سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-25 Fatwa no: 1447-25

اپنی بیوی کو طلاق، طلاق، طلاق کہنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ : شوہر نے کہا کہ اگر جائیگی تو پکی پکی جائیگی اپنے ساس سے تو ساس نے کہا کہ تجھے جو کرنا ہے کرلے، میں لیکر جاتی ہوں ، اسی طیش میں اس نے کہا کہ چلو پھر جاؤ طلاق ،طلاق ،طلاق ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس سے کتنی طلاقیں واقع ہوئی ؟ تنقیح : دوسری اور تیسری طلاق سے میری تاکید مراد نہیں ہے تو اس سے کتنی طلاقیں واقع ہوئی ؟

جواب :

واضح رہے کہ لفظ "طلاق" صریح طلاق کے الفاظ میں سے ہے ، اور شوہر تین مرتبہ لفظ طلاق کہہ چکا ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ الفاظ کہنےسے شخص مذکور کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر وہ اپنے شوہر پر مغلظہ ہے ، اب دونوں کا  بحیثیت میاں بیوی آپس میں زندگی نہیں گزارنا جائز نہیں تاہم اگر دونوں دوبارہ بحیثیت میاں بیوی رہنا چاہتے ہیں تو اس صورت میں حلالہ شرعیہ ضروری ہے اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ  بیوی طلاق کی عدت مکمل ہونے کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور دوسرا شوہر حقوقِ زوجیت ادا کرنے کے بعد خود اپنی مرضی سے اس  کو طلاق دے یا اس کا انتقال ہوجائے ،اس کے بعد جب اس کی   عدت مکمل ہوجائے تو  دونوں   ازسر نو  دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرلیں۔
قال تبارك و تعالى:
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ         (البقرة: 230)
كما في ردالمحتار علي الدرالمختار :
فروع:لو كرر لفظ الطلاق وقع الكل،وإن نوي التأكيد دين.
(قَوْلُهُ وَإِنْ نَوَى التَّأْكِيدَ دِينَ) أَيْ وَوَقَعَ الْكُلُّ قَضَاءً، وَكَذَا إذَا طَلَّقَ أَشْبَاهَ: أَيْ بِأَنْ لَمْ يَنْوِ اسْتِئْنَافًا وَلَا تَأْكِيدًا لِأَنَّ الْأَصْلَ عَدَمُ التَّأْكِيدِ
(باب طلاق غير مدخول بها،ج4،ص510،ط:مكتبه رحمانيه)
وفي الهنديه :
متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق وإن عنى بالثاني الأول لم يصدق في القضاء كقوله يا مطلقة أنت طالق أو طلقتك أنت طالق . 
(ألفصل الاول في الطلاق الصريح،ج2،ص202،ط:مكتبه رشيديه)
وفي التاتارخانية :
وفي الظهيرية: متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق وإن عنى بالثاني الأول لم يصدق في القضاء كقوله يا مطلقة أنت طالق أو طلقتك أنت طالق.
(ألفصل الرابع فيما يرجع إلي صريح الطلاق،ج4،ص427،ط:مكتبه إعزازيه)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026