نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںمیرے بھائی کا رشتہ ہمارے حقیقی بھانجے نے اپنے حقیقی سالے کے ذریعے اپنی حقیقی سالی کی بیٹی سے طے کروایا۔مورخہ16 اکتوبر2020 کو نکاح ہوا،نکاح کے وقت لڑکی کے ورثاء نے زیور ساڑھے چار تولے سونا کو بطورِ تحفہ لکھوایا،جس پر میرے بھانجے نے اعتراض کیا کہ زیور بطور تحفہ نہ لکھا جائےگا، لیکن لڑکی کے حقیقی ماموں نے یہ کہہ کرہمیں خاموش کیا،کہ ابھی نکاح ہونے دیں،بعد میں ٹھیک ہوجائےگا۔
21اکتوبر2020 کو رخصتی ہوئی،لڑکی کی ڈولی آزاد کشمیر لے گئے،تو لڑکی دوسرے دن وہاں سے واپس اسلام آباد آگئی، اپنے بھائیوں کے گھرآگئی، اور شادی کے ایک ہفتہ بعد اپنے بھائیوں کے گھر کے پاس ہی کرایہ کا گھر لے لیا،اور اپنے خاوند کے ساتھ رہنے لگی،لیکن شادی کے شروع دن سے لڑکی کا رویہ ٹھیک نہیں تھا،شوہرنے ساری صورت حال سے لڑکی کے ورثاء اوربھانجےکو آگاہ کیا کہ لڑکی میرے حقوق ادا نہیں کررہی ہے،میں محنت مزدوری کے ساتھ کھانا پینا کپڑے وغیرہ خود دھوتا ہوں مجھ سے کوئی بات نہیں کرتی ہے،شوہر نے صبروبرداشت سے کام لیا،تاکہ رشتہ بحال رہے،پھر تین ماہ کے بعد اچانک بھاگ کراپنی والدہ کے پاس آگئی،شوہر کی فیملی کے تمام لوگوں نے کوشش کی کہ لڑکی اپنا گھر آباد کرے،لیکن لڑکی کوئی بھی بات ماننے کوتیار نہیں تھی،بس ایک ہی رٹ تھی،کہ مجھے طلاق دو،جس کا لڑکی کے تمام ورثاء کو بخوبی علم تھا،تو وہ ہمیں کہتے رہے کہ صبرکرو ،یہ ٹھیک ہوجائے گی،ہم سمجھائیں گے کہ اپنا گھر آباد کرے،ہم لڑکی کو آباد کرنا چاہتے تھے،وہ کسی بھی صورت آباد ہونے کو تیار نہیں تھی،ہم اس کے تمام اخراجات دینے کو تیار تھے،جب تک آباد تھی،تقریبا تین ماہ گھر کا کرایہ خرچہ دیگر گھر کا سامان وغیرہ سب لےکر دیا،لیکن اس نے جہیز کی ایک بھی چیز نہیں لائی،صرف اس نیت سے شاید کہ میں نے آباد نہیں ہونا ہے،،اس کی نیت صاف نہیں تھی،پھر اس عرصہ میں میرا بھائی بیرون ملک محنت مزدوری کی غرض سے چلا گیا،وہاں سے ہوکر لڑکی کے حقیقی ماموں کے ذریعے خرچہ کےلئے رقم بھی بھیجی تو لڑکی نے لینے سے یہ کہہ کرانکار کردیا،کہ میں نے آباد ہی نہیں ہونا چاہتی ،تو خرچہ کس بات کا لوں۔اب 26فروری 2024 کو موصوفہ نے خلع کی ڈگری لی ہے،جس کے فیصلے کی کا پی لف ہے۔ نکاح کے وقت زیورکو بطور تحفہ لکھوانا بدنیتی پر مبنی تھا،ہمیں نہیں پتہ تھا، کہ صرف زیور ساڑھے چار تولے سونا اور دیگر سامان ہڑپ و ہضم کرنے کےلئے نکاح دے رہے ہیں،جس کا ہم نے اعتراض بھی اٹھایا تھا،جس کی گواہی ہمارا بھانجہ دینے کو تیار ہیں ۔اب لڑکی نے اپنی مرضی سے شوہر سے بات کئے بغیر خلع کی ڈگری لی ہے،اور ساڑھے چار تولے سونا ہضم کرنا چاہتی ہے،ہم نے عدالت ہذا میں بیان دیا کہ ہم لڑکی کو خلوص نیت سےاس کے تمام اخراجات دینے اور آباد کرنے کےلئے تیار ہیں،اگر آباد ہوگی،تو تمام ضروریات زندگی پوری کریں گے،لیکن لڑکی پہلی کی طرح عدالت میں انکاری ہوگئی، کہ میں آباد نہیں ہوں گی، اب شریعت کی رو سےکیا لڑکی کا بغیر کسی عذر کے خلع لینادرست ہے؟اورلڑکی بطورِ تحفہ زیور ہڑپ کرنا چاہتی ہے،تو نکاح میں لکھے گئے زیور بطورِ تحفہ واپس کرنے کی مجاز ہے کہ نہیں؟اسی طرح دیگر گھریلو سامان جو شوہر کی ملکیت تھا واپس کرنے کی مجاز ہے کہ نہیں؟اس بارے میں ہمارے راہنمائی فرمائیں۔
تنقیح نمبر1۔عورت نے درخواست میں دعوی دائر کیا تھا کہ شوہر مجھے نان نفقہ نہیں دے رہا،جس پر میں (شوہر کابھائی) عدالت میں حاضر ہوا اورجج کے سامنے بیان دیا کہ پہلے بھی ہم ادا کرچکے ہیں،اور اب بھی سب کچھ دینے کو تیار ہیں ،اس پر جج نے بھی لڑکی سے کہا،کہ یہ لوگ نفقہ دینے کےلئے تیار ہیں ،بلکہ میں ان سے لے کر دونگا،اس پر لڑکی نے کہا کہ میں رہنا نہیں چاہتی ۔اس کے بعد عدالت نے خلع کی ڈگری جاری کردی۔
تنقیح نمبر2۔ہمارا سونےکو بطورِ گفٹ دینے پر جو اعتراض تھا،وہ اس لئے تھا،کہ ہم چاہتے تھے کہ یہ سونا بھی بطورِ مہر ہو،اور پھر مہر میں سے کچھ کی ادائیگی ہوجائیگی اورکچھ وہ چھوڑ دیں گے۔
واضح رہے :-
ا- کہ مفتی عالم الغیب نہیں ہوتا،اس کے سامنے جس طرح کا سوال بنا کر پیش کیا جاتا ہے،وہ اسی کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے،چنانچہ اگر کوئی سوال میں کمی کوتاہی کرکے اپنی مرضی کا جواب وصول کرتا ہے،تو مفتی کے فتوے سے حلال چیز حرام اورحرام چیز حلال نہیں ہوگی،اس لئے اس کی ساری ذمہ داری سوال کرنے والے ہی پرہوگی۔
2-شریعت میں خلع کے من جملہ شرائط میں سے ایک شرط شوہر کی رضامندی بھی ہے،اس لئے شوہر کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ طور پرخلع معتبر نہیں ہوتا ،البتہ اگر عورت خلع لینے کےلئےدرخواست ميں ایسے اسباب ذکر کرے،جوشرعا فسخِ نکاح کا سبب بن سکتے ہوں،اور پھر گواہوں کے ذریعہ سے ان کو ثابت بھی کرے،لیکن اس کے باوجود بھی شوہر نہ طلاق دینے کےلئے تیار ہو،اورنہ خلع کےلئے،تو اس صورت میں عدالتی خلع بھی فسخِ نکاح کےحکم میں ہوگا،اوراس صورت میں شوہرکی رضامندی ضروری نہیں ہوگی۔
بصورتِ مسئولہ :۔
1۔اگر آپ کا سوال صحیح ہے،تو مذکورہ خلع درست نہیں ،کیونکہ نہ تو یہ خلع کی شرائط کے مطابق ہے،اور نہ ہی یہ فسخِ نکاح کے شرائط کے مطابق ۔خلع تو اس لئے نہیں کہ خلع میں شوہر کی رضامندی ضروری ہوتی ہے،جبکہ مذکورہ صورت میں شوہر کی رضامندی کے بغیرخلع کی
ڈگری جاری کردی گئی ہے،اورفسخِ نکاح پر اس لئے محمول نہیں کیا جاتا ،کہ عدالت کی طرف سے فسخِ نکاح اس وقت درست ہوتا ہے کہ جب جج کے سامنے شوہر کاجرم اور ظلم ثابت ہوجائے،اورعدالت کے کہنےکے باوجود شوہرنہ اس جرم اور ظلم کے ازالے کےلئے تیار ہو اورنہ ہی خلع یا طلاق دینے کےلئے،جبکہ مذکورہ صورت میں شوہر کے بھائی نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم پہلے بھی نان نفقہ دے چکے ہیں
اور آئندہ ہم دینے کےلئے بھی تیار ہیں۔ لہذا س کے باوجود یک طرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری کرنے سے خلع درست نہیں ہوئی ،لہذا اس کو چاہئے کہ شریعت کے مطابق شوہر سے خلع لے کر عدت کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرے،بصورتِ دیگر پوری زندگی گناہ میں گزری گی۔
2۔جب لڑکی کوسونا بطورِ گفٹ دینے پر آپ راضی نہیں تھے،صرف لڑکی کے ماموں کے اصرار پر خاموش ہوگئے،تو یہ سونا بھی مہر کا حصہ تصور ہوگا،چونکہ مذکورہ صورت میں لڑکی اب تک شوہر کے نکاح میں ہے،اس لئے اس سے سونےکا مطالبہ کرنا درست نہیں ،تاہم اگر وہ صحیح اور شرعی خلع لینا چاہتی ہے،تو اس صورت میں آپ ان سے بطورِ بدلِ خلع سونے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
3۔آپ کے سوال کے مطابق چونکہ پورا کا پورا سامان شوہر ہی خرید کرلایا ہے،اور بیوی بطورِ جہیزکوئی چیز لےکر نہیں آئی،تو اس صورت میں سامان شوہرہی کا حق ہے،اس میں عورت کا کوئی حصہ نہیں۔
في فقه البيوع:الثاني:أن الفتوى مبنية على السوال الذي قدمه السائل إلى المفتي،فيبين المفتي الحكم الشرعي على فرض أن السؤال مطابق للواقع،وليس من وظيفته أن يحقق صحته في نفس الأمر بطلب البينة وغيرها،ولذلك يقول المفتي:(الحكم في الصورة المسؤل عنها كذا) ولا يلزم منه أن تكون الصورة المسؤل عنها موافقة للواقع في نفس الأمر.(الفرق بين القضاء والإفتاء:14:ط:معارف القرآن كراتشي)
في الدر المختار وحاشية ابن عابدين:(قَوْلُهُ: وَشَرْطُهُ كَالطَّلَاقِ)... وَأَمَّا رُكْنُهُ فَهُوَ كَمَا فِي الْبَدَائِعِ: إذَا كَانَ بِعِوَضٍ الْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ لِأَنَّهُ عَقْدٌ عَلَى الطَّلَاقِ بِعِوَضٍ، فَلَا تَقَعُ الْفُرْقَةُ، وَلَا يُسْتَحَقُّ الْعِوَضُ بِدُونِ الْقَبُولِ...الخ(كتاب الطلاق ، باب الخلع ، 3/ 441 ، دار الفكر)
و في الفتاوى الهندية: الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع كذا في فتح القدير وقد يصح بلفظ البيع والشراء وقد يكون بالفارسية كذا في الظهيرية(وشرطه) شرط الطلاق(وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين(كتاب الطلاق ، الباب الثامن في الخلع ، 1/ 488 ، دار الفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔