نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر نے مجھے یہ کہا تھا کہ اگر تو نے میری اجازت کے بغیر اپنی چچی سے بات کی،یا گھر سے باہرقدم رکھا میری اجازت کے بغیر،یا تو دادا کے گھرگئی کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ،میری اجازت کے بغیر توتجھے طلاق ہے،اوربقول ان کے ہمارا نکاح ٹوٹ جائےگا،یہ شرط بھی لگائی تھی،کہ اپنی سہیلیوں سے بھی بات نہیں کرےگی،اور یہ ساری باتیں،اس نے مجھے قرآن پاک پرہاتھ رکھ کراور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی قسم اٹھا کردہرانے کےلئے کہا تھا،اور اس کے بعد اس نے یہ بھی کہا تھا،یہ باتیں دہرانے کے بعد اگر میں ان باتوں کو نہ مانی توہمارا نکاح ٹوٹ جائےگا، اب پوچھنا یہ ہے کہ میں نے اپنی چچی اور سہیلیوں سے باتیں کی ہیں،جبکہ گھر سے باہرقدم نہیں رکھا،مجھے طلاق ہوئی ہے یانہیں ؟ اگر ہوئی ہے،تو کونسی؟جب کہ میرا شوہر ان باتوں سے منکر ہے،اور اس وقت وہ غصے میں تھے،جب یہ باتیں کی تھیں۔انہوں نے درمیان میں (یا)کا ،یا(اگر) کا لفظ استعمال کیا ہو تو مجھے یا د نہیں۔
تنقیح:شرط پائی جانے کے بعد عورت کی ایک ماہواری گزرگئی ہے۔
جب میاں بیوی کا طلاق واقع ہونے اور نہ ہونے میں اختلاف ہوجائے،تو عورت کے ذمہ دو گواہ ہوتے ہیں،اگر عورت کے پاس دو گواہ موجود نہ ہوں،تو پھر شوہر کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوتی ہے۔
بصورتِ مسئولہ اصل حکم تو یہی ہے کہ چونکہ آپ طلاق کا دعوی کررہی ہیں،اور آپ کا شوہر اس کا منکر ہے،لہذ ا آپ کے ذمہ اپنے دعوی پر دوگواہ پیش کرنے ہونگے،بصورتِ دیگر شوہر کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی۔لیکن بات چونکہ ایک طلاقِ رجعی کا ہے، اس لئے اس مشکل میں نہیں پڑھنا چاہئے ،لہذااگر آپ کی بات درست ہے،تو چچی کے ساتھ بات کرنے سے چونکہ شرط پائی گی ہے،اس لئے آپ پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے،اس کے بعد سہیلیوں کے ساتھ بات کرنے سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،کیونکہ شرط ختم ہوگئی ۔لہذا اگرآپ کا شوہر رجوع کرے،توآپ کا شوہرکے ساتھ بغیرتجدیدِ نکاح کے رہنا بھی درست ہے۔
في درر الحكام شرح مجلة الأحكام :البينة للمدعي واليمين على من أنكر . هذه القاعدة مأخوذة من الحديث الشريف القائل { البينة على من ادعى واليمين على من أنكر } ويؤيدها الدليل العقلي ; لأن كلام المدعي مخالف للظاهر فهو ضعيف يحتاج لبينة تدعمه , وكلام المدعى عليه لما كان موافقا للظاهر فهو لا يحتاج لتقوية ما سوى اليمين . البينة - هي الشهادة العادلة التي تؤيد صدق دعوى المدعي(المادة 76 :ص: 1/ 66:ط:دارالكتب العلمية)
في الفتاوى الهندية : وإن اختلفا في وجود الشرط فالقول له إلا إذا برهنت(الفصل في تعليق الطلاق: 1/ 422:ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔