نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورتِ مسئولہ اگر جماعت والوں کی پندرہ یا اس سے زیادہ دن کی تشکیل ایک شہر،یاایک قصبہ یا ایک بڑے دیہات میں ہو،تو اس صورت میں یہ مقیم ہونگے،اور پوری نماز پڑھیں گے،اس میں ہرتین دن بعد ایک محلے سے دوسرے محلے کی طرف منتقل ہونے سےان کی اقامت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور اگرتشکیل پندرہ دن سے کم ہو،یا تشکیل تو ہوپندرہ دن یا اس سے زیادہ کی،لیکن دو شہروں،دو قصبوں،یا دو دیہات میں ہو،یعنی کچھ دن ایک شہر میں مثلا، اور کچھ دن دوسرے شہر میں ،تو ان دونوں صورتوں میں وہ مسافر ہونگے اورقصرنماز پڑھیں گے۔اب باقی رہی یہ بات کہ کس طرح پتہ چلے گا،کہ یہ ایک ہی قصبہ ہے، یا دوالگ الگ،یا ایک ہی دیہات ہے یا دو الگ الگ ،تو اس میں تفصیل یہ ہے،کہ اگر دو قصبوں یادو دیہاتوں کی حدود الگ الگ ہوں،نام بھی الگ الگ ہو،اور عرف میں بھی دونوں الگ الگ سمجھے جاتے ہوں،تو اس صورت میں یہ دو قصبے،اوردودیہات شمار ہونگے،اور ان میں جماعت والے قصر نماز پڑھیں گے،اوراگر دونوں کی حدود ایک ہو،نام بھی اایک ہو اور عرف میں بھی ایک ہی جگہ سمجھی جاتی ہو،تو پھر یہ ایک ہی جگہ ہوگی،لہذا جماعت والے اس میں مقیم ہوکر پوری نماز پڑھیں گے۔
في الهداية شرح البداية :ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر وإن نوى أقل من ذلك قصر لأنه لا بد من اعتبار مدة.(فصل في قيام شهررمضان:ص: 1/ 81:ط:المكتبة الاسلامية)
في بدائع الصنائع:وَإِنْ كَانَا مِصْرَيْنِ نحو مَكَّةَ وَمِنًى أو الْكُوفَةِ وَالْحِيرَةِ أو قَرْيَتَيْنِ أو أَحَدُهُمَا مِصْرٌ وَالْآخَرُ قَرْيَةٌ لَا يَصِيرُ مُقِيمًا لِأَنَّهُمَا مَكَانَانِ مُتَبَايِنَانِ حَقِيقَةً وَحُكْمًا
أَلَا تَرَى أَنَّهُ لو خَرَجَ إلَيْهِ الْمُسَافِرُ يَقْصُرُ فلم يُوجَدْ الشَّرْطُ وهو نِيَّةُ الْإِقَامَةِ في مَوْضِعٍ وَاحِدٍ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا فَلَغَتْ نِيَّتُهُ(فصل في بيان ما يصير به المسافر مقيما: 1/ 98:ط:دارالكتاب العربي)
في تبيين الحقائق: ( لَا بِمَكَّةَ وَمِنًى ) أَيْ لَا إذَا نَوَى الْإِقَامَةَ بِمَكَّةَ وَمِنًى حَيْثُ لَا يُتِمُّ فِيهِمَا لِأَنَّ الْإِقَامَةَ لَا تَكُونُ في مَكَانَيْنِ إذْ لو جَازَتْ في مَكَانَيْنِ لَجَازَتْ في أَمَاكِنَ فَيُؤَدِّي إلَى أَنَّ السَّفَرَ لَا يَتَحَقَّقُ لِأَنَّ إقَامَةَ الْمُسَافِرِ في الْمَرَاحِلِ لو جُمِعَتْ كانت خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا وَأَكْثَرَ(باب صلوة المسافر: 1/ 212:دارالكتب العربي)
في الموسوعة الفقهية الكويتية:فَإِذَا نَوَى الْمُسَافِرُ الإِْقَامَةَ الْمُدَّةَ الْقَاطِعَةَ لِلسَّفَرِ فِي مَوْضِعَيْنِ ، فَإِنْ كَانَا مِصْرًا وَاحِدًا أَوْ قَرْيَةً وَاحِدَةً صَارَ مُقِيمًا ؛ لأَِنَّهُمَا مُتَّحِدَانِ حُكْمًا ، وَإِنْ كَانَا مِصْرَيْنِ نَحْوَ مَكَّةَ وَمِنًى ، أَوِ الْكُوفَةِ وَالْحِيرَةِ ، أَوْ إِنْ كَانَا قَرْيَتَيْنِ ، أَوْ أَحَدُهُمَا مِصْرًا وَالآْخَرُ قَرْيَةً فَلاَ يَصِيرُ مُقِيمًا ، وَلاَ تَزُول حَالَةُ السَّفَرِ ؛ لأَِنَّهُمَا مَكَانَانِ مُتَبَايِنَانِ حَقِيقَةً وَحُكْمًا(صلاحية المكان للاقامة: 27/ 285:ط:الشؤن الاسلامية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔