نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ بیوی کی خالہ محارم میں سے نہیں ہے،اس لئے اس سے پردہ لازم ہے،کیونکہ اپنی بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں یا اس کی وفات کے بعد اس کی خالہ سے نکاح جائز ہے،اگرچہ بیوی کے زندہ ہوتے ہوئے اس کی خالہ کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں۔
اسی طرح اپنی سوتیلی ماں کی ماں بھی چونکہ محارم میں سے نہیں ،لہذا اس سے بھی پردہ لازم ہے۔
قال الله تعالى:{وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا} [النساء: 24]
في حاشية ابن عابدين :قال الخير الرملي ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأب ولا بنتها ولا أم زوجة ابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب ولا زوجة الراب(فصل في المحرمات: 3/ 31:ط:دارالفكر)
في البحر الرائق :حرم الجمع بين امرأتين إذا كانتا بحيث لو قدرت إحداهما ذكرا حرم النكاح بينهما أيتهما كانت المقدرة ذكرا كالجمع بين المرأة وعمتها والمرأة وخالتها(فصل في المحرمات: 3/ 104:دارالمعرفة)
Mufti
تاریخ جواب: 16 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 17 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔