سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-298 Fatwa no: 1447-298

میاں بیوی کا وقوعِ طلاق میں اختلاف کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں  کہ میرےشوہر نے8مارچ2023ء کو مجھے لڑائی کے دوران تین دفعہ کہا کہ  "میں تجھے طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں"پھر اس کے تھوڑے دیر بعد دوبارہ چار مرتبہ یہی الفاظ دہرادئے،اور ساتھ یہ بھی کہا کہ شکر ہے اس سے جان چھوٹ گئی،اس وقت میں امید سے تھی  اورپھر جون میں میری بیٹی پیدا ہوئی ،اس  موقع پر ہم دونوں کا ایک چچا،میری ساس،اور شوہرکی بہن وغیرہ موجود تھے،لیکن اب میرا شوہر مکرگیا ہے،پہلے تو کہتے تھے کہ میں نے تین طلاق دی ہے لیکن اس سے ایک طلاق واقع  ہوتی ہے،پھر کہا کہ چونکہ بیوی امید سے تھی ،اس لئے اس حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی ،اب کہتا ہے کہ میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں نے طلاق نہیں دی ہے،شروع شروع میں ہمارے درمیان ایک جرگہ  بھی بیٹھا،جرگہ کےسامنےچچا صاحب نے بسم اللہ پڑھ کر قسم اٹھاکرکہا کہ لڑکے نے سات دفعہ طلاق دی ہے،پھر دوسرے جرگہ میں چچا نے کہا کہ  چونکہ میں کانوں سے تھوڑا معذور ہوں ،اس لئے میں نے طلاق کے الفاظ تو سن لئے ہیں،لیکن معلوم نہیں کہ کتنی طلاقیں  دی ہیں اورکن الفاظ سے دی ہے،اب لڑکا اورلڑکی کی ماں دونوں اس بات کےلئے تیار ہیں کہ ہم قرآن پر ہاتھ رکھ کرگواہی دینے کےلئے تیار ہیں کہ لڑکے نے طلاق نہیں دی ہے، اب صورت حال میں  میرے لئے کیا حکم ہے کیونکہ میں بھی حلف اٹھانےکےلئے تیار ہوں کہ   شوہر نے مجھے سات دفعہ  طلاق دی ہے،اب میرا دل مطمئن نہیں ہے کہ سات دفعہ طلاق کے بعد کس طرح اس کے ساتھ رہوں،برائے مہربانی   شرعی حل بتا کر ہمارے اس مشکل کو دور فرمائیں ۔

جواب :

بصورت مسئولہ اگر آپ کا بیان واقعتا درست ہے،اور اس میں غلط بیانی سے کام نہیں لیا گیا ہے،تو اس صورت میں  آپ پر تینوں طلاق واقع ہوچکی ہیں،اورآپ شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہیں۔
 چونکہ آپ تین طلاق کادعوی کررہی ہیں جبکہ آپ کا شوہر انکار کررہا ہے،اس لئے آپ کو اپنے دعوی پر گواہ (دو مرد یا ایک مرد اوردو عورتیں)پیش کرنے ہونگے اگر آپ کے پاس گواہ نہیں  تو پھر قضاءتوشوہر کی بات قسم کے ساتھ متعبر ہوگی۔البتہ اگر آپ کو یقین ہے کہ شوہر نے آپ کو تین طلاقیں دی ہیں،تو اس صورت میں  آپ پر تینوں طلاق واقع ہوچکی ہیں،اورآپ شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہیں،لہذاآپ شوہر کو اپنے آپ پر قدرت نہ دیں ،بلکہ جس طریقہ سے بھی ممکن ہو،آپ اپنے آپ کو اس سے  چھڑائیں ،باہمی رضامندی یاجرگہ  سے ممکن ہو تو ٹھیک۔ بصورتِ دیگر آپ عدالت سے خلع کی ڈگری لےکر جدا ہوسکتی ہیں۔
وقال الله تعالی:( الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ....الآية (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ(البقرة،229،230) 
 في الفتاوى الهندية: وكذلك إن سمعت أنه طلقها ثلاثا وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه(، كتاب الکراھیة، الباب الثاني،361/5)                                             
و فيه ايضا:وقال الأوزجندي: ترفع الأمر للقاضي، فإن حلف ولا بينة فالإثم عليه. وقال ابن عابدین: (قوله: فالإثم عليه) أي وحده، وينبغي تقييده بما إذا لم تقدر على الافتداء، أو الهرب (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الطلاق، باب الرجعة،55/5)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026