَا نَذْكُرُهُ عَنْ الْفَتْحِ مِنْ أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ التَّصْرِيحِ بِالْأَدَاةِ (قَوْلُهُ: لَغَا) لِأَنَّهُ مُجْمَلٌ فِي حَقِّ التَّشْبِيهِ فَمَا لَمْ يَتَبَيَّنْ مُرَادٌ مَخْصُوصٌ لَا يُحْكَمُ بِشَيْءٍ فَتْحٌ.
(باب الظهار،ج3،ص470،ط:دارالفكر)
وفى الفتاوى الهندية:
لو قال لها: أنت أمي لا يكون مظاهرا وينبغي أن يكون مكروها ومثله أن يقول: يا ابنتي ويا أختي ونحوه.
(الباب التاسع فى الظهار،ج1،ص507،ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔