سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-283 Fatwa no: 1447-283

بیوی کو "تجھے طلاق ہے ایک دو تین"کہنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ موبائل فون پر بات کررہا تھا،باتوں باتوں میں مجھے غصہ آیا اور میں نے کہا کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں ایک ،دو،تین۔اگر تو نے موبائل کسی کو دیا یابند کیا،میری بیوی کو آواز نہیں آرہی تھی،اس نے موبائل میری امی کو دےدیا،کیا یہ طلاق واقع ہوگئی،اسلامی تعلیمات کے مطابق رہنمائی فرمائیں۔

جواب :

بصورتِ مسئولہ  چونکہ آپ نے بیوی کی طلاق کو  فون  بند کرنے یا کسی اورکو دینے کی شرط پر معلق کیا تھا ،اورپھر بیوی نے اس شرط کی  مخالفت  بھی  کرلی ہے ،لہذا اس سے بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے ،لہذا آپ  کو عدت (تین ماہواریاں)کے اندراندر رجوع کا حق حاصل ہے۔ایک طلاق اس لئے واقع ہوگئی،کہ "میں تجھے طلاق دیتا ہوں" مستقل جملہ ہے،اور "ایک ،دو ،تین" کا بظاہر اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ،اس لئے مذکورہ صورت میں عورت پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے۔
في حاشية ابن عابدين:( والطلاق يقع والطلاق يقع بعدد قرن به لا به ) أي متى قرن الطلاق بالعدد كان الوقوع بالعدد بدليل ما أجمعوا عليه من أنه لو قال لغير المدخول بها أنت طالق ثلاثا طلقت ثلاثا ولو كان الوقوع بطالق لبانت لا إلى عدة فلغا العدد ومن أنه لو قال أنت طالق واحدة إن شاء الله لم يقع شيء ولو كان الوقوع بطالق لكان العدد فاصلا فوقع (مطلب الطلاق يقع بعدد قرن به لا به  قوله 3/ 287 دارالفكر)
فتاوی حقانیہ میں مذکور ہے:
سوال-:ایک شخص نے اپنی بیوی سےکہا،ایک دو تین تم طلاق ہو۔ایسی حالت میں عورت پر کونسی طلاق واقع ہوگی،کیا اس سے منکوحہ مطلقہ مغلظہ بنتی ہے،یاطلاق رجعی واقع ہوگی۔
جواب-:اگر اس عدد کے ساتھ نسبت ہو یعنی عورت سے یوں کہے"تجھے ایک دو تین تم طلاق ہو،ظاہر ہے کہ  اضافت کی موجودگی میں  اس سے تین طلاق واقع ہوگی،لیکن جب اضافت نہ ہو صرف یہ ہو کہ "ایک دو تین تم طلاق ہو،یا تم طلاق ہو ایک دو تین،ایسی حالت میں" تم طلاق  ہو"مستقل جملہ مبتداء خبر ہوکر عدد سے بظاہر اس کا کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا،اس لئے عدد لغو ہوکر ایک طلاق رجعی واقع ہوگی،تاہم اگر یوں کہا کہ تم ایک دو تین طلاق یا تم طلاق ایک دو تین ہو،تو اس سے لازمی طور پر تین طلاق واقع ہوں گی۔

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026