نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بڑی بیٹی کا شوہراپنی بیوی کواپنی چھوٹی بہن کے گھر جانے کی اجازت نہیں دیتا،حالانکہ ہماری ہمیشہ ان کو عزت دینے کی کوشش رہی،چھوٹی بیٹی ،ان کا شوہر تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں،لیکن بڑے داماد کا رویہ کچھ اچھا نہیں،اس کاایک چھوٹا بیٹا ہے،اور ایک چھوٹی بیٹی ،جو اکثر اپنی خالہ کو یاد کرتے ہیں،لیکن موصوف اس پر بھی غصہ ہوجاتے ہیں،اب تک تو ہماری کوشش یہ ہے،کہ جب بڑی بیٹی گھر آجاتی ہے،تو چھوٹی بیٹی کو بلاکر ان کی ملاقات ہوجاتی ہیں۔پتا نہیں بڑے داماد کا رویہ کوئی اتنا سخت ہے،حالانکہ مذکورہ رشتہ طے کرتے وقت بھی ہم نےاس کو بلایا تھا،لیکن اس نے کچھ کہا نہیں ،البتہ اس کے چہرے سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ اس رشتے سے خوش نہیں ۔اب آپ ہماری راہنمائی فرمائیں کہ ہم کیا کریں،اس صورت حال میں ۔بہت شکریہ۔
مذکورہ مسئلہ کی تمام جہات اورپہلو ں کا تو ہمیں اندازہ نہیں کہ موصوف کیوں اپنی اہلیہ کواس کی بہن کے گھر جانے کی اجازت نہیں دیتا،اورجب تک یہ صحیح صورتِ حال واضح نہ ہو،اس وقت تک ٹھوس جواب دینا تومشکل ہے،تاہم اس مسئلہ کی دونوں جہتوں کو سامنے رکھ کربات کرتے ہیں:۔
1۔بہن بھائیوں کا ،یا بہنوں کا آپس میں رشتہ بہت قوی ہوتا ہے،اور شریعت میں رشتوں کو جوڑنے پر اجر کا وعدہ ہے،اورتوڑنے پر سخت وعیدیں آئی ہیں،چنانچہ آپﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ رشتہ داری عرش سے لٹکی ہوتی ہے،اور کہتی ہے کہ جس نے مجھے جوڑا،اللہ تعالی اس کو(اپنی رحمت سے) جوڑے،اورجس نے مجھے توڑا اللہ تعالی اس کو(اپنی رحمت سے )توڑے،ایک اور روایت میں ہے،کہ رشتہ داری کو توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
ان احادیث کو اور ان جیسی اور احادیث کو سامنے رکھ کر شوہر کا اپنی اہلیہ کوبہن کی ملاقات سے منع کرنا مناسب نہیں ،اس میں نہ صرف یہ کہ قطع رحمی کاگناہ ملے گا،بلکہ اس میں بیوی کی دل شکنی بھی ہوگی ،جو میاں بیوی کی کامیاب زندگی کا ضامن ہے،البتہ صلح رحمی میں نہ صرف یہ کہ صلح رحمی کا ثواب ملےگا بلکہ اس میں بیوی کی دلجوئی بھی ہوگی جوکہ میاں بیوی کی کامیاب زندگی کا ضامن ہے ۔
2-اس مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے،کہ عورت کےلئے اجنبی مرد کی طرح اپنے بہنوئی سے بھی پردہ کرنا لازم ہے،اس میں بعض دفعہ سخت کوتاہی سے کام لیا جاتاہے،بلکہ بعض دفعہ بہنوئی کے ساتھ بے تکلفی تک ہوجاتی ہے،اور اس کے بھیانک نتائج سامنے آبھی رہے ہیں،اس لئے اگر یہ چیزیں پیشِ نظر ہوں،تو شوہر اگرچہ پھر بھی بیوی کو بہن کی ملاقات سے منع تو نہیں کرسکتا لیکن بیوی کو ان کی بہن کے گھر لے جانا اس پر لازم بھی نہیں ۔
نوٹ:۔اس سلسلے میں ہمارا مشورہ یہ ہے کہ اگر بڑی بیٹی کا شوہر اپنی بیوی کو ان کے بہن کے گھر لے جانے یا وہاں جانے کی اجازت پر تیار نہیں ہوتا،تو اس کو اتنا بڑا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے ،جس کی وجہ سے میاں بیوی میں تعلقات خراب ہوں،اور اس سے ان کی آپس میں نجی زندگی متاثر ہو،بلکہ خاتون کے ماں باپ کو تو اس سلسلے میں بالکل مداخلت نہیں کرنا چاہئے،اگر داماد پیار ومحبت سے تیار ہوجاتا ہے،تو ٹھیک ،بصورت دیگر اس معاملہ میں اس کو زیادہ نہیں چھیڑنا چاہئے،کیونکہ مقصود تو بہنوں کی آپس میں ملاقات ہے،اوروہ ماں باپ کے گھر میں بھی ہوجاتی ہے،تو پھر معمولی سی بات کی وجہ سے دائمی رشتے کو متاثر اور برباد کرنا کوئی عقلمندی نہیں۔
في صحيح مسلم :عن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الرحم معلقة بالعرش تقول من وصلني وصله الله ومن قطعني قطعه الله... عن محمد بن جبير بن مطعم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لا يدخل الجنة قاطع قال بن أبي عمر قال سفيان يعني قاطع رحم (باب صلة الرحم: (4/ 1981)
في سنن الترمذي:عن عقبة بن عامر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إياكم والدخول على النساء فقال رجل من الأنصار يا رسول الله ! أفرأيت الحمو ؟ قال الحمو الموت(كراهية الدخول على المغيبات: 3/ 474:داراحياء التراث العربي)
في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح :قال النووي رحمه الله والمراد بالحمو هنا أقارب الزوج غير آبائه لأن الخوف من الأقارب أكثر والفتنة منهم أوقع لتمكنهم من الوصول إليها والخلوة بها من غير نكير عليهم بخلاف غيرهم وعادة الناس المساهلة(باب النظر إلى المخطوبة: 10/ 53)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔