سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-300 Fatwa no: 1447-300

استاذ کی کئی ماہ کی تنخواہ مدرسہ کے ذمہ واجب ہو،تو اس کی زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
اساتذہ کی کئی ماہ کی تنخواہیں ادارہ کی ذمہ باقی ہوں۔۔۔ اس کا حساب کیا جائے تو بعض اساتذہ پر زکوۃ بھی واجب ہوتی ہے۔۔۔ لیکن ویسے ان اساتذہ کی مالی حیثیت زکوۃ ادا کرنے کی نہیں ہے۔۔!! تو کیا ان اساتذہ پر ادارہ کے ذمہ نصاب کے بقدر تنخواہ باقی ہونے پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں ؟وضاحت فرمائیں۔
جواب :

بصورت مسئولہ تنخواہ جب تک وصول نہ کی جائے تب تک اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی،پھر زکوٰۃ واجب ہونے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر شخص مذکور پہلے سے صاحب نصاب نہ ہو بلکہ تنخواہیں وصول کرنے کے بعد صاحب نصاب بنا،تو اس صورت میں پورا سال گزر جانے کے بعد زکوٰۃ واجب ہوگی بشرطیکہ سال کے آخر میں وہ صاحب نصاب ہو۔
اور اگر شخص مذکور پہلے سے صاحب نصاب ہو، تو اگر اپنے پاس موجودہ مالیت کی زکوٰۃ ادا کرچکا ہےاور اس کے بعد تنخواہیں ملتی ہیں،تو پھر تنخواہوں کی رقم پر اس سال زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔
 اور اگر اپنے پاس پہلے سے موجودہ مالیت کی زکوٰۃ اب تک  ادا نہیں کی ہےتو پھر تنخواہوں کی رقم بھی اس میں جمع کرکے مجموعہ پر زکوٰۃ ادا کی جائیگی۔
في البحر الرائق:فنقول قسم أبو حنيفة الدين على ثلاثة أقسام قوي وهو بدل القرض ومال التجارة ومتوسط وهو بدل ما ليس للتجارة كثمن ثياب البذلة وعبد الخدمة ودار السكني وضعيف وهو بدل ما ليس بمال كالمهر والوصية وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية وبدل الكتابة والسعاية  ففي القوي تجب الزكاة إذا حال الحول ويتراخى القضاء إلى أن يقبض أربعين درهما ففيها درهم وكذا فيما زاد بحسابه  وفي المتوسط لا تجب ما لم يقبض نصابا ويعتبر لما مضى من الحول في صحيح الرواية  وفي الضعيف لا تجب ما لم يقبض نصابا ويحول الحول بعد القبض عليه وثمن السائمة كثمن عبد الخدمة(كتاب الزكاة: 2/ 223:دارالمعرفة)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 17 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب