سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-301 Fatwa no: 1447-301

استصناع کی صورت میں زکوۃ کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک آدمی نے ایک زیرتعمیرپلازےمیں دکان کی بکنگ کی ہے،کل قیمت 20 لاکھ روپے ہیں،جبکہ ڈان پیمنٹ 4لاکھ ہیں،شخص مذکور نے 4لاکھ دے دئے ہیں، جبکہ 16 لاکھ قسطوار ادا کرنے ہیں،اب پوچھنایہ ہے،کہ چونکہ طےشدہ شرائط کے مطابق 16 لاکھ روپے شخص مذکورنے ادا کرنے ہیں،کیا اس کی زکوۃ اس کے ذمہ لازم ہے،یا مالک ِ دکان(صانع) کے ذمہ ،راہنمائی فرمائیں۔
جواب :

عقدِ استصناع میں جب تک مستصنع(بنانےکےآڈر دینےوالا)اس بنائےہوئی چیز پر قبضہ نہ کرے،اس وقت  وہ چیز صانع(بنانے والے) کی ملکیت شمار ہوتی ہے،یہی وجہ ہے کہ بنانے کے بعد صانع اس کو کسی اور کو بھی فروخت کرسکتاہے۔
 بصورتِ  4لاکھ  کی رقم  چونکہ مستصنع کی ملکیت سے نکل چکی ہے،اور صانع کی ملکیت میں داخل ہوچکی ہے،اس لیے اس کی زکوۃ تو صانع پرلازم آئی گی،جبکہ باقی رقم اب تک اس کی ملکیت میں داخل نہیں ہوئی (اس لئے قبضہ دینے سے پہلے شئی مصنوع بھی اس کی ملکیت میں ہے) اس لئے اس کی زکوۃ بھی اس کے ذمہ لازم نہیں،لہذا 16 لاکھ کی زکوۃ مستصنع(آڈرنے دینے والے)کے ذمہ لازم ہے۔
 في فقه البيوع:و المصنوع قبل التسلیم ملك للصانع، و لهذا ذکر الفقهاء رحمهم الله تعالیٰ أنه یجوز له أنیبیعه من غیره………… الخ
إن المصنوع قبل التسلیم مضمون علیه، فیتحمل الصانع جمیع تبعات الملك من صیانته و حفظه، فإن هلك قبل التسلیم هلك من مال الصانع.
في الفقه الاسلامي وادلته:زكاة الثمن في السَّلَم على البائع (المسلم إليه) ويعتبر الحول من تاريخ قبضه الثمن، وأما المبيع (المسلم فيه) فزكاته قبل قبضه زكاة الديون، وبعد القبض يزكى زكاة عروض تجارة إذا كان للتجارة.ثامناً: زكاة الاستصناع:يجري في زكاة الاستصناع ما يجري في زكاة السلم.

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 17 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب