سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-288 Fatwa no: 1447-288

بیوی کی طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ اگر ایک آدمی نے کسی جگہ اپنے بیٹے کا رشتہ طے کیا تھا،اور وہاں رشتہ طے کرنا اس کی مجبوری تھی،جب رشتہ طے ہوجانے کے بعد  شخصِ مذکور نے  اپنے والد کو آگاہ کیا،اور بتا یا کہ  میں نے فلاں جگہ اپنے بیٹے کا رشتہ طے کیا ہے،اس پر شخص مذکور کا والد ناراض ہوگئے کہ تم نے میرے مشورے کے بغیر ایسا قدم کیوں اٹھایا،شخصِ مذکور چاہتے تھےکہ اس خوشی میں والد صاحب بھی شریک ہوں،لیکن والد صاحب نے حلف اٹھایا کہ اگر میں اس معاملہ (رشتے)میں شریک ہوا،تو تیری ماں کو طلاق۔۔۔پھر وہ شریک بھی نہیں ہوا۔اس کے بعد اب جب بھی شخص مذکور اپنے والد صاحب کے پاس کوئی چیز لے جاتا ہے،تو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے،اور کہتا ہے کہ میں نے قسم اٹھائی ہے،کہ آپ کی کسی چیز میں  شرکت نہیں کروں گا،لہذا اب آپ شرعی راہنمائی فرمائیں ،کہ کیا  میرے والد صاحب کےلئے میری ہاتھ کی چیز کھانے سے طلاق تو واقع نہیں ہوگی۔

جواب :

واضح رہے کہ اگر طلاق کو کسی شرط پر معلق کیا جائے تو شرط پائےجانے کی وجہ سے  طلاق واقع ہوگی بصورت دیگر نہیں ۔بصورتِ مسئولہ چونکہ شخصِ مذکور کے والد نے اپنی بیوی کی طلاق کواپنے بیٹے کےساتھ اس رشتے میں شریک ہونے پر معلق کیا تھا،اور پھر اس رشتے میں شریک ہوا نہیں ،اس لئے اس کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی،اور نہ ہی  اب بیٹے کے ہاتھ سے کچھ کھانے سے طلاق واقع ہوگی،اس لئے وہ بلا شک وتردد اس کے ہاتھ سے کھا ،پی سکتا ہے،لہذا بیٹے کی کسی چیز سے اس بنیاد پر انکار نہ کرے  بلکہ صلہ رحمی کی  خاطر قبول کرے۔
في الدر المختار مع الشامي: وإذا أضافه إلی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقًا مثل أن یقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."فالهدایة، ۲/ ۳۸۵)
في الفتاوى الهندية:ألفاظ الشرط إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت (الفصل الأول في ألفاظ الشرط  :1/ 415:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026