سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-296 Fatwa no: 1447-296

کیابہن کی خالہ اورسوتیلی ماں کی ماں محرم ہیں؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا اپنی اہلیہ کی خالہ سے پردہ ہے یانہیں ؟اس حوالے سے راہنمائی فرمائیں۔ دوسرا سوال یہ ہے،کہ میری دو بیویاں ہیں،بڑی بیوی سے بیٹے ہیں،تو کیا میرے ان بیٹوں کا میری دوسری اہلیہ کی ماں سے پردہ ہے یا نہیں ؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب :

بصورت مسئولہ بیوی کی خالہ  محارم میں سے نہیں ہے،اس لئے اس سے پردہ لازم ہے،کیونکہ اپنی بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں یا اس کی وفات کے بعد اس کی خالہ سے نکاح جائز ہے،اگرچہ بیوی کے  زندہ  ہوتے ہوئے اس کی خالہ کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں۔
اسی طرح اپنی سوتیلی ماں کی ماں بھی چونکہ محارم میں سے نہیں ،لہذا اس سے بھی پردہ لازم ہے۔
قال الله تعالى:{وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا} [النساء: 24]
في حاشية ابن عابدين :قال الخير الرملي ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأب ولا بنتها ولا أم زوجة ابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب ولا زوجة الراب(فصل في المحرمات: 3/ 31:ط:دارالفكر)
في البحر الرائق :حرم الجمع بين امرأتين إذا كانتا بحيث لو قدرت إحداهما ذكرا حرم النكاح بينهما أيتهما كانت المقدرة ذكرا كالجمع بين المرأة وعمتها والمرأة وخالتها(فصل في المحرمات: 3/ 104:دارالمعرفة)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 17 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب