سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-2 Fatwa no: 1447-2

قربانی کے جانور کو ذبح کرنے میں مکانِ اضحیہ کے وقت کا اعتبار ہوگا یا مکانِ مضحی کا؟

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک آدمی جو کسی دوسرے  ملک میں ہے اور اپنی قربانی پاکستان میں غریب لوگوں کے لئے کرناچاہتا ہے، لیکن یہاں پاکستان میں جس وقت قربانی کی جاتی ہے ،مثلا  :7:30بجے،اس وقت اس شخص کے ملک میں 10ذی الحجہ تو ہوتا ہے ،لیکن قربانی کا وقت نہیں ہوا ہوتا،جیسے :وہاں 10ذی الحجہ کی شام ہوتی ہے یا طلوع فجر سے پہلے کا وقت ہوتا ہے یا عین طلوع فجر کا وقت ہوتا ہے ،تو کیا ایسی  صورت میں پاکستان میں اسکی قربانی کی جاسکتی ہے جبکہ تاریخ دونوں جگہ 10 ذی الحجہ ہو  چکی ہوتی ہے ،صرف وقت قربانی میں فرق ہوتاہے؟ یا یہ ضروری ہے کہ دونوں جگہ قربانی کا وقت ہو۔

جواب :

واضح رہے کہ قربانی کرنے  میں   قربانی کی جگہ کا اعتبار ہوگا ،قربانی کرنے والے کا نہیں ،نیزقربانی کرنے والے کے لئے اداء وجوب کے ساتھ نفس وجوب کا پایا جانا بھی ضروری ہے ،صورت مسؤلہ میں جہاں قربانی ہونی ہےاس علاقہ میں  جب  عید کی نماز ہو جائے  ،تو اس کے بعد  شخص مذکور کی طرف سےوہاں  قربانی   کرنےمیں کوئی حرج نہیں ،بشرطیکہ قربانی کرنے والے کے ہاں طلوع فجر ہو چکا ہو،اگر چہ وہاں عید کی  نماز ابھی نہ ہوئی ہو،بصورت دیگر قربانی کے وقت سے پہلے کرنے میں قربانی نہیں ہوگی بلکہ  قضاء لازم ہوگی۔
کمافى بدائع الصنائع:
وأما وقت الوجوب فأيام النحر فلا تجب قبل دخول الوقت؛ لأن الواجبات المؤقتة لا تجب قبل أوقاتها....... فإذا طلع الفجر من اليوم الأول فقد دخل وقت الوجوب فتجب عند استجماع شرائط الوجوب، ثم لجواز الأداء بعد ذلك شرائط أخر نذكرها في موضعها إن شاء الله تعالى فإن وجدت يجوز وإلا فلا، كما تجب الصلاة بدخول وقتها ثم إن وجدت شرائط جواز أدائها جازت وإلا فلا والله تعالى أعلم.
(فصل في انواع كيفية الوجوب،ج:5،ص:65،ط: دار الكتب العلمية)
وفىالهداية:
قال: "ووقت الأضحية يدخل بطلوع الفجر من يوم النحر، إلا أنه لا يجوز لأهل الأمصار الذبح حتى يصلي الإمام العيد، فأما أهل السواد فيذبحون بعد الفجر". والأصل فيه قوله عليه الصلاة والسلام: "من ذبح شاة قبل الصلاة فليعد ذبيحته، ومن ذبح بعد الصلاة فقد تم نسكه وأصاب سنة المسلمين"...... ثم المعتبر في ذلك مكان الأضحية، حتى لو كانت في السواد والمضحي في المصر يجوز كما انشق الفجر، ولو كان على العكس لا يجوز إلا بعد الصلاة.
(علی من تجب الاضحية،ج:4،ص:357،ط: دار احياء التراث العربي)

وفى اللباب في شرح الكتاب:
(ووقت الأضحية) لأهل الأمصار والقرى (يدخل بطلوع الفجر من يوم النحر، إلا أنه لا يجوز لأهل الأمصار الذبح) في اليوم الأول (حتى يصلي الإمام صلاة العيد) أو يخرج وقتها بالزوال، لأنه يشترط في حقهم تقديم صلاة العيد على الأضحية أو خروج وقتها، فإذا لم يوجد أحدهما لا تجوز الأضحية، لفقد الشرط.
(كتاب الأضحية،ج:3،ص:233،ط: : المكتبة العلمية، بيروت)
وفى البحر الرائق:
وأما شرائط آدابها فمنها الوقت في حق المصري بعد صلاة الامام، والمعتبر مكان الاضحية لا مكان المضحي. وسببها طلوع فجر يوم النحر، وركنها ذبح ما يجوز ذبحه.
(فصل،ج:8،ص:317،ط: البحر الرائق)

Mufti

تاریخ جواب: 23 Feb 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب