سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-297 Fatwa no: 1447-297

میاں بیوی کا طلاق میں اختلاف واقع ہونے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

فریق اول:
زید  کا دعوی ہے،کہ  میری بیٹی"رحمہ" نے  مجھے  بتایا کہ اس کے شوہر "بکر"نے لڑائی کے دوران مجھے تین مرتبہ"تہ پہ مہ  طلاقہ ئے،تہ پہ طلاقہ ئے،تہ پہ مہ طلاقہ ئے"(تو مجھ پر طلاق ہے،تو مجھ پر طلاق  ہے،تو مجھ پر طلاق ہے)کےالفاظ کہے ہیں،اس وقت میرے سسر،میری دو ساس موقع پر موجود تھے۔
میں (زید) نے اپنی بیٹی کے سسر "عمر"کو بیٹھاکر بات واضح کردی،کہ آپ کے بیٹے نے میری بیٹی کو تین طلاقیں دی ہیں،اس پر انہوں  نے کہا کہ  جی ہاں! لیکن وہ غصے میں تھا،اور غصے میں طلاق واقع نہیں ہوتی،پھر چند منٹ کی گفتگو کی بعدانہوں نے یہ بھی بتایا کہ میں نے بیٹے سے کہا کہ تم  ہوش میں ہو،اس نے کہا کہ  میں ہوش میں نہیں تھا(یہ باتیں ریکارڈ شدہ ہیں)۔
اس کے علاوہ عمر کی بیٹی جو میری  بہو ہے، اس نے بھی بتایا کہ مجھے میری والدہ نے فون پر بتایا کہ بکر نے طلاق اور قسم کرکے گھر سے نکلا ہے۔(زید کی بہو ابھی اپنے موقف پر برقرار ہے،کہ  مجھے میری والدہ نے یہی بتایا ہے۔اب آپ حضرات بتائیں کہ کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوگئی ہے یانہیں ،شکریہ۔
فریق ثانی:
صبح سویرے میرے بیٹے اوربہو کے درمیان لڑائی ہورہی تھی،میں جاکر بیٹے کو مارنا شروع کیا،اس وقت میرے ساتھ  میرے دونوں بیویاں بھی تھیں،میرے بیٹے نے کہا،کہ میں گھر چھوڑکرکہی اورچلا جاؤں گا،میں نے کہا،تم کیا کہتے ہو،تم ہوش میں ہو۔
باقی  میں قسم اٹھانے کےلئے تیار ہوں،کہ میں نے اپنے بیٹے سے طلاق  کا کوئی لفظ نہیں سنا ہے،اس کے علاوہ میری بیوی بھی قسم اٹھانے کےلئے تیار ہے،کہ اس نے نہ طلاق کا لفظ سنا ہے،اورنہ ہی اس نے اپنی بیٹی کو اس کی اطلاع دی ہے،اب آپ رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟
شوہر کا بیان: نہ میں نے طلاق د ی ہے،نہ دونگا اور نہ ہی آئیندہ دینے کا ارادہ ہے۔
جرگہ کا موقف:
باقی دونوں بیانات درست ہیں،البتہ فریق ثانی کے بیان میں  یہ جملہ" میرے بیٹے نے کہا،کہ میں گھر چھوڑکرکہی اورچلا جاؤں گا،میں نے کہا،تم کیا کہتے ہو،تم ہوش میں ہو" ہمارے سامنے نہیں دہرایا تھا۔

جواب :

واضح رہے کہ مفتی عالم الغیب نہیں ہوتا،اس کے سامنے جس طرح کا سوال بنا کر پیش کیا جاتا ہے،وہ اسی  کے  مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے،چنانچہ اگر کوئی سوال میں کمی کوتاہی کرکے اپنی مرضی کا جواب وصول کرتا ہے،تو مفتی کے فتوے سے حلال چیز حرام اورحرام چیز حلال نہیں ہوگی،اس لئے اس کی ساری ذمہ داری سوال کرنے والے ہی پرہوگی۔
بصورت مسئولہ  چونکہ لڑکی  تین طلاق کادعوی کررہی ہےجبکہ اس کا شوہر انکار کررہا ہے،اس لئے لڑکی کو اپنے دعوی پر گواہ (دو مرد یا ایک مرد اوردو عورتیں)پیش کرنے ہونگے ،چونکہ مذکورہ صورت میں لڑکی  گواہ پیش کرنے سے قاصر ہے(کیونکہ اس کا سسر اور دونوں ساس گواہی دینے سےمنکر ہیں)  اس لئےقضاءتوشوہر کی بات قسم کے ساتھ متعبر ہوگی۔البتہ اگر لڑکی کو یقین ہے کہ شوہر نے اس کو تین طلاقیں دی ہیں،تو اس صورت میں  اس پر تینوں طلاق واقع ہوچکی ہیں،اوروہ شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے،لہذاوہ  شوہر کو اپنے آپ پر قدرت نہ دے ،بلکہ جس طریقہ سے بھی ممکن ہو،اس سے   جان چھڑائے ،باہمی رضامندی یاجرگہ  سے ممکن ہو تو ٹھیک۔ بصورتِ دیگر وہ  عدالت سےفسخِ نکاح یا خلع کی ڈگری لےکر جدا ہوسکتی ہے۔
في فقه البيوع:الثاني:أن الفتوى مبنية على السوال الذي قدمه السائل إلى المفتي،فيبين المفتي الحكم الشرعي على فرض أن السؤال مطابق للواقع،وليس من وظيفته أن يحقق صحته في نفس الأمر بطلب البينة وغيرها،ولذلك يقول المفتي:(الحكم في الصورة المسؤل عنها كذا) ولا يلزم منه أن تكون الصورة المسؤل عنها موافقة للواقع في نفس الأمر.(الفرق بين القضاء والإفتاء:14:ط:معارف القرآن كراتشي)

وقال الله تعالی:( الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ....الآية (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ(البقرة،229،230) 
 في الفتاوى الهندية: وكذلك إن سمعت أنه طلقها ثلاثا وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه(، كتاب الکراھیة، الباب الثاني،361/5)                                             
و فيه ايضا:وقال الأوزجندي: ترفع الأمر للقاضي، فإن حلف ولا بينة فالإثم عليه. وقال ابن عابدین: (قوله: فالإثم عليه) أي وحده، وينبغي تقييده بما إذا لم تقدر على الافتداء، أو الهرب (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الطلاق، باب الرجعة،55/5)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026