نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںنکاح میاں بیوی کےدرمیان ایک ایسا عقدہےجو دوام کا تقاضہ کرتاہے،یہی وجہ ہےکہ جب تک میاں بیوی کےدرمیان نبا ہوسکتاہے،شریعت اس کے بقا پرزور دیتی ہے،اس لئے اس صورت میں وفاء کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی موت تک برداشت کرے، ہوسکتا ہے وہ ٹھیک ہوجائے،(بشرطیکہ اس کے نان ونفقہ کا انتظام ہو اوراپنی عزت کا خطرہ نہ ہو)تاہم جہاں میاں بیوی میں سے دونوں یا کسی ایک کی زندگی اجیرن ہوجائے،تو پھر ضرورت کی بنا پرشریعت نے طلاق(مرد کی طرف سے)خلع(عورت کی طرف سے)اور تفریقِ قاضی جیسے امور مشروع کئے ہیں۔
بصورتِ مسئولہ جب عورت کی زندگی مشکل ہورہی ہے،اورمزید شوہرکے نکاح میں نہیں رہ سکتی ،تو شریعت اس کو جان خلاصی کی اجازت دیتی ہے، چونکہ مذکورہ صورت میں طلاق یا خلع ممکن نہیں،اس لئے عورت عدالت میں فسخ ِ نکاح کا دعوی دائرکرسکتی ہے،چنانچہ اگر عورت اپنی مجبوریاں ثابت کرے،مثلا یہ کہ شوہراتنی مدت سے کومہ میں ہے،اس کو نان نفقہ میں مشکل ہےیااس کو اپنی عزت و ابرو کا خطرہ ہےوغیرہ تو قاضی ان دونوں کےدرمیان نکاح فسخ کرےگا۔اس کے بعد عدت گزرجانےکےبعد مذکورہ عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
في حيلة ناجزة:
قال محمد: إن کان بالزوج عیبٌ لا یمکنہٗ الوصولُ إلی زوجتہ، فالمرأۃُ مخیرۃٌ بعد ذلک۔ (الحیلة الناجزة، ص۳۹)
في الجوهرة النيرة على مختصر القدوري:
قوله (وإذا كان بالزوج جنون أو جذام أو برص فلا خيار للمرأة عند أبي حنيفة وأبي يوسف) .وقال محمد لها الخيار دفعا للضرر عنها كما في الجب والعنة بخلاف جانبه؛ لأنه متمكن من دفع الضرر بالطلاق ولأنها يلحقها الضرر بالمقام مع الجنون أكثر مما يلحقها بالمقام مع العنين فإذا ثبت لها الخيار مع العنين فهذا أولى(فروع فی النکاح:2/22)
Mufti
تاریخ جواب: 16 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 17 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔