نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںہم تین ساتھیوں نے کالام میں ایک پراجکٹ کے لیے زمین خریدی ، زمین خریدنے کےبعد وہ دو ساتھی مجھ سےچلے گئے اور سارا بوجھ میرے اوپر آگیا، میرے پاس جو رقم تھی وہ اس کے لیے کافی نہیں تھی، اس لیے میں نے ایک رشتہ دار سے رقم مانگی، اس نے کہا میری فلاں جگہ زمین ہے وہ بیچو جس کی قیمت تقریبا چار (4) کر وڑتھی، میں نے ان سے کہا کہ میرا پراجکٹ ہے جب نفع آئے گا، تو آپ کو بھی نفع میں سے دوں گا، لیکن نفع فیصدی اعتبار سے مقرر نہیں ہوا، اور کام بھی صرف میں کرتا ہوں وہ نہیں کرتا، یعنی پوری ذمہ داری میرے اوپر ہے، کام کے لیے سب ضروریات مہیا کرنا میرے ذمہ ہے۔
(پراجکٹ کی تفصیل یہ ہے کہ جو جگہ ہم نے خریدی ہے وہ پہاڑ ہے ، سب سے پہلے وہ ہموار کرنا ہے پھر حکومت سے منظور کرانا ہے، پھر اس پر فلیٹس بنانے ہیں، اور اس کے بعد اس کو فروخت کرنا ہے، تو منافع بھی اسی وقت معلوم ہوں گے، جس پر چند سال لگیں گے)
اب سوال یہ ہے کہ میں نے جو رشتہ دار کے تقریبا چارکروڑ روپے کاروبار میں لگایا ہے، تو اس کی زکوۃ کی کیا صورت ہوگی؟ کیونکہ دو سال ہوگئے ہیں اور مزید بھی دو تین سال لگیں گے،تو اس رقم کی زکوۃ اس کے ذمہ ہے یا میرے ذمہ ہے؟ اور اس کے پاس اب اتنے پیسے ہے نہیں کہ زکوۃ ادا کریں کیونکہ اس کی زکوۃ بھی سالانہ تقریبا دس لاکھ روپے بنتی ہے۔
واضح رہے کہ عقدِ شرکت کےصحیح ہونے کےلئے درج ذیل شرائط کا پایا جاناضروری ہے،بصورتِ دیگر عقد درست نہ ہوگا۔
1-دو طرفہ سرمائے کا تناسب معلوم ہو۔
2-نفع فیصد کے اعتبار سے طے ہو،لگی بندھی رقم مقرر نہ ہو۔
3-نفع کا تعین حقیقی نفع کی بنیاد پر ہو،سرمائے کی بنیاد پر نہ ہو(اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نفع ہوجائے،تواس نفع میں سے سرمایہ کار اپنا فیصدی حصہ لےگا،یہ نہیں کہ میں نے اتنا سرمایہ لگایا ہے،لہذا آپ نے مجھے اتنا دینا ہے)
4-نقصان میں دونوں اپنے سرمایہ کے بقدر شریک ہونگے۔
بصورتِ مسئولہ چونکہ آپ دونوں کے درمیان نفع فیصد کے اعتبار سے متعین نہیں ،بلکہ مجہول ہے،اس لئے مذکورہ عقد شرعا فاسد ہے،اس لئے سب سے پہلے تو اس معاملہ کو مذکورہ شرائط کے مطابق درست کریں۔اس کے بعد دوسرے مسئلے کا جواب یہ کہ آپ کے رشتہ دار پر ان چار کروڑ کی زکوۃ واجب ہے،اگر ابھی اس کے پاس زکوۃ کی ادائیگی کےلئے نقد رقم نہیں ہے،لیکن آسانی سے کہیں سے قرض مل سکتا ہے،تو قرض لے کر زکوۃ ادا کریں،اوراگر قرض کا ملنا دشوار تو جب رقم وصول ہوگی ،اس کے بعد تمام گزشتہ سالوں کی زکوۃ اس کے ذمہ واجب ہوگی۔
نوٹ:ہرسال زکوۃ کی واجب شدہ رقم تحریرا لکھنا چاہئے ا ور اپنے ورثاء کے علم میں بھی لانا چاہئے تاکہ کسی ناگہانی صورت میں ذمہ پر فرض نہ رہ جائے۔
وفي بدائع الصنائع:ومنها أن يكون الربح معلوم القدر فإن كان مجهولا تفسد الشركة لأن الربح هو المعقود عليه وجهالته توجب فساد العقد كما في البيع والإجارة ومنها أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما فلا يتحقق الشركة في الربح((6/ 59)دارالكتاب العربي)
فی حاشية ابن عابدين: قوله ( وهي معجلة ) كذا عبارة الفتح أي حاجة الفقير معجلة أي حاصلة قوله ( وتمامه في الفتح ) حيث قال بعد ما مر فتكون الزكاة فريضة وفوريتها واجبة فيلزم بتأخيره من غير ضرورة الإثم كما صرح به الكرخي والحاكم الشهيد في المنتقى وهو عين ما ذكره الإمام أبو جعفر عن أبي حنيفة أنه يكره فإن كراهة التحريم هي المحمل عند إطلاق اسمها وقد ثبت عن أئمتنا الثلاثة وجوب فوريتها وما نقله ابن شجاع عنهم من أنها على التراخي فهو بالنظر إلى دليل الافتراض أي دليل الافتراض لا يوجبها وهو لا ينفي وجود دليل الإيجاب وعلى هذا قولهم إذا شك هل زكى أو لا يجب عليه أن يزكي لأن وقتها العمر كالشك حينئذ بالشك في الصلاة في الوقت اه ملخصا تتمة في الفتح أيضا إذا أخر حتى مرض يؤدي سرا من الورثة ولو لم يكن عنده مال فأراد أن يستقرض لأداء الزكاة إن كان أكبر رأيه أنه يقدر على قضائه فالأفضل الاستقراض وإلا فلا لأن خصومة صاحب الدين أشد(فرع:2/ 272:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔