سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-305 Fatwa no: 1447-305

طلاق کے صریح الفاظ بولنے کے بعد اس میں تقیید اورتخصیص کا اعتبار نہیں

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیوی کو کہاں کہ اگر تم نے میرے بچوں کو پیسے دیے تو تم مجھ پر طلاق ہو یہ الفاظ میں نے تین مرتبہ دہرائیں۔
1- کیا طلاق ہوگئی ہے یا نہیں۔ ابھی تک پیسے دیے نہیں ہے
2- کیا اب میری بیوی بچوں کا سکول فیس ادا کر سکتی ہے یا کپڑے یا کوئی اور ضرورت کی چیز خرید سکتی ہے کیونکہ میں نے صرف نقد پیسوں کا ذکر کیا تھا۔
3- اگر میں اپنے بچوں کو پیسے دوں اور وہ اپنی ماں کے ساتھ امانت کے طور پر رکھے اور ضرورت پڑھنے پر دوبارہ ماں سے وہ پیسے مانگےکیا اس کی ماں انکو یہ پیسے دے سکتی ہے۔
4- بچوں کی ماں کسی دوسرے فرد کے ہاتھوں یعنی اس کی دادی یا دادا چچا چچی کے ہاتھوں  پیسے دے سکتی   ہے(پیسہ دینے سے  مراد کبھی بھی یعنی زندگی بھر )

جواب :

جب کوئی آدمی  اپنی بیوی کی طلاق کو صریح الفاظ میں  کسی کام کرنے یا نہ کرنے پر معلق کرے،تو  اس کے خلاف کرنے  پر بغیر نیت کے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔پھر اگر ایک طلاق معلق کی ہے  تو ایک طلاق واقع ہوجاتی ہے اور اگر تین طلاقیں  معلق کی ہیں تو تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔
بصورتِ مسئولہ:
1-جب آپ کی بیوی  نےاب تک  بچوں کو پیسے دئے نہیں ،تو اس پرکوئی طلاق بھی واقع نہیں ہوئی ہے۔
2-چونکہ آپ نے طلاق کو "پیسے دینے پر" معلق کیا ہے،اس لئے  اگرآپ کی بیوی بچوں کی سکول کی فیس  بچوں کو پیسے دئے بغیرخود ادا کرےگی،یا ان کےلئے ضرورت کی کوئی چیز خود خرید کرد یگی   تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
3-اس صورت میں بھی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
4-اس سےبھی  بیوی پر طلاق واقع ہوجائےگی،کیونکہ  اس صورت میں درحقیقت والدہ ہی پیسے  دے رہی ہے۔
ہمارا مشورہ: مذکورہ صورت میں ہمارا مشورہ یہ ہے کہ چونکہ  اس تعلیق  کے ساتھ   پوری زندگی  گزارنا یا تو ناممکن ہے یا حد درجہ کی مشکل ،اس لئے شخص مذکوراپنی بیوی کو ایک طلاق بائن دیدے،اور پھرعدت کے اندر پیسے نہ دے عدت گزر جانے کے بعد وہ اپنے بچوں کو پیسے دیدے،جس سے شرط پائےجائی  گی،لیکن محل نہ ہونے کی وجہ سے بیوی پر مزید کوئی طلا ق واقع نہ ہوگی،اور پھر عدت(تین ماہواری)گزرنے کے بعدمیاں بیوی   نئے مہر کے ساتھ تجدید نکاح کریں،اس صورت میں آئیندہ کےلئے شوہر صرف دو طلاقوں کا مالک ہوگا۔
في الجوهرة النيرة( وإذا أضاف الطلاق إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق ) هذا بالاتفاق ؛ لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت الشرط ولأنه إذا علقه بالشرط صار عند وجود الشرط كالمتكلم بالطلاق في ذلك الوقت فإذا وجد الشرط والمرأة في ملكه وقع الطلاق كأنه قال لها في ذلك الوقت أنت طالق (كتاب الطلاق:4/ 134)
في الفتاوى الهندية:ألفاظ الشرط إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت (الفصل الأول في ألفاظ الشرط  :1/ 415:دارالفكر)
فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين:فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها (3/ 355)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026