نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںعقدِ استصناع میں جب تک مستصنع(بنانےکےآڈر دینےوالا)اس بنائےہوئی چیز پر قبضہ نہ کرے،اس وقت وہ چیز صانع(بنانے والے) کی ملکیت شمار ہوتی ہے،یہی وجہ ہے کہ بنانے کے بعد صانع اس کو کسی اور کو بھی فروخت کرسکتاہے۔
بصورتِ 4لاکھ کی رقم چونکہ مستصنع کی ملکیت سے نکل چکی ہے،اور صانع کی ملکیت میں داخل ہوچکی ہے،اس لیے اس کی زکوۃ تو صانع پرلازم آئی گی،جبکہ باقی رقم اب تک اس کی ملکیت میں داخل نہیں ہوئی (اس لئے قبضہ دینے سے پہلے شئی مصنوع بھی اس کی ملکیت میں ہے) اس لئے اس کی زکوۃ بھی اس کے ذمہ لازم نہیں،لہذا 16 لاکھ کی زکوۃ مستصنع(آڈرنے دینے والے)کے ذمہ لازم ہے۔
في فقه البيوع:و المصنوع قبل التسلیم ملك للصانع، و لهذا ذکر الفقهاء رحمهم الله تعالیٰ أنه یجوز له أنیبیعه من غیره………… الخ
إن المصنوع قبل التسلیم مضمون علیه، فیتحمل الصانع جمیع تبعات الملك من صیانته و حفظه، فإن هلك قبل التسلیم هلك من مال الصانع.
في الفقه الاسلامي وادلته:زكاة الثمن في السَّلَم على البائع (المسلم إليه) ويعتبر الحول من تاريخ قبضه الثمن، وأما المبيع (المسلم فيه) فزكاته قبل قبضه زكاة الديون، وبعد القبض يزكى زكاة عروض تجارة إذا كان للتجارة.ثامناً: زكاة الاستصناع:يجري في زكاة الاستصناع ما يجري في زكاة السلم.
Mufti
تاریخ جواب: 16 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 17 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔