سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-291 Fatwa no: 1447-291

عدالتی خلع کے بعد میاں بیوی کا آپس میں صلح کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میاں بیوی کے درمیان ناچاقی ہوگئی تھی،جس کی وجہ سے بیوی نے عدالت میں خلع کی درخواست دائر کی تھی،عدالت نے عورت کے حق میں فیصلہ دے کر خلع کی ڈگری بھی جاری کی تھی، اب کافی عرصہ ہوچکا ،کہ میاں بیوی الگ ہیں،ان کے تین بچے بھی ہیں،لیکن اگر وہ مصالحت کرنا چاہیں،تو کیا اس کی گنجائش ہے،اگر ہے،تو اس کی صورت کیا ہوگی۔ وضاحت فرمائیں۔
جواب :

بصورت مسئولہ  اگر میاں بیوی دوبارہ صلح کرنا چاہتے ہیں،تو کرسکتے ہیں،البتہ نئے مہر کے ساتھ تجدید نکاح ضروری ہوگا،اور نکاح کے بعد آئیندہ شوہر کوصرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
نوٹ:۔ہمارا مشورہ یہ  ہے کہ نکاح سے  پہلےایک مرتبہ   ان اسباب پر  غور کریں،جن اسباب کی وجہ سے نوبت خلع تک جاپہنچی تھی،پہلے ان اسباب کا ازالہ کریں،اور بعد  میں  نکاح کریں۔اس کی بہتر صورت یہ ہے،کہ کسی  دارالافتاء یا کسی عالمِ دین کے پا س دونوں حاضر ہوجائیں،اوران سے میاں بیوی  کے حقوق پر مذاکرہ کروائیں۔پھر ہرایک دوسرے کےحقوق پہچان کر پورا کرنے کی کوشش کریں،امید ہے،کہ پھر نئی زندگی خوشی کے ساتھ گزری گی۔
قال الله تعالى:{وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ وَإِنْ تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا} [النساء: 128]
وتحته في تفسير ابن كثير:يقول تعالى مخبرا ومشرعا عن حال الزوجين: تارة في حال نفور الرجل عن المرأة، وتارة في حال اتفاقه معها، وتارة في حال فراقه لها.فالحالة الأولى: ما إذا خافت المرأة من زوجها أن ينفر عنها، أو يعرض عنها، فلها أن تسقط حقها أو بعضه، من نفقة أو كسوة، أو مبيت، أو غير ذلك من الحقوق عليه، وله أن يقبل ذلك منها فلا جناح عليها في بذلها ذلك له، ولا عليه في قبوله منها؛ ولهذا قال تعالى: { فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا } ثُمَّ قَالَ { وَالصُّلْحُ خَيْرٌ } أي: من الفراق((2/ 426دارطيبة للنشر والتوزيع )
في ا لهداية شرح البداية:
 وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به لقوله تعالى { فلا جناح عليهما فيما افتدت به } فإذا فعلا ذلك وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال لقوله عليه الصلاة والسلام الخلع تطليقة بائنة ولأنه يحتمل الطلاق حتى صار من الكنايات والواقع بالكنايات بائن إلا أن ذكر المال أغنى عن النية هنا ولأنها لا تسلم المال إلا لتسلم لها نفسها وذلك بالبينونة وإن كان النشوز من قبله يكره له أن يأخذ منها عوضا لقوله تعالى { وإن أردتم استبدال زوج مكان زوج } إلى أن قال { فلا تأخذوا منه شيئا } ولأنه أوحشها بالاستبدال فلا يزيد في وحشتها بأخذ المال وإن كان النشوز منها كرهنا له أن يأخذ منها أكثر مما أعطاها(باب الخلع:2/13:ط:المكتبة الاسلامية)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 17 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب