سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-285 Fatwa no: 1447-285

بیوی کے پاس نہ جانےکی قسم اٹھانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر نے مجھے دو طلاقیں دی تھیں،اور اس پر باقاعدہ ایک دارالافتاء سے فتوی بھی لیا گیا تھا،جس میں مفتی صاحب نے کہا تھا،کہ دو طلاق واقع ہوگئی ہیں،پھر اس کے بعد میرے شوہر نے قسم اٹھائی کہ میں آپ کو ہاتھ  نہیں لگاؤں گایعنی کسی قسم کے جسمانی تعلقات نہیں رکھوں گا،اور اس کے تقریبا چھ سات سال ہوگئے،کہ میں اس کے  گھر میں رہی ،نہ اس نے کوئی تعلق رکھا،اور نہ ہی اس نے مجھے کوئی نان ونفقہ دیا، میں ویسے ہی  اس کے گھر میں  اس کی  اور بچوں کی خدمت کرتی رہی،اب مجھے کچھ اسلامی مطالعہ سے معلوم ہوا،کہ اگر شوہر قسم کھائے،اور پھر کافی عرصہ تک بیوی کے پاس نہ جائے،تو اس سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے،میرے شوہر کا کہنا ہے،کہ ہاں اس سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے،لیکن اس صورت میں آپ کو اختیار ہوتا ہے،کہ چاہے تو  مجھ سے شادی کرے یا کسی اور سے ،تاہم حلالہ  کے بغیر بھی مجھ سے نکاح کرسکتی ہے،البتہ میں دو تین سال اور انتظار کروں گا،اگر میرا موڈ بنا  ،تب میں نکاح کروں گا،اب آپ میری راہنمائی فرمائیں۔کہ کیاہمارا نکاح مکمل  طورپرختم ہے،یا بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔

جواب :

واضح رہے کہ جب شوہربیوی کےپاس چار مہینے یا اس سے زیادہ  تک  نہ جانے(مباشرت نہ کرنے) کی قسم کھائے،تو اگر چار مہینےپورےہونے سے پہلےاس کے پاس  چلا جائے،تو وہ حانث ہوجاتاہے،اور اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوجاتا ہے،بصورتِ دیگر بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے۔
بصورتِ مسئولہ  شوہر چونکہ پہلے آپ کو دو طلاقیں دےچکا ہے،اس کے بعد اس کے پاس ایک طلاق کا اختیار تھا،لیکن جب اس نے آپ کے پاس کسی  قسم کے تعلقات یا ہاتھ نہ لگانے کی قسم کھائی ،اور پھر کئی سال تک کوئی تعلق نہیں رکھا،تو اس سے آپ  پرتیسری طلاق بھی واقع ہوگئی ہے،لہذا اب آپ اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہیں،اس لئے اب آپ دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے نہیں رہ سکتے،لہذا چونکہ آپ کی عدت بھی گزر گئی ہے،اس لئے اگر آپ کسی اورجگہ نکاح کرناچاہتی ہیں،تو کرسکتی ہیں، البتہ سابقہ خاوند سے بغیر حلالہ شرعیہ  دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا ۔
قال الله تعالى:الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ.(230)
وقال الله تعالى:لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (226) وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (227)
في الدر المختار:( الصريح يلحق الصريح و ) يلحق ( البائن ) بشرط العدة ( والبائن يلحق الصريح ) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا.(دارالفكر: 3/ 306:دارالفكر)
في الهداية شرح البداية: وإذا قال الرجل لامرأته والله لا أقربك أو قال والله لا أقربك أربعة أشهر فهو مول لقوله تعالى { للذين يؤلون من نسائهم تربص أربعة أشهر } الآية فإن وطئها في الأربعة الأشهر حنث في يمينه ولزمته الكفارة لأن الكفارة موجب الحنث وسقط الإيلاء لأن اليمين ترتفع بالحنث وإن لم يقربها حتى مضت أربعة أشهر بانت منه بتطليقة(باب الإيلاء: 2/ 11:المكتبة الاسلامية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026