سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-295 Fatwa no: 1447-295

شوہر کی رضامندی کے بغیرعدالتی خلع کےحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں  مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جوڑے کا نکاح  کامرہ  کینٹ میں  منعقد ہوا۔شوہر سعودی عرب میں ہے،اورلڑکی باپ کے گھر  میں ہے،بیس(20) فروری کو لڑکی کے والد کی طرف سے خلع کا نوٹس موصول  ہوا  جو کہ کنٹومنٹ بورد کامرہ کینٹ کی عدالت سے جاری ہوا،جبکہ شوہر اور اس کے گھر والوں کو خبر ہی نہیں ۔تو شریعت کے مطابق اس خلع کا کیا حکم ہے؟نیز لڑکی کا والد اپنی بیٹی کا نکاح کسی دوسرے لڑکے سے کرنا چاہتا ہےتو کیا اس لڑکی کا نکاح دوسرے لڑکے سے درست  ہے؟شریعت کا حکم بتائیں۔شکریہ۔
تنقیح:1-ہم خلع سے دفاع کےلئے عدالت حاضر نہیں ہوئے،اس لئے کہ ہمیں عدالت کی طرف سے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔
2-بیٹے نے  مجھے باقی کیسز میں مختار بنایا تھا،لیکن یہ خلع کا کیس اس کے علم میں نہیں تھا،اور نہ ہی  اس نے مجھے اس کا مختار بنایا تھا۔

جواب :

واضح رہے :-
ا- کہ مفتی عالم الغیب نہیں ہوتا،اس کے سامنے جس طرح کا سوال بنا کر پیش کیا جاتا ہے،وہ اسی  کے  مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے،چنانچہ اگر کوئی سوال میں کمی کوتاہی کرکے اپنی مرضی کا جواب وصول کرتا ہے،تو مفتی کے فتوے سے حلال چیز حرام اورحرام چیز حلال نہیں ہوگی،اس لئے اس کی ساری ذمہ داری سوال کرنے والے ہی پرہوگی۔
2-شریعت میں خلع کے من جملہ شرائط میں سے ایک شرط  شوہر کی رضامندی بھی ہے،اس لئے شوہر کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ طور پرخلع معتبر نہیں ہوتا ،البتہ  اگر عورت   خلع لینے کےلئےدرخواست  ميں  ایسے اسباب ذکر کرے،جوشرعا فسخِ نکاح کا سبب بن سکتے ہوں،اور پھر گواہوں کے ذریعہ سے ان کو ثابت بھی کرے،لیکن اس کے باوجود  بھی شوہر نہ طلاق دینے کےلئے تیار ہو،اورنہ خلع کےلئے،تو اس صورت میں عدالتی خلع بھی فسخِ نکاح کےحکم میں ہوگا،اوراس صورت میں شوہرکی رضامندی ضروری نہیں ہوگی۔
بصورتِ مسئولہ  اگر آپ کا سوال صحیح ہے،تو مذکورہ خلع   درست نہیں ،کیونکہ نہ تو  یہ خلع کی شرائط کے مطابق ہے،اور نہ ہی  یہ فسخِ نکاح کے شرائط کے مطابق ۔خلع تو   اس لئے نہیں کہ خلع   میں شوہر کی رضامندی  ضروری ہوتی ہے،جبکہ مذکورہ صورت میں  شوہر کی رضامندی بلکہ اس کے علم میں لائے بغیر خلع کی ڈگری جاری کردی گئی ہے۔اورفسخِ نکاح پر اس لئے محمول نہیں کیا جاتا ،کہ فسخِ نکاح کےلئے جو اسباب بن سکتے ہیں ،ان میں سے کسی ایک سبب کا بھی درخواست یا خلع کی ڈگری میں ذکر نہیں ۔لہذا مذکوہ صورت میں خلع درست نہیں  ہوئی ،اس لئے  لڑکی کا دوسری جگہ نکاح کرنا شرعا درست نہیں ،لہذا اس کو چاہئے کہ  شریعت کے مطابق شوہر سے خلع لے کر عدت کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرے،بصورتِ دیگر پوری زندگی  گناہ میں گزری گی۔
في فقه البيوع:الثاني:أن الفتوى مبنية على السوال الذي قدمه السائل إلى المفتي،فيبين المفتي الحكم الشرعي على فرض أن السؤال مطابق للواقع،وليس من وظيفته أن يحقق صحته في نفس الأمر بطلب البينة وغيرها،ولذلك يقول المفتي:(الحكم في الصورة المسؤل عنها كذا) ولا يلزم منه أن تكون الصورة المسؤل عنها موافقة للواقع في نفس الأمر.(الفرق بين القضاء والإفتاء:14:ط:معارف القرآن كراتشي)
في الدر المختار وحاشية ابن عابدين:(قَوْلُهُ: وَشَرْطُهُ كَالطَّلَاقِ)... وَأَمَّا رُكْنُهُ فَهُوَ كَمَا فِي الْبَدَائِعِ: إذَا كَانَ بِعِوَضٍ الْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ لِأَنَّهُ عَقْدٌ عَلَى الطَّلَاقِ بِعِوَضٍ، فَلَا تَقَعُ الْفُرْقَةُ، وَلَا يُسْتَحَقُّ الْعِوَضُ بِدُونِ الْقَبُولِ...الخ(كتاب الطلاق ، باب الخلع ، 3/ 441 ، دار الفكر)
و في الفتاوى الهندية: الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع كذا في فتح القدير وقد يصح بلفظ البيع والشراء وقد يكون بالفارسية كذا في الظهيرية(وشرطه) شرط الطلاق(وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين(كتاب الطلاق ، الباب الثامن في الخلع ، 1/ 488 ، دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026