سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-308 Fatwa no: 1447-308

جوتوں سمیت نمازِ جنازہ پڑھنے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا جوتوں سمیت نمازِ جنازہ پڑھنا جائز ہے،یا نہیں؟ کیونکہ بعض اوقات آدمی وہ جوتیں باتھ روم بھی لے جاتا ہے،اگرچہ عادتا تو ایسا نہیں کرتا،توکیا ایسے جوتوں کے ساتھ نماز جنازہ پڑھنا درست ہے یا نہیں؟وضاحت فرمائیں۔
جواب :

صورتِ مسئولہ کی کئی صورتیں ہیں:۔
1-    جوتے پاک ہوں،لیکن نیچے زمین  نجس ہو،تو اس صورت میں جوتے نکال کراس کے اوپر کھڑا ہونے کی صورت میں نماز جنازہ درست ہوگی،بصورتِ دیگر نہیں ۔
2-    نیچے زمین بھی  پاک ہو،اورجوتے پاک ہونے کابھی  یقین ہو،یا کم ازکم ظنِ غالب ہو،تو اس صورت میں جوتوں کے ساتھ نماز جنازہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ۔
3- جوتےنجس ہونے کا یقین ہو یا  ظنِ غالب ہو،اور نجاست اوپری حصے پرلگی ہو،تواس صورت میں  جوتے اتارنا ضروری ہے۔
4- جوتےنجس ہونے کا یقین ہو،لیکن نجاست نچلے والے حصے پر لگی ہو،تو اس صورت میں  جوتے نکال کر اس کے اوپر کھڑے ہوکرنمازِ جنازہ پڑھی جاسکتی ہے۔
نوٹ:۔جو جوتے باتھ روم  کےلئے بھی استعمال کئے جاتے ہوں،اور باہر کے استعمال کےلئے بھی،اس پرلگی ہوئی نجاست اگرچے چلنے پھرنے سے زائل ہوجاتی ہے،لیکن  اس کے باوجود بہتر یہ ہے کہ آدمی  اس کے اوپر کھڑے ہوکر نماز ادا کرے،تاکہ بعد میں شک و شبہ میں نہ رہے۔
في حاشية ابن عابدين:وهذا كله إذا كان السجود أو القيام على النجاسة بلا حائل متفصل وقد علمت مما قدمناه عن الفتح عدم اعتبارهم الحائل المتصل حائلا لتبعيته للمصلي ولذا لو قام على النجاسة وهو لابس خفا لم تصح صلاته وكذلك السجود ولو اعتبر حائلا لصحت سجدته بدون إعادتها على طاهر(مطلب في اطالة الركوع: 1/ 501:دارالفكر)
وفي البحر الرائق:ولو قام على النجاسة وفي رجليه نعلان أو جوربان لم تجز صلاته لأنه قام على مكان نجس ولو افترش نعليه وقام عليهما جازت الصلاة بمنزلة ما لو بسط الثوب الطاهر على الأرض النجسة وصلى عليه جاز(كتاب شروط الصلاة: 1/ 282:دارالمعرفة)
وفيه ايضا:وقد قدمنا في باب شروط الصلاة أنه لو قام على النجاسة وفي رجليه نعلان لم يجز ولو افترش نعليه وقام عليهما جازت وبهذا يعلم ما يفعل في زماننا من القيام على النعلين في صلاة الجنازة لكن لا بد من طهارة النعلين كما لا يخفى.(فصل السلطان احق بصلاته: 2/ 193:دارالمعرفة)
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح:ولو افترش نعليه وقام عليهما جاز فلا يضر نجاسة ما تحتهما لكن لا بد من طهارة نعليه مما يلي الرجل لا مما يلي الأرض.(باب احكام الجنائز: ص: 383)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 17 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب