سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-302 Fatwa no: 1447-302

ایک مہینے کے روزوں اور نمازوں کا فدیہ کتنا بنتا ہے؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک آدمی مرگیا،اس کے ایک مہینے کے روزے اور نمازیں فوت ہوگئیں،اس نے کوئی وصیت نہیں کی لیکن ورثاء اپنی طرف سے فدیہ دیناچاہتے ہیں،اب پوچھنا یہ ہے کہ ایک مہینہ روزوں اورنمازوں کا کتنافدیہ بنےگا،رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

بصورتِ مسئولہ ایک روزے یا ایک نماز کا فدیہ پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت  ہے،پھرچونکہ ایک دن میں پانچ فرض  اورایک وتر  کی نماز ہوتی ہیں،اس لئے ایک دن کی  نمازوں کے چھ فدئے بن جائیں گے،پھر تیس دنوں کے اعتبار سے180 فدئے  نمازوں کے،جبکہ 30فدئے روزوں کے ،اور کل مجموعہ 210 فدئے ہوجائیں گے،بازار سے پونے دو کلوگندم کا ریٹ معلوم کرکے210 میں ضرب دیں،جو حساب  حاصل ہو،وہ فقراء اورمستحقین پر خرچ کردے۔
في الدر المختار وحاشية ابن عابدين :قلت: ثبوت الفدية في الصوم يحتمل أن يكون معللا بالعجز وأن لا يكون، فباعتبار تعليله به يصح قياس الصلاة عليه لوجود العلة فيهما، وباعتبار عدمه لا يصح، فلما حصل الشك في العلة قلنا بوجوب الفدية في الصلاة احتياطا؛ لأنها إن لم تجزه تكون حسنة ماحية لسيئة، فالقول بالوجوب أحوط؛ ولذا قال محمد تجزئه إن شاء الله تعالى، ولو كان بطريق القياس لما علقه بالمشيئة كما في سائر الأحكام الثابتة بالقياس، هذا خلاصة ما أوضحناه في حواشينا على شرح المنار للشارح.(كتاب الصلوة: 1/ 356:دارلفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 17 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب