سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-299 Fatwa no: 1447-299

آٹھ دن بعد دوبارہ ماہواری آنے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت کی ماہواری بند ہوئی تھی،علاج کرواکر دو مہینے بعد ماہواری شروع ہوئی،ماہواری کی عادت چونکہ سات دن تھی،اس لئے سات دن تک بیماری جاری رہی،اس کے بعد آٹھ دن تک وہ پاک رہی،لیکن یکم رمضان کو دوبارہ خون شروع ہوا،اور اب تک جاری ہے،عورت کہتی ہےکہ اس بیماری کی علامات وہی ہیں جوحیض کی ہوتی ہیں مثلاً:کمزوی،جسم میں درد اورمثانے میں درد وغیرہ ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ خون حیض کا ہوگا یا استحاضے کا ۔راہنمائی فرمائیں۔
جواب :

بصورت مسئولہ جو خون دو مہینے بعد آیا اورعورت کی عادت کے مطابق سات دن تک جاری  رہا ،یہی حیض کا خون تھا،اس کے آٹھ دن بعد آنے والا خون استحاضہ کا خون ہے،اگرچہ اس میں حیض کی علامات کیوں نہ پائی جاتی  ہوں،کیونکہ حیض کے خون کے بعد پندرہ دن سے پہلے آنے والا خون حیض کا  نہیں ہوسکتا ،اس لئے کہ طہر کی کم سے  کم مدت پندرہ  دن ہے،لہذا ان دونوں میں عورت  روزہ بھی رکھے،اور نمازیں بھی پڑھنا شروع کرے،اور اگرلا علمی میں روزہ یا نماز قضاء کی ہے تو اس کا اعادہ لازم ہے۔
الفتاوى الهندية:رَوَى أبو يُوسُفَ عن أبي حَنِيفَةَ أَنَّ الطُّهْرَ الْمُتَخَلِّلَ بين الدَّمَيْنِ إذَا كان أَقَلَّ من خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا لم يُفْصَلْ وَكَثِيرٌ من الْمُتَأَخِّرِينَ أَفْتَوْا بِهَذِهِ الرِّوَايَةِ لِأَنَّهَا أَسْهَلُ على الْمُفْتِي وَالْمُسْتَفْتِي كَذَا في التَّبْيِينِ وَهَكَذَا في الزَّاهِدِيِّ وَالْأَخْذُ بهذا أَيْسَرُ كَذَا في الْهِدَايَةِ وَعَلَيْهِ اسْتَقَرَّ رَأْيُ الصَّدْرِ الشَّهِيدِ حُسَامِ الدِّينِ وَبِهِ يُفْتَى.)الفصل في الاستحاضة:ص: 1/ 37:ط:دارالفكر)
في الدر المختار: ( ويحل وطؤها إذا انقطع حيضها لأكثره ) بلا غسل وجوبا بل ندبا  ( وإن ) انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت وإن ( لأقله ) فإن لدون عادتها لم يحل وتغتسل وتصلي وتصوم احتياطا وإن لعادتها فإن كتابية حل في الحال وإلا ( لا ) يحل ( حتى تغتسل ) أو تتيمم بشرطه. ( أو يمضي عليها زمن يسع الغسل ) ولبس الثياب ( والتحريمة ) يعني من آخر وقت الصلاة لتعليلهم بوجوبها في ذمته(باب الحيض: 1/ 294:ط:دارالفكر)
في الفتاوى الهندية:الطهر المتخلل بين الدمين والدماء في مدة الحيض يكون حيضا ولو خرج أحد الدمين عن مدة الحيض بأن رأت يوما دما وتسعة طهرا ويوما دما مثلا لا يكون حيضا لأن الدم الأخير لم يوجد في مدة الحيض(الفصل الأول في الحيض: 1/ 36:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 17 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب