سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-284 Fatwa no: 1447-284

بیوی کے بارے میں طلاق کی جھوٹی خبر دینے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔!!
سات مہینے پہلے میرے شوہر نے دوسرا نکاح کر لیا تھا اور مجھے گھرسے امی کے گھر بھیج دیا تھا مگر انہوں نے مجھے طلاق نہیں دی تھی ۔۔۔میں ابھی تک ان کے نکاح میں ہوں وہ مہینے ڈیڑھ مہینے بعد ایک آدھ گھنٹے کے لیے چکر بھی لگاتے ہیں میرے ساتھ فون پر بھی بات کرتے ہیں  ۔۔۔لیکن انہوں نے پورے خاندان میں یہ بات مشہور کی ہوئی ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو فارغ کیا ہوا ہے اس کو ہمیشہ کے لیے اس کی ماں کے گھر چھوڑ دیا ہے ...اس بات سے ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ فیملی والوں سے اپنی بیوی کو چھپا کر رکھے تاکہ ان کی فیملی میں کسی کو بھی نہ پتہ چلے کہ وہ اب تک ان کے نکاح میں ہے  ۔۔۔۔۔مجھے یہ جاننا ہے کہ اُن کے اِن الفاظ سے ہماری طلاق ہو چکی ہے یا ابھی تک ہمارا نکاح باقی ہے؟؟ 
تنقیح۔اس میں میاں بیوی کے درمیان  کوئی اختلاف نہیں ،صرف بیوی تسلی کےلئے پوچھ رہی ہے۔
تنقیح1۔:شوہر کے زہن میں طلاق کی بالکل کوئی بات نہیں،صرف گھر والوں سے بات راز میں رکھنے کےلئے ایسا کہا ہے۔

جواب :

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
واضح رہےکہ شوہر اگر جھوٹ بول کر طلاق کا اقرار کرے،اور اس پر کسی کو گواہ نہ بنائے،تو اس صورت میں  قضاء طلاق واقع ہوجاتی ہے،،تاہم دیانۃ یعنی اس کے اوراللہ کے درمیان طلاق واقع نہیں ہوتی۔
بصورتِ مسئولہ شوہر نے اگرچہ طلاق کا جھوٹا اقرار کیا ہے،لیکن   میاں بیوی  میں کوئی اختلاف نہیں ،بلکہ دونوں اس بات پر متفق ہیں،کہ شوہر نے طلاق نہیں دی ہے،لہذا مذکورہ صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔
في البحر الرائق : وقيدنا بالإنشاء لأنه لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع كما لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا  كذا في الخانية من الإكراه  ومراده بعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة لما في فتح القدير ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء ا هـ  وصرح في البزازية بأن له في الديانة إمساكها إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة  واستثنى في القنية من الوقوع قضاء ما إذا أشهد قبل ذلك لأن القاضي يتهمه في إرادته الكذب فإذا أشهد قبله زالت التهمة(كتاب الطلاق: 3/ 264:دارالمعرفة)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026