سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-294 Fatwa no: 1447-294

طلاق میں میاں بیوی کا اختلاف واقع ہوجانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

بیوی کا موقف:۔
کل (18 مارچ)نوبجے میرے اور میرے شوہرکے درمیان جھگڑا ہوا،جھگڑے کا باعث رقم تھی،میرے شوہرنے مجھ سے ہزار روپے کا مطالبہ کیا،میں نے دیدئے،لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ مجھے پانچ سو روپے واپس کردیں،اس پر لڑائی شروع ہوگئی،اور لڑائی میں اس نے مجھے کہا"میں تجھے طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں"اس کے بعد اس نے  مجھے گھر سے  نکالا،اور میں چچا کے گھر چلی گئی،اس سے دو ماہ قبل بھی شوہرنے  مجھے دو طلاقیں دی تھیں۔
شوہرکا موقف:۔
دو ماہ قبل  بات ایسی ہوئی،کہ  بیوی  نے میرا موبائل چیک کیا،اس نے اس میں کسی لڑکی کا نمبردیکھا،اس پراس نے کہا کہ یہ کیا ماجرہ ہے،میں نے ہنس کرکہا کہ یہ لڑکی مجھے نہیں چھوڑ رہی ہے،اس پر اس نے غصہ کیا،اورکوئی ایسی بات نہیں کی اور نہ ہی ہمارے درمیان لڑائی ہوئی،اورنہ ہی میں نے اس کو طلاق دی۔
اورکل جو بات ہوگئی ہے،وہ یہی ہے، کہ  میں نے رات کو اس کو بولا کہ  مجھے پیسے اورفارم دو،کل بچی  کا نام  درج کروانا ہے،کل پھر آپ سوئی ہوگی۔اس نے کہا کہ اب کیا پتہ کہاں ہوگا،کل دیدوں گی،اب جب صبح میں نے اٹھایا تو اس نے کہا کہ تم تو خود سحری کرکے سوجاتے ہو،میں کام کاج کرتی ہوں،اور تم  نےابھی سے اٹھادیا،اورغصے سے فارم اورپیسے پھینک دئے،تو مجھے بھی غصہ آیا،تو میں نے اسے لات ماری،اس نے میرا گریبان پکڑا اورمارا،میں نے کہا کہ اگر نہیں رہنا ہے،تو چلی جاؤ۔اس کے بعد وہ چلی گئی۔
مستفتی:۔
مذکورہ میاں بیوی کا نکاح   پانچ سال قبل ہوا،جس سے دو بچیاں پیدا ہوئیں،چنانچہ 18مارچ بروز سوموار میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا،جس کی صورت  حال آپ کے سامنے الگ الگ بیان کی صورت میں پیش کردی گئی،جس میں عورت تین طلاقیں دینے کی بات کررہی ہے،جبکہ شوہر انکار کررہا ہے کہ 18 مارچ کو بھی جھگڑے میں جس میں شوہر کا بھائی اوربھتیجی جو موقع پر موجود تھے،ان کا بھی یہی بیان ہے کہ 18مارچ کے جھگڑے میں کسی طلاق کا تذکرہ نہیں ہوا۔دوسری جانب بیوی  کا یہ بیان ہے کہ دو ماہ قبل بھی اس نے دو طلاقیں دی ہیں،جس کا18 مارچ تک کسی کوبھی علم نہ تھا،نہ لڑکے کےگھر والوں کواورنہ ہی لڑکی کے گھر والوں کو جبکہ شوہر اس کا بھی انکار کررہا ہے کہ دو ماہ قبل  کوئی  طلاق نہیں ہوئی،لہذا تمام صورت حال میں قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔شکریہ

جواب :

بصورت مسئولہ  چونکہ لڑکی  تین طلاق کادعوی کررہی ہےجبکہ اس کا شوہر انکار کررہا ہے،اس لئے لڑکی کو اپنے دعوی پر گواہ (دو مرد یا ایک مرد اوردو عورتیں)پیش کرنے ہونگے ،چونکہ مذکورہ صورت میں لڑکی  گواہ پیش کرنے سے قاصر ہے  اس لئےقضاءتوشوہر کی بات قسم کے ساتھ متعبر ہوگی۔البتہ اگر لڑکی کو یقین ہے کہ شوہر نے اس کو تین طلاقیں دی ہیں،تو اس صورت میں  اس پر تینوں طلاق واقع ہوچکی ہیں،اوروہ شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے،لہذاوہ  شوہر کو اپنے آپ پر قدرت نہ دے ،بلکہ جس طریقہ سے بھی ممکن ہو،اس سے   جان چھڑائے ،باہمی رضامندی یاجرگہ  سے ممکن ہو تو ٹھیک،بصورتِ دیگر وہ  عدالتی خلع لے کرشوہر سےجدا ہوسکتی ہے۔

وقال الله تعالی:( الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ....الآية (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ(البقرة،229،230) 
 في الفتاوى الهندية: وكذلك إن سمعت أنه طلقها ثلاثا وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه(، كتاب الکراھیة، الباب الثاني،361/5)                                             
و فيه ايضا:وقال الأوزجندي: ترفع الأمر للقاضي، فإن حلف ولا بينة فالإثم عليه. وقال ابن عابدین: (قوله: فالإثم عليه) أي وحده، وينبغي تقييده بما إذا لم تقدر على الافتداء، أو الهرب (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الطلاق، باب الرجعة،55/5)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026