نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: زید نے اپنی چچی کا دودھ پیا ہے،اور زید کی ایک بھانجی (زینب) ہے جس نے زید کی ماں کا دودھ پیا ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ صورت مذکورہ میں زینب کا نکاح زید کے رضاعی بھائی یعنی زید کی چچی کے بیٹے سے جائز ہے یا نہیں ؟
بصورت مسئولہ زید کی بھانجی (زینب) کا نکاح اس کے رضاعی بھائی یعنی زیدکی چچی کے بیٹے کے ساتھ جائز ہے ،بشرطیکہ کوئی اور وجہ حرمت کی نہ ہو ۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
(وَتَحِلُّ أُخْتُ أَخِيهِ رَضَاعًا) يَصِحُّ اتِّصَالُهُ بِالْمُضَافِ كَأَنْ يَكُونَ لَهُ أَخٌ نَسَبِيٌّ لَهُ أُخْتٌ رَضَاعِيَّةٌ، وَبِالْمُضَافِ إلَيْهِ كَأَنْ يَكُونَ لِأَخِيهِ رَضَاعًا أُخْتٌ نَسَبًا وَبِهِمَا وَهُوَ ظَاهِرٌ.
(باب الرضاع،ج3،ص217،ط:دارالفكر)
وفى الهندية:
وتحل أخت أخيه رضاعا كما تحل نسبا مثل الأخ لأب إذا كانت له أخت من أمه يحل
لأخيه من أبيه أن يتزوجها كذا في الكافي .
(كتاب الرضاع،ج1،ص343،ط:دارالفكر)
وفى النهر الفائق:
قوله: (وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بكل من المضاف والمضاف إليه وبهما كما قدمناه في نظائره، فالاول أن يكون له أخ من النسب ولهذا الاخ أخت رضاعية، والثاني أن يكون له أخ من الرضاع له أخت نسبية، والثالث ظاهر .
(كتاب الرضاع،ج3،ص396،ط: دار الكتب العلمية بيروت)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔