نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ شریعت نے بیوی سے فائدہ اٹھانے کےلئے آگے کےراستے کا تعین کیا ہے،اس کو چھوڑ کر پیچھے کے راستے میں جماع کرنا حرام ہے،چنانچہ ایک حدیث میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے"کہ جو شخص بیوی کے ساتھ پیچھے کے راستے سے جماع کرے،وہ آپﷺ کے لائے ہوئے دین سے بری ہے" یعنی اس کا شریعت اور دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ،ایک اور حدیث میں ارشاد ہے،کہ جو شخص بیوی کیساتھ پیچھے کے راستےمیں جماع کرے اللہ تعالی اس کو رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا،لہذا سب سے پہلے تو آپ اپنے کئے ہوئے پر اللہ کے حضور گڑگڑا کرکے سچی تو بہ کریں،اور آئیندہ کبھی ایسا نہ کرنے کا پکا عزم کریں۔
بصورت مسئولہ حرام کا لفظ آج کل کے عرف میں صریح بن چکا ہے،اس سے بغیرنیتِ کے بھی طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے۔چونکہ آپ نے اپنی بیوی کی حرمت کو اس کے ساتھ دوسرے راستے میں جماع نہ کرنےپر معلق کیا تھا،اور پھر آپ نے جماع کیابھی ہے،اس لئے آپ کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے،لہذا اگر آپ دونوں دوبارہ اپنی رضامندی سے میاں بیوی کی حیثیت سےاکٹھے رہنا چاہتے ہیں،تو اس کےلئے نئے مہر کےساتھ تجدید نکاح کرنا ضروری ہے،تجدید نکاح کےبعد آپ صرف دو طلاقوں کے مالک رہینگے۔بصورت دیگر آپ کی بیوی آپ سے فارغ ہوجائیگی اور وہ تین ماہواری گزرنے کےبعد جہاں نکاح کرنا چاہے کرسکتی ہے۔
في سنن الدارمي :عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أتى امرأته في دبرها لم ينظر الله تعالى إليه يوم القيامة((1/ 276)دارالكتب العربي)
في سنن ابن ماجه: عن أبي هريرة : - عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا ينظر الله إلى رجل جامع امرأته في دبرها ( 1/ 619 دارالفكر)
في حاشية ابن عابدين: وإن الحرام في الأصل كناية يقع بها البائن لأنه لما غلب استعماله في الطلاق لم يبق كناية ولذا لم يتوقف على النية أو دلالة الحال ولا شيء من الكناية يقع به الطلاق بلا نية أو دلالة الحال كما صرح به في البدائع. (3/ 299:دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 16 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 17 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔