سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-287 Fatwa no: 1447-287

بیوی کی طلاق کو بچے جننے پر معلق کرنے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میں نے آج سے دس ماہ پہلے اپنی بیوی سے کہا"کہ اگر بچہ جننے کے بعد میں نے تمہیں طلاق نہیں دی،تو تومجھ پر طلاق ہے،طلاق ہے،طلاق ہے،اور بچہ پیدا ہوا،جس کی عمر تقریبا پانچ ماہ ہے،ابھی تک طلاق نہیں دی،تو کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی ہے کہ نہیں ؟راہنمائی فرمائیں۔
جواب :

بصورتِ مسئولہ اگر اس جملے سے آپ کی نیت بچہ جننے کے بعد فورا طلاق دینےکی تھی،تو اس صورت میں آپ کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،اور وہ حرمت مغلظہ کے ساتھ آپ پر حرام ہوچکی ہے،لہذا اب  وہ دوبارہ آپ کےنکاح میں نہیں آسکتی،الاّ یہ کہ عدت گزرنے کے بعد وہ اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرے اور نکاح کے  بعد شوہر کے ساتھ حقوق  زوجیت بھی ادا ہوجائیں پھر وہ شوہر مرجائے یا اس کو طلاق دے ، طلاق کی عدت گزرجانے کے بعد اگر وہ اپنی مرضی سے دوبارہ آپ سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے ۔
البتہ  اگر اس جملے سے آپ کی نیت  بچہ جننے کےبعد طلاق دینے کی تو تھی،لیکن  فوراً بعد  طلاق دینےکی نہیں ،تو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی،تاہم اگر میاں بیوی میں سے کسی کا انتقال ہوجائے تو تب بھی بیوی پر تین طلاقیں واقع جائیں گی ،لہذا  شوہرکو چاہئے کہ بیوی کو ایک طلاق رجعی دیدے،اور پھر رجوع کریں،اس سے شرط پوری ہوجائیگی،اورمزید طلاقیں واقع نہیں ہوگی،البتہ اس صورت میں شوہر آئندہ دو  طلاقوں  کا مالک ہوگا،لہذا طلاق کے معاملے میں اس کو احتیاط کرناچاہئے۔
في الدر المختار:( وفي إن لم أطلقك لا ) تطلق بالسكوت بل يمتد النكاح ( حتى يموت أحدهما قبله ) أي قبل تطليقه فتطلق قبيل الموت لتحقق الشرط ويكون فارا... ( وإن نوى الوقت أو الشرط اعتبرت ) نيته اتفاقا ما لم تقم قرينة الفور فعلى الفور.  (باب الصريح: 3/ 270:دارالفكر)
في حاشية ابن عابدين:قوله ( وفي إن لم أطلقك ) ذكرهم إن وإذا هنا بالتبعية وإلا فالمناسب لهما باب التعليق عن البحر  قوله ( لا تطلق بالسكوت الخ ) لأن شرط البر تطليقه إياها في المستقبل وهو ممن في كل وقت يأتي ما لم يمت أحدهما فيتحقق شرط الحنث وهو عدم التطليق وهذا عند عدم النية أو دلالة الفور كما يأتي في إذا  قوله ( حتى يموت أحدهما ) أشار به إلى أن موته كموتها وهو الصحيح خلافا لرواية النوادر بخلاف قوله إن لم أدخل الدار فأنت طالق حيث يقع بموته لا بموتها لأنه بعد موتها يمكنه الدخول فلا يتحقق اليأس بموتها فلا يقع أما الطلاق فإنه يتحقق اليأس عنه بموتها فتح قوله ( لتحقق الشرط ) أي شرط الحنث أما في موته فظاهر وأما في موتها فلتحقق اليأس عنه... قوله ( ما لم تقم قرينة الفور ) وهي قد تكون لفظية وقد تكون معنوية فمن الأول طلقني طلقني فقال إن لم أطلقك فأنت كذا كان على الفور كما في القنية  ومن الثاني ما لو طلب جماعها فأبت فقال إن لم تدخلي البيت فأنت كذا فدخلته بعد ما سكنت شهوته طلقت(ص:3/ 269:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 17 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب