سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-286 Fatwa no: 1447-286

بیوی کی حرمت کو کسی کام کرنےپر معلق کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میں نے اپنی بیوی کےساتھ پیچھے کی طرف یعنی مقعدمیں جماع کرنے سے روکنے کےلئے یہ کہا"کہ اگرآئیندہ میں نے بیوی کے ساتھ معقد میں جماع کیا تو وہ مجھ پر حرام ہے"لیکن اس کے باؤجود مجھ سے یہ غلطی سرزد ہوگئی اور میں نے پیچھے کے راستے سے اپنی خواہش پوری کی ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس جملہ کی وجہ سے میرے نکاح پر کچھ اثر پڑا ہے؟یا نہیں وضاحت فرمائیں۔ تنقیح:میں نے وقت کی کوئی تعیین نہیں کی تھی کہ اس مدت تک وطی نہیں کرونگا۔
جواب :

واضح رہے کہ شریعت نے بیوی سے فائدہ اٹھانے کےلئے  آگے کےراستے کا تعین کیا ہے،اس کو چھوڑ کر پیچھے کے راستے میں جماع کرنا حرام  ہے،چنانچہ ایک حدیث میں آپ ﷺ کا  ارشاد ہے"کہ  جو شخص بیوی کے ساتھ پیچھے کے راستے سے جماع کرے،وہ آپﷺ کے لائے ہوئے دین سے بری ہے" یعنی اس کا شریعت اور دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ،ایک اور  حدیث میں ارشاد ہے،کہ جو شخص  بیوی کیساتھ  پیچھے کے راستےمیں  جماع کرے اللہ تعالی اس کو رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا،لہذا سب سے پہلے تو آپ اپنے کئے ہوئے  پر اللہ کے حضور گڑگڑا کرکے سچی تو بہ کریں،اور آئیندہ کبھی ایسا نہ کرنے کا پکا عزم کریں۔
بصورت مسئولہ  حرام کا لفظ آج کل کے عرف میں صریح بن چکا ہے،اس سے بغیرنیتِ  کے بھی طلاق بائن  واقع ہوجاتی ہے۔چونکہ آپ نے اپنی بیوی  کی حرمت کو اس کے ساتھ  دوسرے راستے میں   جماع نہ کرنےپر معلق کیا تھا،اور پھر آپ نے جماع کیابھی ہے،اس لئے آپ کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے،لہذا  اگر آپ دونوں دوبارہ   اپنی رضامندی سے میاں بیوی کی حیثیت  سےاکٹھے رہنا چاہتے ہیں،تو اس کےلئے  نئے مہر کےساتھ تجدید نکاح کرنا ضروری ہے،تجدید نکاح کےبعد آپ صرف دو طلاقوں کے مالک رہینگے۔بصورت دیگر آپ کی بیوی آپ سے فارغ ہوجائیگی اور وہ  تین ماہواری گزرنے کےبعد جہاں نکاح کرنا چاہے کرسکتی ہے۔
في سنن الدارمي :عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أتى امرأته في دبرها لم ينظر الله تعالى إليه يوم القيامة((1/ 276)دارالكتب العربي)
في سنن ابن ماجه:  عن أبي هريرة  : - عن النبي صلى الله عليه و سلم قال  لا ينظر الله إلى رجل جامع امرأته في دبرها ( 1/ 619 دارالفكر)
في حاشية ابن عابدين: وإن الحرام في الأصل كناية يقع بها البائن لأنه لما غلب استعماله في الطلاق لم يبق كناية ولذا لم يتوقف على النية أو دلالة الحال ولا شيء من الكناية يقع به الطلاق بلا نية أو دلالة الحال كما صرح به في البدائع. (3/ 299:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 17 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب