نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میری ستمبر کے مہینے میں بیوی سے لڑائی ہوئی اور اس میں ،میں نے غصے میں نادانی میں اور لاعلمی میں تین دفعہ (فلموں اورڈراموں میں جیسے دکھایا جاتاہے) طلاق کا لفظ بول دیا اور ہم الگ ہوگئے،اس ٹائم مجھے رجوع کے معاملے کا اور طلاق کے ایک یا تین دفعہ ہونے کا علم نہیں تھا،پھر ہم نے سورۃ البقرۃ کی آیت229 کے مطابق اس کا ترجمہ سمجھ کر، کہ یہ ایک divorceہوئی ہے،اور اس کے بعد رجوع کا ٹائم ہوسکتا ہے،اور ہمیں یہ پتہ چلا کہ اس طرح سے ایک وقت میں بولی گئی ٹرپل طلاق ایک ہی مانی جاتی ہے تو ہم نے اکتوبر میں رجوع کرلیا،لیکن ہم ساتھ نہیں رہ رہے ابھی۔
قرآن پاک کے طریقے کے مطابق طلاق کا ناپسندیدہ عمل ہوا ہم سے، اللہ معاف کریں۔اب معاملہ یہ ہے کہ میرےگھر والے نہیں مانتے کہ ایک طلاق ہوتی ہے،انکا ماننا یہی ہے کہ تین دفعہ بولا ہے،تو تین دفعہ ہوگئی ہے،اوررجوع کا کوئی موقع نہیں بنتا، بہت سے مولویوں اور مفتیانِ کرام سے ہم نے معلوم کیا ہے،اور واضح جواب نہیں مل سکا ہےہمیں، کیا رشتہ ابھی قائم ہے؟آپ کی نظر میں کیا ہے،ایک طلاق ہے یا تین؟شکریہ۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
واضح رہے،کہ جو آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے،چاہے ایک ساتھ دے،یاالگ الگ کرکے دے،لکھ کر کےدے، یا زبانی دے،ایک مجلس میں دے،یامختلف مجالس میں دے،ہر صورت میں اس پر تینوں طلاقیں واقع ہوجائینگی،یہ مسئلہ قرآن،حدیث اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔
بصورت مسئولہ جب آپ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دےدیں،تو تینوں طلاقیں آپ کی بیوی پر واقع ہوگئیں،اور آپ پر بیوی ہمیشہ کےلئے حرام ہوگئی ۔ الاّ یہ کہ عدت عدت گزرنے کے بعد وہ اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرے اور نکاح کے بعد شوہر کے ساتھ حقوق زوجیت بھی ادا ہوجائیں پھر وہ شوہر مرجائے یا اس کو طلاق دے ، طلاق کی عدت گزرجانے کے بعد اگر وہ اپنی مرضی سے دوبارہ آپ سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے ۔۔باقی آپ نے جس آیت کا حوالہ دیا ہے،وہ آیتِ شریفہ درج ذیل ہے۔:
"الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ....الآية (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ(البقرة،229،230)
اس آیت کریمہ سے محدثین ومفسرین اور فقہاء کرام نے ایک دفعہ میں تین طلاقیں دینے سے تینوں کے واقع ہونے پر استدلال کیا ہے ، اور وہ اس طرح کہ اس آیت کریمہ کا مضمون یہ ہے کہ طلاق رجعی دودفعہ تک ہے ، اب اس میں دونوں احتمال ہیں ، دو الگ الگ طہر میں دیدے یا ایک ساتھ دے دے ، بہر صورت دونوں واقع ہوں گی ، اور جب ایک وقت میں دو طلاقیں واقع ہوسکتی ہیں ،تو تین کے واقع ہونے سے کیا مانع ہے ،اورامام بخاری ؒ نے اپنی کتاب صحیح بخاری ميں (ص :2/791)تین طلاقیں واقع ہونے پر اسی آیت کریمہ سے استدلال کیا ہے۔
اس آیت پر علامہ وہبۃ الزحیلی لکھتے ہیں :
فهو يدل علی وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنه لان قوله تعالی "الطلاق مرتان" تنبيه الحكمة وطلق اثنين معا صح وقوعها اذلا تفريق بينهما ثم ان قوله تعالی "فلا تحل له من بعد حتی تنكح زوجا غيره يدل علی تحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنين ولم يفرق بين ايقاعها في طهر واحد او في اطهار ...الخ. ‘’ الفقه الاسلامي وادلته\ (7/41)
اس کے علاوہ متعدد احادیثِ مبارکہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے،کہ تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں،چنانچہ ملاحظہ ہو:
في سنن النسائي: مخرمة عن أبيه قال سمعت محمود بن لبيد قال : أخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا فقام غضبانا ثم قال أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم حتى قام رجل وقال يا رسول الله ألا أقتله. (كتاب الطلاق:باب الثلاث المجموعة وما فيه من التعليظ: 6/ 142:ط:دارالمطبوعات)
وفي سنن ابي داؤد: عنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ فَأَخْبَرَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- بِذَلِكَ وَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلاَّ وَاحِدَةً. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ وَاحِدَةً ». فَقَالَ رُكَانَةُ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلاَّ وَاحِدَةً. فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم (كتاب الطلاق:باب البتة: 2/ 231:ط:داراللكتب العربي)
ان دو احادیث میں سے ،پہلی حدیث میں صحابی بیان فرماتے ہیں:کہ آپﷺ کو کسی نے بتایا،کہ فلاں آدمی نے بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دیں،تو آپﷺ غصہ میں کھڑے ہوئے،اور فرمایا:میرے تمہارے اندر ہوتے ہوئےوہ "کتاب اللہ"کا مذاق اڑاتا ہے،تو ایک آدمی اٹھا اور کہنے لگا:اے اللہ کے رسول کیامیں اس کو قتل نہ کردوں؟
جبکہ دوسری حدیث میں ہے:کہ رکانہؓ نے اپنی بیوی کو طلاق"البتۃ"دی،اور آپﷺ کے سامنے قسم اٹھائی،کہ میں نےایک ہی طلاق کا ارادہ کیا تھا،آپﷺ نے فرمایا :اللہ کی قسم کھا کر بتاؤ،کہ تم نے اس طلاق "البتہ" سےایک ہی طلاق کا ارادہ کیا تھا،اس نے کہا :اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں ،کہ میرا ارادہ ایک ہی طلاق کا تھا،تو آپﷺ نے اس کی بیوی کو اس کو لوٹا دیا(اگر تین طلاق اکھٹی واقع نہیں ہوتی،تو پھر پہلی حدیث میں آپﷺ غصہ نہ فرماتے ،اور دوسری حدیث میں آپ ﷺ رکانہ ؓسے قسم کا مطالبہ نہ فرماتے)
في المؤطا لامام ملك :عن معاوية بن أبي عياش الأنصاري :انه كان جالسا مع عبد الله بن الزبير وعاصم بن عمر بن الخطاب قال فجاءهما محمد بن إياس بن البكير فقال ان رجلا من أهل البادية طلق امرأته ثلاثا قبل ان يدخل بها فماذا تريان فقال عبد الله بن الزبير ان هذا الأمر مالنا فيه قول فأذهب إلى عبد الله بن عباس وأبي هريرة فإني تركتهما عند عائشة فسلهما ثم ائتنا فأخبرنا فذهب فسألهما فقال بن عباس لأبي هريرة افته يا أبا هريرة فقد جاءتك معضلة فقال أبو هريرة الواحدة تبينها والثلاثة تحرمها حتى تنكح زوجا غيره وقال بن عباس مثل ذلك الموطأ (رواية يحيى الليثي: 2/ 571:ط:داراحياء التراث)
معاویۃبن ابی عیاش فرماتے ہیں،کہ میں عبداللہ بن زبیر ؓاور عاصم بن عمؓر کے پاس بیٹھا تھا،اسی دوران محمدبن ایاس آگئے،اور کہنے لگے،کہ ایک دیہاتی نے اپنی بیوی کودخول (جماع)سے پہلے تین طلاقیں دی ہیں،اس بارے میں آپ دونوں کی کیا رائے ہے؟تو عبداللہ بن زبیرؓ نے کہا:اس بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں،آپ عبداللہ بن عباس ؓاور ابوہریرۃ ؓکے پاس جائیں،میں(ابھی)ان کو عائشہؓ کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں،ان سے پوچھیں،پھر آکر ہمیں بھی بتایئں،چنانچہ اس نےجاکر ان سےپوچھا،تو ابن عباس ؓنے ابوہریرۃؓسے فرمایا:آپ فتوی دیں ،آپ کے پاس ایک نیا مسئلہ آیا ہے،ابوہریرۃ ؓنے فرمایا:ایک طلاق اس کو بائنہ کردیتی ہے،اور تین طلاقیں ،اس کو حرام کردیتی ہیں(لہذا وہ شوہر کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتی)جب تک دوسرے کے ساتھ نکاح نہ کرے۔
وفي السنن الصغرى للبيهقي: - وروينا أيضا عن عمر وعلي وعبد الله بن مسعودفيمن طلق امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها : لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره.
2660 - وروينا عن عبد الله بن مسعود أن رجلا قال : إني طلقت امرأتي مائة فقال : بانت منك بثلاث ، وسائرهن معصية .
2661 - وعن عبد الله بن عباس في رجل طلق امرأته الفا قال : إنها الثلاث فتحرم عليك امرأتك وبقيتهن عليك وزر ، اتخذت آيات الله هزوا. (كتاب النكاح:باب من طلق امراته ثلاثا: 6/ 332:ط:مكتبة الرشد)
في مصنف لابي شيبة:عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم , عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ فَأَغْلَقَ الْبَابَ وَأَرْخَى السِّتْرَ ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ : لاَ تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ.(كتاب الطلاق:باب فيمن طلق امراته ثلاثا:ص:4/ 274:ط:بيروت)
. ابن مسعودؓ ، ابن عباس ؓاور ابن عمرؓکی ان تینوں روایات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے،کہ جو آدمی بیوی کو تین طلا قیں دیتا ہے،تواس پر وہ حرام ہوجاتی ہے،اور بغیر حلالہ شرعیہ کےاس کے لئے حلال نہیں ہوسکتی۔
یہی مسلک ہے،ائمہ اربعہ(امام ابوحنیفہؒ،امام مالک ،ؒامام شافعی اؒور امام احمد ؒکا) اور جمہور تابعین کا،چنانچہ علامہ ڈاکٹروھبۃ الزحیلی اپنی مشہور تالیف "الفقہ الاسلامی وادلتہ"میں لکھتے ہیں:
وهو قول الجمهور،منهم ائمة المذاهب الاربعة،والظاهرية،وهو منقول عن اكثرالصحابة،ومنهم الخلفاء الراشدون غير ابي بكر،والعبادلة الاربعة. (كتاب الطلاق:باب انحلال الزواج:7/390:ط:دارالفكر)
خلاصہ کلام:
خلاصہ کلام یہ ہے،کہ کسی عورت کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے سے تینوں طلاقیں اس پر واقع ہوجاتی ہیں اور وہ ہمیشہ کےلئے شوہرپر حرام ہوجاتی ہے،اور وہ دوبارہ بغیر حلالہ شرعیہ شوہرکے نکاح میں نہیں آسکتی۔
یہ مسئلہ قرآن ،سنت ،اور اجماع امت ثابت ہے ، لہذابغیر حلالہ شرعیہ کے سابقہ شوہر کابیوی کے ساتھ تعلق ِزوجیت قائم رکھنا شرعاًناجائز وزنا شمار ہو گا اور اس بابت کسی غیر مقلد سے جواز ِنکاح کافتوی حاصل کرنے سے وہ عورت شوہر کے لئے ہر گز حلال نہ ہو گی ۔
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔