سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-304 Fatwa no: 1447-304

بیوی کو"میں نے تجھے چھوڑ دیا ہے"کہنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں  مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  میری بیٹی  مسماۃ حمیرا علی کی شادی  محمد عدنان ناصر ولد جمال عبدالناصر سے تقریبا ڈھائی سال پہلے ہوئی تھی،اس کے بعد ان کی آپس میں نہیں بن  سکی،اب میری بیٹی یہ کہتی ہے کہ ہماری طلاق ہوگئی ہے جو کہ درج ذیل باتیں بتاتی ہے جو میں نے درج کی ہیں،اورزبانی بھی وہ کئی دفعہ بول چکا ہے کہ میرے گھر سے  نکل جاؤ ،مجھے تمہاری ضرورت نہیں ہے،لہذا مہربانی فرماکر میری راہنمائی فرمائیں کہ  ان کی طلاق واقع ہوئی ہے کہ نہیں۔ذوالفقارعلی خان۔
وہ باتیں درج ذیل ہیں:۔
1-میری زندگی میں  جو مرضی  کروں تجھے زیادہ تکلیف ہے نہ دفع ہوجا،مجھے کوئی ضرورت نہیں تیری۔
2-بس تو میں نے تو کچھ نہیں بولنا ٹھیک ہے،میں نے تمہیں سیریسلی طلاق دینی ہے سیدھی جو بات ہے۔
3-یارا بات سن ،تجھے چھوڑ دیاہے،تو کیا چاہتی ہے طلاق چاہئے تو لے لو،تجھے زیادہ شوق ہے سمجھ آئی ہے
4-اپنے ابے کو کال کرکے بلا تجھے لے جا ئے،مجھے تیری کوئی ہی ضرورت نہیں۔
5-تو چاہتی کیا ہے اب کیوں  میسج  کررہی ہے،ختم ہوگیا سارا کچھ تو ختم ہے،تو پھر کیوں میسج  کررہی ہے۔
6-ایک اور میسج کیا تھا ون ٹائپ میں ،میں نے سنا تھا،اس نے بولا تھا، میری زندگی میں جو مرضی کروں تو ہوتی کون ہے میری زندگی میں دخل  دینے والی میں جو مرضی کروں میری زندگی میں عمل دخل نہیں کرو،میں نے تمہیں چھوڑدیاہے،تم اپنی زندگی میں جو مرضی کرو،میں اپنی زندگی میں جو  مرضی  کروں،میری زندگی میں عمل دخل نہ دے،اورآج کے بعد مجھے میسج، کال  مت کرنا۔
7-اور اس کے بعد میں نے میسج کیا تھا،جس پر اس نے کہا  تھا،میری زندگی میں عمل دخل والی کون ہو تم،میں جو مرضی کروں،لڑکیوں کے ساتھ گھوموں یا جو بھی کروں
8-جب میں تجھے چھوڑ چکا ہوں تو تو مجھے میسج ،کال کیوں کررہی ہو۔
تنقیح:-
1-یہ پوری بحث جولائی میں ایک وقت میں ہوئی تھی،اوراس کے بعد پھر شوہرنے کوئی رابطہ نہیں کیاہے۔
2-اس بحث کے بعد تین ماہواریاں گزرگئی ہیں۔

جواب :

واضح رہے کہ مفتی عالم الغیب نہیں ہوتا،اس کے سامنے جس طرح کا سوال بنا کر پیش کیا جاتا ہے،وہ اسی  کے  مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے،چنانچہ اگر کوئی سوال میں کمی کوتاہی کرکے اپنی مرضی کا جواب وصول کرتا ہے،تو مفتی کے فتوے سے حلال چیز حرام اورحرام چیز حلال نہیں ہوگی،اس لئے اس کی ساری ذمہ داری سوال کرنے والے ہی پرہوگی۔
بصورتِ مسئولہ  اگر خاتون کا بیان درست ہے،تو شخصِ مذکور نے چند جملے ایسے بولے ہیں،جن سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
مثلا دفع ہوجا،میں  نے تجھے چھوڑدیا ہے،سن تجھے چھوڑ دیا ہے۔ان میں  سے پہلا جملہ"دفع ہوجا" شوہر کی نیت پرموقوف ہے  اگر اس کی نیت طلاق کی ہو،تو طلاق واقع ہوگی اوراگر طلاق کی نیت نہ ہو،تو اس سے طلاق واقع نہ ہوگی۔جبکہ "چھوڑدیا" اگرچے کنائی الفاظ میں سے ہیں،لیکن عرف میں اس کا استعمال چونکہ  صریح کے طور پر ہوا ہے،اس لئے اس سے طلاق رجعی  واقع ہوگی ،چونکہ شوہرنے دو دفعہ یہ جملہ بولا ہے،اس لئے  اس سے بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوگئیں ہیں،اور بیوی کے بقول چونکہ  اس کے بعد شوہر نے کوئی رابطہ بھی نہیں کیا ہے،اس لئے تین ماہواریاں گزرنے کے بعد اب وہ بائنہ ہوگئی ہے،لہذا شوہرکو رجوع کا حق  حاصل نہیں ہوگا۔
في فقه البيوع:الثاني:أن الفتوى مبنية على السوال الذي قدمه السائل إلى المفتي،فيبين المفتي الحكم الشرعي على فرض أن السؤال مطابق للواقع،وليس من وظيفته أن يحقق صحته في نفس الأمر بطلب البينة وغيرها،ولذلك يقول المفتي:(الحكم في الصورة المسؤل عنها كذا) ولا يلزم منه أن تكون الصورة المسؤل عنها موافقة للواقع في نفس الأمر.(الفرق بين القضاء والإفتاء:14:ط:معارف القرآن كراتشي)
في حاشية ابن عابدين:ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال رها كردم أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الناس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن لولا ذلك لوقع به الرجعي(كتاب الكنايات: 3/ 299:دارالفكر)
في الدر المختار وحاشية ابن عابدين:والكنايات ثلاث: ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل رداً، ۔ ۔ ۔، (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا، (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط)۔(قوله: يتوقف الأول فقط) أي ما يصلح للرد والجواب ؛ لأن حالة المذاكرة تصلح للرد والتبعيد كما تصلح للطلاق دون الشتم، وألفاظ الأول كذلك، فإذا نوى بها الرد لا الطلاق فقد نوى محتمل كلامه بلا مخالفة للظاهر، فتوقف الوقوع على النية.(3/298:دارالفكر) 

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026